|

وقتِ اشاعت :   December 25 – 2013

uncleجرمنی میں احتجاج، ہمیں چپ رہنا چاہیے، ہمیں اس سے کیا کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، جرمنی میں احتجاج: پاکستان میں آ کر احتجاج کریں تو دیکھیں۔
کہنے کو تو یہ محض دو جملے ہیں جن میں ایک احتجاج کی خبر پر اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے، مگر جب ان دو جملوں کی گہرائی ، ٹائمنگ اور ان کے پیچھے موجود شخص کی شخصیت، تجربے اور صلاحیت پر نظر دوڑائی جائے تو یہ محض دو جملے نہیں رہتے بلکہ ہمارے معاشرے کی بے حسی، بے بسی اور لاتعلقی کی مکمل عکاسی کر تے ہیں ۔قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں جرمنی کے دارلحکومت برلن میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، اختلاف رائے رکھنے اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر لاپتہ کیے جانے اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے خلاف بلوچ کمیونٹی جرمنی، بلوچستان نیشنل موومنٹ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔
احتجاج میں جرمنی کے مختلف شہروں میں بسنے والے بلوچ نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج کی خاص بات اس میں چند جرمن خواتین کی خصوصی شرکت تھی ،مذکورہ خواتین تمام وقت احتجاجی مظاہرے میں شامل رہیں اور اس دوران انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے جن پر’’دنیا بلوچوں کی نسل کشی پر کیوں خاموش ہے؟‘‘ کہاں ہے اقوام متحدہ ؟بلوچستان کا خون رس رہا ہے،بلوچستان میں خون کی ہولی بند کرو، کے نعرے درج تھے۔ حسب روایت اس احتجاجی مظاہرے کی پاکستانی میڈیا میں کوئی کوریج نہیں ہوئی اور مجبوراً احتجاج کرنے والوں کو سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑا۔اس احتجاجی مظاہرے کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی گئیں اور ان پر اپنے اپنے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے اظہار خیال کیا گیا،تاہم ملک کے ایک قابل احترام اور نامور صحافی جناب انور سن رائے کی جانب سے سوشل میڈیا پر موجود ان تصاویر پر مذکورہ بالا تبصرہ ، بلا تبصرہ ہے، جو سقوط ڈھاکہ کی بیالیس ویں سالگرہ یا برسی، جو بھی سمجھ لیں، کے موقع پر اپنے ساتھ کئی سوالات کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ساتھ لے کر آیا ہے،
دسمبر یوں تو جاڑے ،گرم لباس اور خشک میوے کے حوالے سے مشہور ہے مگر پاکستان میں سولہ دسمبر کو سقوط ڈھاکہ یا سقوط مشرقی پاکستان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اس دن بھارت کی سازشوں کاخوب رونا رویا جاتا ہے، مکتی باہنی کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے، بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والوں کو غدار کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے، مگر اپنی غلطیوں، ظلم اور زیادتیوں، فوج کشی، بنگالیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھے جانے کو یکسر فراموش کرکے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، مگر اس قحط الرجال میں بھی چند ایسے جانباز موجود ہیں تو حقیقت سے منہ نہیں موڑتے بلکہ ان کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے سچ کا بول بالا کرتے ہیں، سچ کہنے کے بھی اپنے طور طریقے ہیں، کچھ علی الا علان سچ بولتے ہیں، کچھ اپنے مضامین اور تبصروں میں اس کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ نہ کہے بھی سب کچھ کہہ جاتے ہیں،
ان دنوں بھی دسمبر کا مہینہ ہے، ظلم بھی ڈھائے جارہے ہیں، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ، حقوق سے محروم بھی رکھا جارہا ہے، فوج کشی بھی زوروں پر ہے، حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو بندوق کی نوک اور بوٹوں تلے دبانے کا سلسلہ بھی تھمنے کو نہیںآرہا، لوگوں کو پہلے حبس بے جا میں رکھ کر لاپتہ کردیا جاتا ہے، پھر انہیں اذیتیں پہنچا کر ان کی لاشوں کو مسخ کردیا جاتا ہے، اور پھر ان لاشوں پر ان کے ناموں کی پرچیاں چسپاں کرکے ویرانوں میں پھینک دیا جاتا ہے،یہی سب کچھ پہلے مشرقی پاکستان اور اب کے بار بلوچستان میں ہورہا ہے،
