|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2014

لاہور(آزادی نیوز) جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں محسوس ہوا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں، اس سے یہ پیغام بھی ملا ہے کہ آپریشن کی تیاری کی باتیں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کرے کہ نوازشریف کے گمان کے مطابق مذاکرات کا کوئی راستہ نکل آئے، انہوں نے بہت اچھے جذبات کے ساتھ کہا کہ ہم طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں میں کسی اور آپشن کا قائل نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اوروں کے ساتھ جنگ میں پاکستان کا نقصان کیوں کریں۔ نوازشریف کی خواہش ہے کہ ہم جنگ سے نکل جائیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ پہلے مذاکرات کو اچھا نہیں سمجھتا تھا لیکن اب ان کی رائے میں تبدیلی ا? رہی ہے۔ میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ مذاکرات ہو رہے ہوں اور بیچ میں سے لائن کٹ جائے۔ اللہ کرے کہ رفتہ رفتہ ایک ایسا نقشہ بن جائے جس سے خون خرابہ ختم ہو جائے۔ وزیراعظم نے تازہ ڈرون حملے پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات مارچ تک بھی نہیں ہوں گے کیونکہ اگر حلقہ بندیاں ختم کردی گئی ہیں تو کاغذات نامزدگی دوبارہ جمع ہوں گے تو پھر مارچ تک کا وقت کم ہے۔ پاکستان میں بھارت سے زیادہ صوبائی خود مختاری ہے لیکن شہبازشریف نہیں چاہتے کہ اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہو اس کے علاوہ بڑی سیاسی پارٹیاں نہیں چاہتیں کہ اقتدار عوام میں منتقل ہوجائے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات زیادہ دیر تک ملتوی نہیں کئے جاسکتے یہ ان کو کرانا ہی پڑنے ہیں۔ پرویزمشرف بہت زیادہ فرنٹ فٹ پر ا? گئے ہیں وہ اکسانے والی باتیں کر رہے ہیں اور بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کا ٹرائل مشکل ہو جائیگا، ہو سکتا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے بھی خارج کرنا پڑے۔ سال 2014 میں امریکہ خطے سے جا رہا ہے اور یہاں پر بہت بڑا خلا پیدا ہونے جا رہا ہے۔ خطے سے امریکہ کے جانے کے بعد طالبان کی لہر آئے گی، حامد کرزئی اپنی پسند کے انتخابات کرانے کیلئے کوشاں ہیں امریکہ سے امریکی فوج کی موجودگی کے لئے معاہدہ ابھی نہیں کررہے مگر ان کو کرنا پڑیگا۔ طالبان کو کوئی جلدی نہیں ہے وہ بھی امریکہ کے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف طالبان سے مذاکرات کے لئے سنجیدہ نظر آرہے ہیں اور مولانا سمیع الحق سے ملاقات اس بات کی گواہی ہے۔ سینئر ایڈیٹر ایاز خان نے کہا کہ نئے سال میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ کہیں طالبان کوئی بڑا جن نہ بن جائیں جو بوتل میں نہ جا سکے یا پھر یہ جن مستقل طور پر کسی بوتل میں چلا جائیگا۔ لاہور ہائی کورٹ نے بلدیاتی حلقہ بندیوں کو مستردکر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوں گے کیسے ہوں گے یہ سمجھ میں نہیں ا?تا۔ تجزیہ کار منیزے جہانگیر نے کہا کہ افغانستان کے الیکشن بہت اہم ہیں اور اس مرتبہ فوزیہ کوفی کا الیکشن میں کردار بہت اہم ہوگا ان کو افغانستان میں بینظیر بھٹو کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔اگر افغانستان میں ا?گ لگی تو اس کا اثر پاکستان میں بھی ہو گا۔ پاکستان کے لوگ اب چاہتے ہیں کہ ایسا پاکستان ہو جہاں بارود کی بو نہ ہو جہاں امن اور خوشحالی ہو۔