| شاہنواز بلو چ

وقتِ اشاعت :   June 20 – 2013

تعارف: نوابزادہ جمیل بگٹی 8 اکتوبر 1949ء میں نواب اکبرخان بگٹی کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انہوں نے کوئٹہ گرائمراسکول جبکہ گریجویشن1969ء میں پشاور سے کی۔لاہور اسٹاف کالج میں محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک کورس ہوا جس میں پانچ افراد نے حصہ لیا تو وہ اُس میں منتخب ہوئے اور1973ء میں وزارت خارجہ میں بطور تھرڈآفیسرڈپلومیٹ کے فرائض انجام دیئے ، 1985ء میں پاکستان پیٹرولیم کی جانب سے آفیسر منتخب ہوئے اور 1999ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔
آزادی: نوابزادہ جمیل بگٹی اپنی زندگی کی کچھ یادگار باتیں آپ ہمیں بتاسکتے ہیں؟
جمیل بگٹی: 1973ء میں وزارت خارجہ آفس میں بطور تھرڈ آفیسر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا تو اسی دوران ایک اسپیشل کورس محکمہ خارجہ کی جانب سے کرایا جاتا جو کوڈمسینجرہوتا ،دیگرممالک میں کوڈ کے ذریعے مسیج بھیجا جاتا تھا جس میں 120 نمائندے شامل تھے اُن میں سے 119 نمائندوں کو اِس کورس کو کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ مجھے اینٹی اسٹیٹ ایلیمنٹ قرار دیا گیا اور مجھے اس کورس سے دور رکھا گیا تو میں نے 1974ء میں محکمہ خارجہ کے ادارے سے استعفیٰ دیدیا اور دوسرے دن ہی اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے میرا استعفیٰ قبول کرلیا۔ اس کے بعد 1985ء میں مجھے پی پی ایل میں بطور آفیسر کیلئے چنا گیا اس دوران پی پی ایل میں ملازمین کی حالت انتہائی خراب تھی انہیں ڈیلی ویجز پر 18روپے دیے جاتے تھے، ایک بگٹی شخص 15سال سے پی پی ایل میں ملازمت کررہا تھا تواسے بھی ڈیلی ویجز پر رکھا گیا تھا جس کی اجرت 18روپے تھی تو مجھے اس بات کی بہت زیادہ تکلیف ہوئی کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ زیادتی ہورہی ہے تو میں نے جام کی حکومت کے دوران 100سے زائدافراد کو مستقل کیاپھر اس کے بعد ظفراللہ جمالی کی حکومت کے دوران بھی 100 سے زائد افراد کو مستقل کیا پھر میرے والدکی حکومت کے دوران بھی بہت سارے ملازمین کو مستقل کیا گیا اور انہیں سہولیات فراہم کی گئی تو اسی دوران مجھے پی پی ایل کے آفیسرکی جانب سے فون آیا کہ ہم نے آپ کو کسی اور مقصد کیلئے بلایا تھامگر آپ ہمارے مقصد کے خلاف کام کررہے ہیں کیونکہ اس وقت ملازمین پی پی ایل کی پالیسی سے سخت نالاں تھے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ سردار فیملی سے کسی کا چناؤ کیاجائے تاکہ وہ اِن پر سختی کرے مگر میں نے کوئی سختی نہیں کی بلکہ انہیں ریلیف دیاکیونکہ میں اسی قوم سے تعلق رکھتا تھا تو اُن کے ساتھ ظلم کیسے برداشت کرسکتا تو میں نے پی پی ایل کے آفیسر کو کہاکہ آپ نے غلط شخص کا چناؤ کیا ہے پھر1999ء میں ریٹائرڈ ہوگیا۔ سب سے بڑی بدبختی یہ بھی رہی ہے کہ مشرف دور میں بلوچستان کے گورنر اویس غنی پشاور کالج میں میرے کلاس فیلواور دوست تھے جس کا مجھے آج بھی افسوس ہے۔
آزادی: 2013ء کے الیکشن کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
