|

وقتِ اشاعت :   January 21 – 2014

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013 منظور کرلیا ہے تاہم ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیرمین رانا شمیم کی زیرصدارت ہوا جس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013 کے مسودے پر غور کیا گیا، اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے تعلق رکھنے والے کمیٹی ارکان نے آرڈیننس کی حمایت کی جبکہ تحریک انصاف اورایم کیوایم کے اراکان نے تحفظ پاکستان آرڈیننس پر اختلافی نوٹ لکھے۔ ایم کیوایم نے اپنے اختلافی نوٹ میں تجویز دی کہ تحفظ پاکستان آرڈینسن کے تحت گرفتار شخص کو جواب داخل کرنے لئے 15 دن کے بجائے 30 دن دیئے جائیں، تحریک انصاف کی جانب سے عارف علوی نے اپنے اختلافی نوٹ میں اس بات کا خدشہ طاہر کیا ہے کہ  آرڈیننس کی بعض شقیں سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کےخلاف استعمال ہوسکتی ہیں جبکہ آرڈیننس کےتحت جج کی زیادہ سے زیادہ عمر کا بھی تعین ہونا چاہئے۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے نبیل احمد گبول کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے اعتراضات کو بل کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو شہباز شریف نے آج ہی آرڈیننس کی منظوری کی ہدایت کی تھی اور اس آرڈننس کی منظوری کے لئے حکومت کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے آنے کی زحمت کی نہ سیکرٹری داخلہ آئے اور اگر میاں بلیغ الرحمان انہیں اپنے وزیر مملکت برائے داخلہ کا نوٹی فکیشن دکھا دیں تو وہ بل پر کوئی اختلاف نہیں کریں گے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ میاں بلیغ الرحمان نے کہا کہ ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے  غیرمعمولی قانون سازی کی ضرورت ہے، قائمہ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے اختلافی نوٹ آرڈیننس کےساتھ قومی اسمبلی میں پیش کئے جائیں گے۔