|

وقتِ اشاعت :   January 25 – 2014

کوئٹہ: مستونگ میں لشکر جھنگوی کے بس حملے میں 30 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر شیعہ زائرین کے بلوچستان کے گزرنے والے راستے کو معطل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ 700 کلومیٹر لمبی ہائی وے کوئٹہ کو ایران سے ملاتی ہے جہاں شیعہ زائرین مقدس مقامات کا دورہ کرنے کے لیے جاتے ہیں تاہم اس راستے پر شدت پسند گروہ متعدد حملے بھی کرچکے ہیں جسکے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایک سینئر صوبائی افسر نے رائٹرز کو بتایا ‘ہم نے بسوں کی موومنٹ کو سیکورٹی صورت حال بہتر ہونے تک عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔’

پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جہاں 18 کروڑ کی آبادی کا 20 فیصد شیعہ برادری پر مشتمل ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2013ء میں 400 سے زائد اہل تشیع افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جن میں ہزارہ برادری کے افراد بھی شامل ہیں۔

منگل کے روز ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 30 شیعہ زائرین مستونگ کے قریب ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ہزارہ برادری نے ملک بھر بالخصوص کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے دیے تھا۔

مظاہرے میں شامل محمد اسماعیل چغتائی کا کہنا تھا ‘ہمارے لیے کوئی مقام محفوظ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی متبادل راستہ بھی نہیں۔ ہمیں اس ‘خونی ہائی وے’ سے گزر کر مقدس مقامات تک پہنچنا پڑتا ہے۔’

شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ گروپ کے خیال میں شیعہ مرتد ہیں اور انہیں قتل کردینا چاہئے۔

مستونگ دھماکےمیں ہلاک افراد کی تدفین

اس سے قبل بس پر بم حملے میں ہلاک ہونے والے اٹھائیس افراد کو جمعہ کے روز سخت سیکورٹی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

تدفین کوئٹہ شہر میں علمدار روڈ پر بہشتِ زینب قبرستان اور ہزارہ ٹاؤن میں بہشت زہرہ قبرستان میں کی گئی۔

اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد بھی خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود تھی۔

منگل کو سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ دو دن کے وقفے کے بعد آج پنجابی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔

بم حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد ہزارہ برادری نے بدھ سے کوئٹہ کے شہید علم دار روڈ پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے اپنے عزیزوں کی تدفین سے انکار کر دیا تھا۔

سخت سردی کے باوجود اس دھرنے میں سینکڑوں مرد، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔

تاہم جمعرات کو رات گئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔

مستونگ واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں بھی دھرنے اور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