جمیل بگٹی: دیکھئے میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے تو پاکستان میں کبھی شفاف الیکشن ہوتا ہوا نہیں دیکھا یہاں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہوتا آیا ہے، اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے لوگ آگے لاتی ہے۔میں نے الیکشن سے ڈیڑھ سال قبل ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی تھی کہ ڈیرہ بگٹی سے ایک فرد کوآگے لایاجارہا ہے پھر وہی ہوا کہ سرفراز بگٹی وہاں سے منتخب کراکے آگے لایاگیا۔
آزادی: آپ کے والد نواب اکبرخان بگٹی بھی الیکشن میں حصہ لیتے رہے اور انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی تو کیا انہیں بھی اسٹیبلشمنٹ نے کامیاب کرایا تھا؟
جمیل بگٹی: دھاندلی کامیاب اور ہرانے کیلئے کی جاتی ہے میرے والد کو ہرانے کیلئے دھاندلی کی جاتی تھی اور بلوچستان کے مخلص رہنماؤں کوہر وقت شکست دینے کیلئے دھاندلی کی گئی، جیسے اس الیکشن میں آپ دیکھیں کہ سردار اخترجان مینگل کے ساتھ کس طرح دھاندلی ہوئی، سردار اخترجان مینگل کو جہاں کامیاب ہونا تھا تو وہاں سے بھی انہیں ہرایاگیا، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کو بھاری اکثریت ملی جس کا گمان کسی کو بھی نہیں تھا مجھے تولگتا ہے کہ آگے یہ پارٹی ڈیرہ بگٹی سے بھی جیت جائے گی اور میں سردار اختر جان مینگل کے ایک بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ تیسرا فریق بلوچستان مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، اقوام متحدہ کی زیرنگرانی میں پشتون علاقوں کو الگ کرکے بلوچستان میں ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ بلوچ اپنی آزاد رائے کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کریں کہ انہیں پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا الگ ہونا ہے پھر مجھے یہ فیصلہ قبول ہوگا۔
آزادی: ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات میں بہتری آئے گی؟
جمیل بگٹی: ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ ہمارے اچھے دوست اور بھائی ہیں مگر اصل مسئلہ وزیراعلیٰ بننا نہیں بلکہ تمام اختیارات کا ہے کیا ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو تمام اختیارات حاصل ہیں، گزشتہ حکومت کو آپ دیکھ لیں کہ رئیسانی صاحب کی الگ حکومت تھی اور ایف سی کی الگ یعنی بلوچستان میں دو حکومتیں تھیں، گزشتہ دورِ حکومت کے وفاقی وزیر جان جمالی نے تو اس بات کا اعتراف بھی کیاتھا کہ بلوچستان کو سول حکومت نہیں بلکہ ایف سی چلارہی ہے۔ اس پر اب بات کرنا قبل از وقت ہوگا یہ آگے حالات خود ہی بتائیں گے کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ بااختیار وزیراعلیٰ ہیںیانہیں، جب ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ حلف اٹھارہے تھے تو اسی دن پانچ مسخ شدہ لاشیں ملیں پھر میراحمدیارخان کی فیملی سے تعلق رکھنے والے فرد میرمحراب خان کا بے دردی سے قتل ہونا تو یہ سب خود واضح کردیتا ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے۔مجھے افسوس اس بات پر بھی ہوا کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نواب اکبرخان بگٹی قتل کیس پر کمیشن بنانے کی بات کی اچھا ہوا انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کی روایات کو برقرار نہ رکھتے ہوئے بلوچ قوم سے معافی نہیں مانگی۔
