|

وقتِ اشاعت :   January 25 – 2014

اسلام آباد: غداری مقدمے میں پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔ میڈیکل رپورٹ میں سابق صدر کو فوری طور پر انجیو گرافی کرانے کی تجویز دی گئی تاہم پرویز مشرف پاکستان سے انجیو گرافی کرانے کو تیار نہیں۔

اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعت شروع کی تو رجسٹرار نے پرویز مشرف کی اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹ پیش کی، سابق صدر کے وکلاء نے رپورٹ خفیہ رکھنے کی استدعا کی۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت ایک ایسے شخص کا کیس سن رہی ہے جو عوام میں جانا پہچانا ہے لہذا عدالت ایسا کوئی فیصلہ نہ دے جو آئین کے متصادم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پراسیکیویشن ٹیم نے پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ کا نہیں کہا بلکہ ہمیں معلوم ہے کہ مشرف صحت مند ہیں، عدالت نے فریقین اور استغاثہ کو میڈیکل رپورٹ کی کاپی دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لیے موخر کردی۔

سماعت دوبارہ شروع ہونے پر پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ ان کومیڈیکل رپورٹ پراعتراض ہے، ملزم بیرون ملک علاج کرانا چاہتا ہے۔ 5 ماہر امراض قلب کا بورڈ بنا کر رپورٹ ان کو دکھائی جائے، پرویز مشرف کو فوجی ادارے اور فوجی ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ اعتراض جمع کرانے کے لیے وقت چاہتے ہیں، اکرم شیخ نے کہا کہ عدالتی وقفہ میں پرویز مشرف کے وکیل رانا اعجاز اور اختر شاہ نے مجھ پر حملے کی کوشش کی، جس پر اختر شاہ نے کہا کہ پاک فوج اور ججوں کے بارے میں کوئی بات کی گئی تو عدالت کے سامنے کہتا ہوں ایسے بندے کی ٹانگیں چیر دوں گا، عدالت نے وکلاء کے جملوں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت ہے اکھاڑہ نہیں، اکرم شیخ نے کہا کہ یہ جو کالی وردی پہنے بیٹھا ہے اختر شاہ اس کے پاس وکالت نامہ نہیں اس کو عدالت سے باہر نکالا جائے، جسٹس فیصل عرب نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ یہ کمرہ عدالت ہے اس کا مذاق نہ اڑایا جائے۔عدالت نے پیر تک اکرم شیخ کو اعتراض جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

اے ایف آئی سی کی جانب سے خصوصی عدالت میں پیش کی جانے والی میڈیکل رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی زندگی بچانے کے لیے فوری انجیو گرافی ضروری ہے تاہم پرویز مشرف پاکستان میں انجیو گرافی کرانے پر تیار نہیں، وہ بیرون ملک اپنی مرضی کے اسپتال سے انجیو گرافی کرانا چاہتے ہیں جب کہ انجیو گرافی سے متعلق فوری فیصلہ کرنا انتہائی اہم ہے۔