|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2014

کوئٹہ(جنرل رپورٹ) سال 2013ء بلوچستان اُسی طرح رہا جس کی ماضی آج بھی کسی ادیب، دانشور، شاعر، تجزیہ کاراپنے قلم سے کسی ایک پاکستان کے دیہات کاذکر کرتے آئے ہیں۔ پورے سال میں بلوچستان میں سیاسی، معاشی، تعلیمی ودیگر مسائل جوں کے توں رہے شاید اس کے برعکس دیگر صوبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔مگر بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کی پسماندگی کا ذکر شاید ہی کوئی ذی شعور نے اپنے لفظوں یا زبان سے اقرار نہ کیا ہو۔ بلوچستان پیکج، ریکوڈک، گوادر پروجیکٹ سمیت دیگر بڑے بڑے میگا منصوبے تو بلوچستان کے حصے برائے نام آتے رہے مگر یہاں کے عوام کی تقدیر اُسی دیہات کی ہی رہی جو کتابوں کی کہانیوں میں ایک قصے کی طرح موجود رہتے ہیں۔ شاید اُس نصاب کی مانند جو ’’اسلم کی عید کی ٹوپی‘‘ کی طرح ہو ۔ مگر بلوچستان کی کہانی اسی طرح جسے شاید ہم ایک ہی سال کا قصہ نہ کہہ سکے۔ پاکستان معرض وجود آنے کے بعد بلوچستان کے عوامی لیڈر یہاں کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے سراپا احتجاج رہتے رہے اور اس کا اقرار دیگر صوبوں سے وابستہ بڑے بڑے لیڈروں نے بھی کیے، مگرافسوس، گفتن شنیدن، برخستن کے مانند ہے۔ بلوچستان کے گزشتہ دوادوار کے ہی معاملات کو اٹھاکر دیکھاجائے تو سابق ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے معافی کے ساتھ بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ، اس کے بعد آصف علی زرداری نے روایت برقرار رکھتے ہوئے معافی مانگ کر بلوچستان میں پیکجز کا اعلان کیا تبدیلی کچھ بھی نہیں آئی۔2013 ء کے دوران بلوچستان میں کوئی معاشی تبدیلی نہیں آئی نہ ہی کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا گیا ہو جسے بلوچستان کے عوام یاد رکھیں۔ آج بھی لوگ اپنی سرزمین سے نکلنے والے گیس کی فراہمی کیلئے سراپااحتجاج دکھائی دیتے ہیں، پانی کا ایک بہت بڑا بحران جو آئندہ بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس سے بلوچستان کی زراعت تباہی سے دوچار ہوسکتی ہے آج بھی پانی بحرانکے باعث بلوچستان کی زرعی زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں اور زراعت تباہی کے دہانے پر ہے جس سے زمیندار کسان پریشانی سے دوچار ہیں اس کو بہتر کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی، بلوچستان کو مد نظر رکھ کر کوئی بھی پالیسی ترتیب نہیں دی گئی، یہاں کے سماجی ڈھانچے سے کوسوں دور رہنے والے شاہی افسران صرف کاغذکے کچھ صفحوں پر سیاہی ملتے یہاں کی تقدیر بدلنے کیلئے نئے نئے نسخہ ترتیب دیتے ہیں جس کا کوئی اثر یہاں کے عوام پر برائے راست نہیں پڑتا۔ 2013کی آخری دہائی میں جو ایک تبدیلی آئی ہے اُس میں بلوچستان کی نئی حکومت کے سربراہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کا وزیراعلیٰ بننا اور اس کی پارٹی کی حکومت کا بننا ہے شاید جو پالیسیاں اب ترتیب دی جارہی ہوں موجودہ وزیراعلیٰ کی قیادت میں تو اُس کے اثرات آگے چل کر دکھائی دینگے۔ 2013ء کے دوران وہی سب کچھ ہوا جو ماضی کی طرح بلوچستان میں ہوتاآیا ہے جسے شاید نیک شگون نہیں کہاجاسکتا اور ان تمام معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے سماجی، معاشی، سیاسی ڈھانچے کو موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان بہتر جانتے ہیں اگر ان تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے پالیسی ترتیب دی جائے تو شاید بلوچستان کے عوام کم ازکم گیس، بجلی کیلئے سڑکوں پر کھڑے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دینگے۔ بلوچستان کے ایک معاملے کو چھوڑ کر جو کہ بہت ہی بڑا مسئلہ ہے جوسیاسی حوالے سے ہے اُس میں تبدیلی کے آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے اور اس پربحث ومباحثہ بہت ہوسکتا ہے مگر فی الحال بنیادی مسائل سے دوچار بلوچستان 48ء لیکر 2013ء تک اُسی طرح ہی رہا ہے۔