آزادی: کیا نواب اکبرخان بگٹی کا 1970ء میں گورنر بننے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط؟
جمیل بگٹی: میرے والدکافیصلہ غلط تھا مگر اس سے بھی بڑی غلطی انہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈال کر کی، میں نے اپنے والد سے اس حوالے سے پوچھا بھی تھا کہ آپ نے پاکستان کے حق میں ووٹ کیوں دیاتھا تو انہوں نے کہاتھا کہ مجھے تیسرا آپشن نہیں دیا گیا تھا میرے پاس صرف دو آپشن تھے کہ میں پاکستان یاہندوستان کے حق میں ووٹ دوں کیونکہ بگٹی اور مری علاقے قلات اسٹیٹ کے کنٹرول میں نہیں تھے اسی لئے میں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ جہاں تک 70ء کی دہائی کی بات ہے اس وقت بھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے تھے انہوں کوشش کی تھی کہ اپنے من پسند لوگوں کو کامیاب کرانا ہے مگر نتائج اس کے برعکس نکلے پھر اسٹیبشلمنٹ کا پروگرام تھا کہ نئی حکومت کو کنٹرول کرکے اُن سے کام لیاجائے گا مگربنگالی نیشنلزم بھی اس وقت عروج پر تھی اور صورتحال کچھ اور بن چکی تھی۔
آزادی:جمیل بگٹی صاحب آپ بھی ناراض بلوچوں کی طرح بات کررہے ہیں، آپ کیوں اتنے مایوس ہیں؟
جمیل بگٹی: ہنستے ہوئے کہ بھائی ہم ناراض نہیں بلکہ بیزار ہوچکے ہیں آپ کو لگتا ہے کہ ہم ناراض ہیں مجھے تو تعجب ہورہا ہے ، بلوچوں نے جب بھی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کی تو انہیں غداری کا لقب دیا گیا، میرے والد کو بھی غدار کہاگیا اسی طرح جب ون یونٹ توڑنے کی تحریک چل رہی تھی تو میرغوث بخش بزنجو نے کرنسی پر ون یونٹ توڑنے کے نعرے لکھے تو اُنہیں بھی غدار کہاگیا اور اُن پر غداری کا مقدمہ چلایاگیا کیس کراچی میں چل رہا تھااور میں بھی اس وقت وہیں پر تھا۔
آزادی: نواب اکبرخان بگٹی جب پہاڑوں پر گئے تو مسئلہ گیس رائلٹی کا تھاکچھ اس طرح کی باتیں بھی گشت کررہی تھیں؟
جمیل بگٹی: نواب اکبرخان بگٹی نے بلوچوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی اور دوسری طرف طاقت کا استعمال کیا گیا جس سے حالات زیادہ کشیدہ ہوگئے، جہاں تک گیس رائلٹی کی بات ہے تو یہ ہر وقت مقتدرہ قوتوں کا پروپیگنڈہ رہا ہے جس سے کافی حد تک میڈیا کے لوگ بھی اس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ بات گیس رائلٹی کی نہیں تھی کیونکہ گیس رائلٹی تو بلوچستان حکومت کو ملتی تھی ، نواب اکبرخان بگٹی نے بلوچ قومی وسائل اور بلوچوں کے اختیارات کیلئے جدوجہد کی۔میرے والد کو شروع ہی سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، سلال کو شہید کیا گیا تو میرے والد ڈیرہ بگٹی میں ہی رہنے لگے۔
آزادی:حالات میں خرابی اُس وقت زیادہ پیدا نہیں ہوئی جب ڈاکٹرشازیہ خالد کیس سامنے آیا؟
