|

وقتِ اشاعت :   October 5 – 2013

بلوچستان پولیس میں اہلکاروں اورملازمین کی سوفیصد حاضری یقینی بنانے، غیر حاضری اورمتبادل ڈیوٹی کے خاتمے سمیت پولیس دفاتر میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ روکنے کیلئے بائیو میٹرک نظام نصب کردیاگیا۔ بائیومیٹرک نظام متعارف کرانے سے بہتر نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق بلوچستان پولیس میں غیر حاضری کے امکانات ختم کرنے ،کارکردگی بہتر بنانے اور مشکلا ت میں کمی لانے کے علاوہ سیکورٹی نظام کو مربوط بنانے کیلئے بلوچستان کانسٹیبلری کے تمام زونوں، پولیس ٹریننگ کالج، پولیس لائن کوئٹہ ،اے ٹی ایف ، اسپیشل برانچ، سی آئی ڈی، سینٹرل پولیس آفس اور کیپٹل سٹی پولیس آفس کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں تھانو ں کی سطح پر بھی بائیومیٹرک نظام متعارف کرایا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ا س نظام کی تنصیب کے بعد پولیس اہلکاروں اور افسران کی حاضری یقینی بنانے ، غیر ضروری اور بلا وجہ دفاتر سے باہر رہنے کاسلسلہ ختم ہوچکاہے۔ جبکہ اس کے علاوہ اہلکاروں کی مقررہ وقت پر دفاتر میں آمد اور روانگی کے اوقات کے خود کار نظام کی نگرانی بہتر ہونے کے ساتھ دفتری امور کی انجام دہی کامثبت پہلو بھی نظر آیا۔ محکمہ پولیس معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ اگریو ں کہا جائے کہ پورے معاشرے کا دارومدار اسی ایک محکمے پرہے توکوئی بیجا نہیں ہوگا۔ مگر آج دن تک ارباب بست و کشاد نے اس اہم محکمے کی اصلاح کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ تھا نہ کلچر کے خاتمے کا ہر دورمیں سیاسی وعدہ کیا جاتا رہا مگر عملاً انہی سیاستدانوں اور اقتدار نشینوں نے ہی تھانہ کلچر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنا ضروری سمجھا۔ پنجاب اور سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں نے ہمیشہ پولیس کو اپنے مخالفین کی چھترول پر راغب کیے رکھا۔ اور اب بھی دیہی علاقوں میں یہ رجحان پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ البتہ شہری علاقوں میں عوامی شعور کے باعث تھا نہ کلچر کمزور ہے مگر دیہی علاقوں میں تھانے دارکو اب بھی دہشت و حشت کی علامت سمجھاجاتاہے۔ معمولی معمولی باتوں پر تھانے دار کی چاندی ہوجاتی ہیاورہر دو فریق کو چھترول سے ڈرا دھمکا کر اچھی خاصی رقم بٹور لی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں تھانہ اور جیل ملزمان کی اصلاح کی بجائے جرائم پیدا کرنے والے کارخانوں کی صورت اختتار کیے ہوئے ہیں ۔ اچھے بھلے شریف النفس انسان کو چھترول کے مراحل سے گزار کر اسکے دل میں پولیس کے چھپے انجانے خوف کو مٹاکر اسے جرائم کی دنیامیں دھکیل دیا جاتا ہے اور پھر وہ معاشرے کیلئے ناسور بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں پنجاب اور سندھ کی بہ نسبت پولیس کی وہ روایتی دہشت قائم نہیں ،ایک تو یہاں قبائلی نظام انتہائی مربوط و مستحکم ہے، دوسرا بلوچستا ن میں پولیس ایریا انتہائی کم ہے زیادہ ترعلاقوں میں لیویز کا نظام ہے جس میں ہزارہا خامیوں کے باوجود پولیس کی بہ نسبت کافی اچھائیاں موجود ہیں۔ چند سال قبل لیویز کی اصلاح کی حکومتی سطح پرکوشش کی گئی مگر وہ کوششیں بھی سیاست کی نذر ہو گئیں ۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی پولیس ایک وقت میں اپنی کارکردگی کے باعث پورے ملک میں جرائم کی کم شرح کے نام سے جانی جاتی تھی مگر ’’خربوزے کو دیکھ کر خربورہ رنگ پکڑتا ہے‘‘ کے مصداق کوئٹہ پولیس نے اگرچہ پنجاب پولیس کے طرز کو نہیں اپنا یا مگر پولیس نظام کو کھوکھلا کرنے کے دیگر حربے ضرور آزمائے گئے۔ چونکہ محکمہ پولیس کے کلیدی عہدوں پرتاحال ایک ہی طبقے کی اجارہ داری ہے۔ فیلڈ میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے کی دقت سے یکسر محفوظ رہنے والے اس طبقے نے گزشتہ دس سال میں بلوچستان پولیس بالخصوص کوئٹہ پولیس کے رہے سہے نظام کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ اپنے منظور نظر اہلکاروں کو اچھے کھاتوں والی پوسٹوں پر تعینات کرنا اور اوپر کی کمائی سے حاصل شدہ نذرانوں کی بندر بانٹ کا طریقہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ محکمہ پولیس میں ادنیٰ پوسٹ پر تعینات ایک ادنیٰ اہلکار اتنا کماتے رہے کہ پیٹیاں بھربھر کر پنجاب بھیجی جاتی رہیں ۔بلوچستان کانسٹیبلری جوپہلے بی آر پی (بلوچستان ریزروپولیس ) ہوا کرتی تھی ۔وہاں کھاتوں پر سینکڑوں پولیس اہلکار اپنے گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں اور اپنی تنخواہ کا تقریباً 30سے چالیس فی صد دے کرمحکمہ کی فائلوں میں حاضرباش رہے ۔ ایک سات گریڈ کے حوالدار کا اتنا اثر ورسوخ کہ وہ اپنے ’’زوربازو‘‘ پر محکمہ پولیس کے اہلکاروں کو بغیر کسی رخصت کے گھر میں بیٹھنے کا حکم صاد ر کرنے اور معاوضے میں ملنے والی رقم جو تقریباً کروڑوں نہ سہی لاکھوں میں بنتی ،اس سے نہ صرف خود بلکہ رہنے افسران بالا کو خوش بھی کرتا رہا۔ موجودہ بائیومیٹرک سسٹم سے قوی امکان ہے کہ محکمہ پولیس میں ’’کھاتہ داری ‘‘ کا سلسلہ بند ہوجائیگا اور پولیس میں غیر حاضری اور گھر بیٹھ کر تنخواہ اینٹھنے کا رحجان کم ہوجائیگا تاہم یہ اقدام پولیس کی اصلاح کی جانب حرف آخر نہیں ۔اب بھی پولیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کا صفایا کیے بغیر معاشرے کی سدھار نا ممکن ہے۔