|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2014

کوئٹہ( خ ن) وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ آواران میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کی امداد کے سلسلے میں پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد حکومت متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کے لیے کوشاں ہے، انہوں نے کہا کہ آواران کے متاثرین کے لیے مکانات کی تعمیر پر 7ارب روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو مالی معاونت درکار ہے، وہ جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم شاہ سے بات چیت کر رہے تھے جنہوں نے منگل کے روز ان سے ملاقات کی، وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر بتایا کہ آواران میں زلزلہ متاثرین کے لیے 30ہزار مکانات تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں حکومت بلوچستان تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے تاہم اسے معاونت کی ضرورت ہے، جاپان کے اعزازی سفیر نے اس سلسلے میں جاپان کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، سید ندیم شاہ نے پسنی فش ہاربر میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاپان اس فش ہاربر کو فعال بنانے کے لیے پہلے ہی مالی تعاون کر رہا ہے، اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں فزیبلیٹی تیار کی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ ایک مہینہ کے اندر اس پر کام شروع ہو جائے گا، وزیر اعلیٰ نے کرپشن کے خلاف اپنی حکومت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جاپان کے اعزازی قونصل جنرل نے کہا کہ جاپان بلوچستان میں تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہونے والی کاوشوں میں بھرپور تعاون کرے گا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے زرعی کالج بلوچستان کے وفد نے پرنسپل اسلم نیازی کی قیادت میں ملاقات کی، وفد نے وزیر اعلیٰ کو کالج کی کارکردگی اور مشکلات سے آگاہ کیا، وزیر اعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ حکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور زرعی شعبہ کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، انہوں نے زرعی شعبے میں ریسرچ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی زراعت سے وابستہ ہے اور اس شعبے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب زراعت میں ریسرچ کو فروع ملے گا، انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں زرعی اور دیگر شعبوں میں پی ایچ ڈیز کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت تمام وسائل فراہم کرے گی، انہوں نے اساتذہ سے کہا کہ وہ اپنے استعداد کار میں اضافہ کریں ، اس موقع پر صوبائی مشیر برائے جنگلات عبیداللہ بابت بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی میں زرعی کالج کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور جب تک زرعی شعبے میں بہتر ماہرین پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک زراعت کی ترقی کے اہداف کا حصول مشکل ہوگا، بلوچستان کی آب و ہوا بالخصوص پانی کی کمی سے درپیش ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زرعی ماہرین اور تحقیق کی ضرورت ہے، صوبے کے وسیع و عریض بنجر زمین کو بارانی پانی سے قابل کاشت بنانے کیلیے بھی نئے بیج پیدا کئے جائیں تو صوبہ میں زرعی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