جمیل بگٹی: جی بالکل جب ڈاکٹرشازیہ خالد کیس سامنے آیا تو اس وقت حالات زیادہ خراب ہوئے میرے والد نے کہاکہ ڈاکٹرشازیہ خالد کے ساتھ انصاف کیا جائے جو اُس کے ساتھ زیادتی میں ملوث تھا اُس کو سزا دی جائے مگر اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بغیر تحقیقات کے اُسے بری الذمہ قرار دیا، اگر یہی کیس مجھ پر یا آپ جیسے لوگوں پر لگتا تو اس کی کھال نکالتے مگر چونکہ وہ فوجی تھا اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا۔
آزادی: مشاہدحسین اور چوہدری شجاعت مذاکرات کیلئے آئے تھے تو مذاکرات کیونکر کامیاب نہیں ہوئے؟
جمیل بگٹی: مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت دوبار ڈیرہ بگٹی آئے تھے اور بات چیت بھی ہوئی تھی مگر جب وہ میرے والد سے بات کرتے تو پھر کچھ وقفے کیلئے وہ باہر نکلتے ہوئے سیٹلائٹ فون کے ذریعے آگے فون کرتے پھر اندر آتے تو ہم نے اس بات کو محسوس کیا کہ یہ ہماری باتوں کو آگے لے جارہے ہیں مگر جب تیسری بار مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت آئے تو میرے والد نے صاف انکار کردیا کہ آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں تو آپ ہمارا اوراپنا وقت کیوں ضائع کررہے ہیں، حقیقت میں انہیں طاقت کا استعمال کرنا ہی تھا، آپ کو یاد ہوگا کہ 17مارچ 2005ء کو ڈیرہ بگٹی میں شدید بمبارٹمنٹ کی گئی جس کے نتیجے میں 70سے زائد نہتے بگٹی شہید ہوئے اس کے بعد پھر میرے والد نے پہاڑوں کا رخ کرلیا اور اِس بات کااظہار کیا کہ حکمرانوں کو بلوچ نہیں بلکہ بلوچ سرزمین چاہئے، مذاکرات، بات چیت یہ سب صرف ڈرامے بازی پر مبنی باتیں تھیں۔
آزادی: نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت کا واقعہ کس طرح پیش آیا ، غار کا واقعہ کیا ہے؟
جمیل بگٹی: نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت کسی غار کے اندر نہیں ہوئی مشرف اور اس کے لوگوں کایہ پروپیگنڈہ ہے میرے والد کی شہادت چٹیل میدان میں ہوئی یعنی پہاڑوں کے اوپر کسی غار کے اندر نہیں ہوئی۔ جب یہ واقعہ ہوا تو چوہدری شجاعت نے طلال کو فون کیا کہ آپ کے والدکے پاؤں نظر آچکے ہیں اور آپ کے والد غار کے اندر ہی ہیں، اسی طرح اُس وقت کے گورنر اویس غنی نے میرے ایک دوست کے سامنے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہاکہ جاکر جمیل بگٹی سے کہو کہ آپ میرے کلاس فیلو رہ چکے ہیں مجھے بہت افسوس ہوا کہ آپ کے والد کی شہادت ہوچکی ہے اُس کاچہرہ غار سے نظرآرہا ہے اور آجائیں تاکہ آپ میرے ساتھ اپنے والد کی تدفین ڈیرہ بگٹی میں کریں، تو میں نے بھی آپ نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جاکر اویس غنی سے کہو کہ جمیل بگٹی نے کہا ہے مجھے اِس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ تم میرے کبھی دوست اور کلاس فیلو رہ چکے تھے مگر آپ سے میرا کوئی تعلق نہیں اور دوسری بات چوہدری شجاعت کو میرے والد کا پاؤں اور آپ کو میرے والد کا چہرہ دکھائی دے رہاہے سب سے پہلے اپنے جھوٹ کو تو ملائیں پھر یہ بات کریں اور کوئی ضرورت نہیں مجھے