|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2014

کوئٹہ(آن لائن)وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 2013ء کے دوران بلوچستان میں ماورائے آئین انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مسخ شدہ نعشوں کے پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا 161 لاپتہ افراد کو ماورائے آئین قتل کیا گیا جبکہ 510 افراد کی اغواء نما گرفتاری کے بعد انہیں غائب کردیا گیا یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل نہیں کی گئی دوسری جانب موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے اپوزیشن میں رہ کر لاپتہ افراد کی بازیابی کے دعوے کرنے والے اقتدار میں آکر عوام سے کئے گئے وعدے بھول گئے ہیں بلکہ موجودہ حکومت خفیہ اداروں کے اختیارات کو محدود کرنے کی بجائے ان کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نام سے قانون سازی کررہی ہے جس سے خفیہ اداروں کو مزید اختیارات مل جائینگے انہوں نے کہاکہ اس آرڈیننس سے آئین کے تحت شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوگی حکومت اس آرڈیننس کو اسمبلی سے منطور نہ کرائے کیونکہ مستقبل میں حکومت بھی اس کی زد میں آسکتی ہے انہوں نے کہاکہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز غیر سیاسی تنظیم ہے جو پرامن جدوجہد کررہی ہے امن وانصاف کیلئے ہم نے ہر دروازے پر دستک دی مگر انصاف کی بجائے ہمیں تنگ کیا جارہا ہے لانگ مارچ کے اگلے روز میرے بھائی کو زدوکوب کیا گیا میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس معائنہ کیلئے لے گیا تو وہاں بعض مسلح افراد نے میرے بھائی سے میرے بارے میں پوچھا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں انہوں نے کہاکہ اسی طرح بلوچ فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کو بھی ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سمیت تنظیم کے کسی بھی عہدیداروں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور خفیہ اداروں پر عائد ہوگی انہوں نے کہاکہ اگر کسی لاپتہ شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جاسکیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس وقت 700 سے لاپتہ افراد کی مسخ شد نعشیں پھینکی جاچکی ہیں جبکہ 2780 لاپتہ افراد کی مکمل تفصیلات ہمارے پاس موجود ہے لیکن لاپتہ افراد کی تعداد اس سے کہیں گنا زیادہ ہے کیونکہ لوگ ڈر کی وجہ سے سامنے نہیں آتے کہ کہیں ان کے لاپتہ کئے جانیوالے پیاروں کو نقصان نہ پہنچایا جائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مارچ 2012ء میں جب ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے رٹ دائر کی تھی اس وقت 200 کیس کورٹ میں رجسٹرڈ ہوئے تھے اس کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے بننے والے کمیشن میں بھی ایک ہزار لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے رجسٹریشن کرائی تھی۔