ظلم کے یہ پہاڑ اس بلوچستان پر ڈھائے جارہے ہیں کہ جہاں کے چھتیس لاکھ بچوں میں سے صرف تیرہ لاکھ بچوں کو اسکول میسر ہے، اسکول اساتذہ سے اور بہت ہی قلیل تعداد میں موجو د اسپتال ڈاکٹروں، ادویات اور دیگر عملہ اور آلات سے محروم ہیں۔وزارت تعلیم بلوچستان کے اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں فوری طور پر دس ہزار نئے اسکول کھولنے اور تقریباً ساٹھ ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی ضرورت ہے
۔ابھی کچھ ہی ہفتے گزرے ہیں کہ بلوچستان میں زلزلہ سے متاثرہ ملک کا پسماندہ ترین ضلع آواران چھ دہائیوں بعد ملک کے نقشے پر ابھرا، اور پھر میڈیا ، سول سوسا ئٹی اور غیر سرکاری تنظیموں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بلوچستان میں کس طرح دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ جب زلزلے کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے تو اسپتالوں میں آپریشن کی سہولت تو کجا ایکسرے مشین تک دستیاب نہ تھے، درد سے کراہتے مریضوں کو تین سو کلو میٹر دور کچی سڑکوں کے ذریعے آٹھ سے دس گھنٹوں کی ناقابل بیان حد تک کی تکلیف دہ سفر کے بعد کراچی پہنچایا گیا۔ گوکہ بلوچستان کے لوگوں کو قومی میڈیا سے یہ شکایت ضرور ہے کہ انہوں نے زلزلہ کو مناسب کوریج نہیں دی مگر پھر بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے جو منظر سامنے آیا اس سے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ آواران بنیادی سہولتوں کے لحاظ سے ملک کے دیگر علاقوں سے صدیوں پیچھے ہے۔ یہ نقشہ تو صرف ایک ضلع کا ہے، بلوچستان کے کل اکتیس اضلاع میں سے بیشتر کی صورتحال آواران جیسی ہی ہے، ایسے میں اگر کوئی اسکول مانگے، اسپتال کا مطالبہ کرے، روزگار کے لیے آواز اٹھائے یا بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے اختیار کا علم بلند کرکے احتجاج کرے تو کیا یہ گناہ کبیرہ ہے کہ جس کی سزا ماورائے آئین و قانون قتل اور مسخ شدہ لاش ہے۔
کہنے کو تو ملک میں جمہوریت رائج ہے اور کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں عوام کے فیصلے، عوام کے ذریعے اور عوام کے حق میں کیے جاتے ہیں، مگر دوسری جانب بلوچستان کے عوام کے ساتھ اس نام نہاد جمہوری دور میں روا رکھے جانے والے سلوک پر نظر پڑتی ہے تو دل کے کسی کونے میں موجود جمہوریت کا سبز باغ پہلے سرخ اور پھر سیاہ پڑجاتا ہے، بلوچستان کے طالب علموں، سیاسی کارکنوں، وکلاء ، دانشوروں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کا احتجاج اپنی جگہ، مقتدر طبقے کو ستر سالہ ماما قدیر اور چند خواتین اور بچوں کا احتجاج اور لانگ مارچ بھی ہضم نہیں ہورہا اور وز مختلف حیلوں ، بہانوں اور دھمکیوں سے اس لانگ مارچ کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تو ایسے میں پاکستان سے باہر رہنے والے بلوچستان کے فرزند ہی یہ کار خیر سر انجام دے رہے ہیں۔یہ احتجاج مختلف پلیٹ فارمز کے تحت کہ جن میں بی این ایم، بی آر پی اور دیگر تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں ، جرمنی کے مختلف شہروں جن میں برلن، کولون، فرینکفرٹ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں کیے جارہے ہیں اور دنیا کو بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ملک میں ماما قدیر کے’’ لانگ مارچ میں ‘‘ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے اور اس میں شرکت کرنے والے خود کو اس میں شامل نہ سمجھیں ، بیرون ملک رہنے والے غیر ملکی خیر خواہ بلوچستان میں روا رکھے جانے والے ظلم ، ناروا سلوک اور محرومیوں اور بلوچستان کے لوگوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش ہیں،