آپ کے ساتھ ڈیرہ بگٹی جانے کی اگر میرے والد کی شہادت ہوچکی ہے تو انہیں ہمارے حوالے کیاجائے تاکہ ہم خود ان کی تدفین کرسکیں مگر سب جھوٹ پر مبنی باتیں تھیں، اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ کس طرح غار میں کھدائی کررہے تھے بالکل حیرانگی اور تعجب کی بات ہے، بہرحال میرے والد کی شہادت پر بہت سارے جھوٹ بولے گئے اس کے بعد ایک تابوت کو تالالگاکر ڈیرہ بگٹی میں انہیں دفن کیا گیا ہمیں دیکھنے نہیں دیاگیا کہ واقعی یہ میرے والد ہیں بھی یا نہیں مگر اتنا ضرور اندازہ ہوا کہ انہوں نے ہم بلوچوں کی تذلیل ضرور کی۔
آزادی: بلوچ علیحدگی پسندوں کو بیرونی مدد حاصل ہے؟
جمیل بگٹی: جب بلوچستان کے حالات خراب تھے تو یہی بات کہی جارہی تھی کہ جی بلوچوں کو بیرون ملک سے مدد مل رہی ہے، کروڑوں روپے اور اسلحہ آرہاہے ، اُس وقت کے گورنر اویس غنی نے بہت بار اِس بات کو دہرایا ، کیا اویس غنی صاحب بیٹھ کر گنتی کررہے تھے کوئی شواہد موجود نہیں صرف الزامات لگائے جارہے تھے۔
آزادی: نوابزادہ براہمداغ بگٹی سوئٹزر لینڈ پہنچ گئے تو کس کی مدد سے پہنچیں کیا اسے کسی بیرونی ملک نے سپورٹ نہیں کیا؟
جمیل بگٹی: افغانستان سے کوئی ایسی سڑک نہیں جو سوئٹزر لینڈ تک پہنچا سکے ظاہر سی بات ہے کہ اسے کسی کی سپورٹ حاصل تھی جو وہ وہاں تک پہنچے۔ مگر میں یہاں یہ بات بالکل واضح کردینا چاہتاہوں کہ عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور اپنے ہی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مدد کرتے ہیں، بلوچوں پر ترس کھاکر وہ مدد نہیں کرتیں، عالمی طاقتیں اولین ترجیح اپنے مفادات کو ہی دیتی ہیں۔
آزادی:بلوچ قوم سیاسی اور قبائلی حوالوں سے ہمیں تقسیم دکھائی دیتی ہے آپ اس کی وجہ کیا سمجھتے ہیں؟
جمیل بگٹی: یہ بالکل درست بات ہے کہ بلوچ تقسیم درتقسیم کا شکار ہیں اور اس کی وجہ تین چیزیں ہیں، انا، لالچ اور نادانی اگر یہ تین خامی بلوچوں سے نکل جائیں تو بلوچ مشترکہ طور پر جدوجہد کرینگے، آپ دیکھیں کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، جیکب آباد، کراچی ان تمام علاقوں میں بسنے والے بلوچ آج کیوں آپ کے ساتھ نہیں کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ آپ لوگ آپسی جھگڑوں میں تقسیم ہیں اور مار کھارہے ہیں۔
آزادی: نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت کے بعد اُن کے جانشین کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟
جمیل بگٹی: میرے والد نے اپنی زندگی میں دو نام چنے تھے جن میں نوابزادہ براہمداغ بگٹی اور نوابزادہ عالی بگٹی شامل ہیں، مگر اسی دوران حالات انتہائی خراب ہوئے ڈیرہ بگٹی میں جنگ شروع ہوئی اور میرے والد پہاڑوں پر چلے گئے، بگٹی قبائل نصف سے زیادہ نقل مکانی کرچکے تھے اور پہاڑوں پر چلے گئے اسی دوران نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت بھی ہوئی تو بگٹی قبائل کے نواب بننے کا فیصلہ نہیں ہوسکا کیونکہ بگٹی قبائل آج تک حالت جنگ میں ہیں اور نقل مکانی کرچکے ہیں تویہ فیصلہ بگٹی قبائل کو کرنا ہوگامگر حالات کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا، مگر اسٹیبلشمنٹ کسی کو نواب بنائے گی تو میں اس سے اختلاف رکھونگا۔
