|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2014

کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے خضدار میں پارٹی آرگنائزر رئیس عبدالقدوس مینگل کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ سے پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے پست کرنا ممکن نہیں اس سے پہلے بھی ایسے بزدلانہ اقدامات کے ذریعے کوشش کی گئی کہ پارٹی کو دیوار سے لگایا جائے لیکن بلوچستان کے بلوچ عوام نے ایسا ہونے نہیں دیا اور عملی و سچی وابستگی دکھا کر پارٹی کو فعال اور متحرک بنانے میں کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی دور حکمرانی ہو یا موجودہ دور حکومت ہر دور میں ڈیتھ سکواڈ کی کھلم کھلا حمایت کی گئی تاکہ بی این پی کو قومی جدوجہد سے روکا جا سکے ایسے بزدلانہ اقدامات سے پارٹی رہنماؤں کارکنوں کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد اور بی این پی کے رہنماؤں کارکنوں کی شہادت ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں انہی شہداء کی قربانیوں کی بدولت پارٹی بلوچستان بھر میں مضبوط ‘ فعال اور متحرک ہوتی جا رہی ہے نظریاتی کارکنوں کو بزدلانہ طریقے سے قتل و غارت کا نشانہ بنانے کے مذموم مقصد سے ہمارا راستہ روکنا ممکن نہیں شہداء کی قربانیوں سے تحریک کمزور نہیں بلکہ پروان چڑھتی ہے جس سے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں بلکہ مزید بلند ہوتے ہیں انہوں نے رئیس عبدالقدوس مینگل کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالقدوس مینگل کی قربانی اور جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ، دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی مذمتی بیان میں خضدار میں پارٹی کے تحصیل آرگنائزر رئیس عبدالقدوس مینگل کی ٹارگٹ کلنگ کو گزشتہ 67سالہ ظلم و جبر کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نام نہاد جمہوری دور حکومت میں بھی بی این پی کے نہتے سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ ، قتل و غارت گری ، اغواء نما گرفتاریاں ، پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر حملے ، دھونس دھمکیاں اور انتقامی کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آج بھی تمام اختیارات سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے کنٹرول میں ہیں اور حکمران ان کے سامنے بے بس ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ بی این پی کے نہتے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا بنیادی مقصد پارٹی کو دیوار سے لگانے اور زیر کرنے کی ناکام منصوبہ بندی ہے حکمران ایسے بزدلانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پارٹی کے کارکنوں کو ہرگز مرعوب نہیں کر سکیں گے اور نہ بی این پی کے کارکن خوف و ہراس ، قتل و غارت گری کے نتیجے میں اپنے قومی و وطنی فرائض کے فرار کی راہ اختیار کریں گے بیان میں کہا گیا ہے کہ بی این پی وہ واحد قوم وطن دوست جماعت ہے جو اپنے سیاسی اور سخت گیر اصولی موقف و جدوجہد کے نتیجے میں حکمرانوں اور ان کے گماشتوں ، خفیہ اہلکاروں ، سیکورٹی فورسز کے سامنے بلوچ وطن کے دفاع ، بلوچ دشمن قوتوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند کھڑے ہو کر ظلم و جبر اور ریاستی بربریت کا مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں یہ حکمرانوں کی خام خیالی ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر پارٹی کے نہتے کارکنوں کو بربریت کا نشانہ بنا کر راستے سے ہٹانے کی کوشش میں کامیاب ہوں گے بی این پی جیسے سیاسی و مضبوط اور شہداء کی قومی جماعت کی موجودگی میں دھرتی ماں کے خلاف کوئی بھی توسیع پسندانہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا بیان میں کہا گیا ہے کہ یکے بعد دیگرے پارٹی کے نہتے کارکنوں کی دن دیہاڑے قتل و غارت گری کا سلسلہ گزشتہ آمریت دور حکومت سے لے کر آج بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے جس کا واضح ثبوت کل خضدار شہر میں پارٹی کے تحصیل آرگنائزر رئیس عبدالقدوس مینگل کا دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا ہے پارٹی شہید رہنماء کے قوم وطن دوستی کی جدوجہد اور آخر میں جان کا نذرانہ دینے پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید کے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے بیان میں پارٹی نے مرکزی حوالے سے شہید رہنماء کی شہادت پر تین روزہ منانے کا اعلان اور شہید رہنماء کی ٹارگٹ کلنگ ، خضدار میں بی ایس او کے رہنماء عمران بلوچ کے گھر پر حملے ، نوشکی سے پارٹی رہنماء میر پسند خان ماندائی ، ہرنائی سے شربت خان مری ، ہنگل مری کے اغواء نما گرفتاریوں اور دیگر جاری مظالم کے خلاف آج یکم جنوری سہ پہر 3بجے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا جبکہ 3جنوری کو نوشکی ، دالبندین ، خاران ، 5جنوری کو کیچ ، پنجگور ، گوادر ، آواران ، 7جنوری کو مستونگ ، قلات ، سوراب ، خضدار ، وڈھ ، 8جنوری کو بولان ، کچھی ، سبی ، ڈیرہ مراد جمالی ، جعفر آباد ، اوستہ محمد اور10جنوری کو لسبیلہ ، حب چوکی ، کراچی ، بارکھان ، کوہلو ، لورالائی، موسیٰ خیل اور ڈیرہ غازی خان میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے ان اضلاع کے پارٹی کے تمام عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جاری مظالم کے خلاف بھرپور انداز میں احتجاج کرتے ہوئے مظاہروں کو کامیاب بنا کر قوم وطن دوستی کا عملی ثبوت دیں علاوہ ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے بی این پی تحصیل خضدار کے تحصیل آرگنائزر رئیس عبدالقدوس مینگل کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی رونما ہونے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جمہوری دور حکومت میں بھی سیاسی کارکنوں کا جان و مال اور گھر محفوظ نہیں ہیں سیاسی کارکنوں کی قتل و غارت گری کا مقصد سیاسی جدوجہد سے دستبردار کرایا جا سکے انہوں نے کہا کہ آج بھی بی این پی کے کارکنوں کو اسی لئے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بی این پی سیاسی و جمہوری تحریک سے علیحدگی اختیار کرے لیکن ہم حکمرانوں اور ان کے گماشتوں پر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اور اپنے کارکنوں کے جانوں کے لہو کے مشعل کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کی خاطر استعماری قوتوں کا توسیع پسندانہ پالیسیوں اور عزائم کا آخر دم تک مقابلہ کریں گے انہو ں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بزور طاقت سیاسی تحریکوں و کارکنوں کو قتل و غارت گری سے کسی بھی صورت کمزور اور مٹایا نہیں جا سکتا ۔