|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2013

haideriخضدار (آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری اور مرکزی نائب امیرو رکن قومی اسمبلی مولانا قمرالدین نے کہا ہے کہ آواران زلزلے کے حوالے سے حکومتی اقدامات اخبارات کی شہ سرخیوں میں ضرور نظر آتے ہیں مگر زمینی حقائق حقیقت کے برعکس ہیں حکومت تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متاثرین کی مدد کو یقینی بنانے کیلئے جدید مشینری اور زخمیوں کے علاج معالجہ کیلئے ہسپتال میں جدید سہولیات فراہم کرے یہ بات انہوں نے آواران، مشکے سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کے دورے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کے بعد خضدار میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی مولاناعبدالغفور حیدری نے مرکزی نائب امیر رکن قومی اسمبلی مولاناقمرالدین کے ہمراہ آواران ،ڈھل بیدی،منگولی،جھاو،لباچ،گشکور،تحصیل مشکے کے علاقوں گورجک،گجر،نوکجو ،جیبری سمیت تمام متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور متاثرین میں ادویات نقدی امداد تقسیم کی انہوں نے بتایا کہ ضلع آواران میں 4لاکھ افراد بے گھر اور 1ہزار سے زائد لقمہ اجل بن گئے 35ہزار گھر مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور آج بھی مختلف علاقوں میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں حکومت اور ضلعی انتظامیہ گینتی اور بیلچے سے جدید دور میں بھی کام لے رہی ہے اب تک جدید حکومتی مشینری متاثرہ علاقے میں نہیں پہنچ سکی خوراک اور ادویات سمیت طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں حکومت امداد فراہم کرنے کی بجائے رفاہی اداروں کو خوفزدہ کرکے مجرمانہ کردار ادا کررہی ہے ہمیں بھی مشکے جانے سے روکا جارہا تھا کہ حالات خراب ہیں لیکن ہم نے مشکے کا دورہ کیا جہاں ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی اب تک وہاں پر نہ خوراک پہنچی ہے اور نہ ہی خیمے اور ادویات۔ ہم سیاست نہیں کرتے بلکہ دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ متاثرین کی مدد کی جائے ہماری کوشش کی تھی کہ ڈپٹی کمشنرآوران سے ملیں اور علاقے کی صورتحال کے حوالے سے معلومات حاصل کریں مگر ان سے ملاقات نہیں ہوسکی ہماری آواران میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ہم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بتایا کہ زلزلہ نے ضلع آواران اور مشکے کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دیا ہے ہم سیاست کرنے نہیں متاثرین کی مدد کرنے آئے ہیں جس پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں جو تباہی مچی ہے اس پیمانے پر حکومتی اقدامات نظر نہیں آتے آواران ہسپتال میں ایکسرے مشین خراب ہے مائیکرو لیبارٹری کے لئے سہولیات دستیاب نہیں فوری طور پر آرتھوپیڈک سرجن ،جنرل سرجن اور پیتھالوجسٹ کی خدمات حاصل کر کے آواران اور مشکے میں میڈیکل کیمپ لگائی جائیں مولانا حیدری نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ آپ لوگ مشکے نہ جائیں وہاں حالات ٹھیک نہیں مگر ہم مشکے گئے جہاں قدرتی آفت کی تباہی خوفناک تھی،اور حکومتی اقدامات صفر تھے سات دن گزرنے کے باوجود متاثرین کو حکومت کی جانب سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں ملا ہے مشکے ،جیبری،نوکجو،گجر اور منگولی میں لوگ بھوک ،پیاس،سردی اور طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں ایک ایمولینس زخمیوں کو مشکے یا آواران سے کراچی پہنچانے کے لئے پندرہ ہزار روپے وصول کرتے ہیں جو کہ زلزلہ متاثرین کے لئے نا ممکن ہے، ہم مشکے میں ایف سی کیمپ کے سامنے سے گزرے اور وہی پر ہمیں ایف سی نظر آئی کسی امدادی کام میں مشغول نظر نہیں آئی مولانا عبدالغفور حیدری نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں ،زخمیوں کو علاقے ہی میں طبی سہولتیں فراہم کی جائے ،ضلع میں دو کیمپ لگائیں جائیں ایک تحصیل مشکے اور ایک آواران میں ،اس کے علاوہ متاثرین کی بحالی کے لئے فوری طور پر ماسٹر پلان تیار کر کے اس پر عمل کیا جائے ۔