آزادی: بلوچستان میں حالات انتہائی خراب ہیں، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنانا اس پر آپ کیا کہیں گے؟
جمیل بگٹی: آپ تمام ایشوز کو ایک ساتھ مت ملائیں، جہاں تک ہزارہ کمیونٹی پر حملوں کی بات ہے تو یہ افغانستان میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنایاجارہا ہے، یہ جنگ افغان طالبان اور ہزارہ کمیونٹی کی جنگ ہے، افغانستان میں ہزارہ کمیونٹی کو کس لیول پر رکھاگیا ہے یہ تو آپ کے سامنے ہے، اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو جب سے چنگیز خان چلے گئے تو یہ جنگ چلتی آرہی ہے لہٰذا ہزارہ کمیونٹی کا مسئلہ بلوچستان کا نہیں ہے اور نہ ہی بلوچ اور ہزارہ کی دشمنی ہے۔
آزادی: آپ کہتے ہیں کہ جی پشتونوں کو الگ کیاجائے تو اس سے مسئلہ زیادہ خراب نہیں ہوگا؟
جمیل بگٹی: نہیں کیوں حالات خراب ہونگے، پشتون اپنے علاقوں میں اور بلوچ اپنے علاقوں میں آباد ہیں،مگر پشتون ہر وقت یہی کہتے ہیں کہ جی بلوچ ہمارا استحصال کررہے ہیں جو کہ غلط ہے، میں تو یہ مشورہ دونگا کہ بلوچستان اسمبلی میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی الگ صوبے یا اپنی آزادی جو بھی وہ بہتر سمجھے ایک قرار داد بلوچستان اسمبلی میں لائے اور اسے منظور
کروائے اب تو وہ حکومت میں شامل ہے اور آسانی سے یہ کام کرسکتے ہیں ہمیں بھی کوئی گلہ نہیں ہوگابلکہ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرینگے۔
آزادی: بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں الگ الگ کلیم بھی موجود ہیں، پشتون اور بلوچوں کے اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
جمیل بگٹی: اگر کچھ علاقوں پر کلیم موجودہے اور متنازعہ معاملہ ہے تو اسے ہم مل بیٹھ کر حل کرسکتے ہیں کیونکہ ہمیں مستقبل میں ایک بہترین پڑوسی کے طریقے سے رہنا ہے۔
آزادی: بلوچستان میں آئے روز ہڑتال سے لوگ متاثر ہورہے ہیں آپ کیا کہیں گے؟
جمیل بگٹی: بلوچستان میں اب ہزاروں کی تعداد بلوچ شہید ہوئے ہیں اگر گنتی کی جائے تو روزانہ بلوچوں کیلئے سوگ کا دن ہے توکیا روزانہ ہڑتال کی جائے مگر یہ اچھا عمل نہیں اس سے لوگوں میں بیزاری پیدا ہوگی، لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہوتاہے، ٹرانسپورٹ نہیں چلتی دیگر لوگوں کے مسائل بھی ہیں اور بلوچ معاشی طور پر اس قدر مضبوط نہیں چھوٹے چھوٹے کاروبار کرتے ہیں تو اُن کا خیال رکھنا ضروری ہے، ہاں اگر احتجاج کرنا ہے تو ایک ہی احتجاج مؤثر انداز میں ریکارڈ کرایاجائے بہتر ہے۔
آزادی:بلوچستان کامسئلہ کون حل کرے گا؟
جمیل بگٹی: جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنی روش تبدیل نہیں کرے گی حالات بہتر نہیں ہونگے، اگر وہ طاقت کے ذریعے بلوچستان کا مسئلہ حل کریگی تو کبھی بھی حل نہیں ہوگاسب سے پہلے مقتدرکو بلوچستان کیلئے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگاپھر شاید اس میں بہتری آجائے۔