|

وقتِ اشاعت :   January 25 – 2014

کراچی: ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (س) کی کال پر ہڑتال کے بعد شہر میں معمولات زندگی بحال ہوگئی۔

علماء کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (س) کی کال پر علماء ایکشن کمیٹی نے کراچی میں جب کہ مجلس وحدت المسلمین نےسندھ بھرمیں یوم احتجاج اور ہڑتال کی کال تھی۔ ہڑتال کے باعث پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے تمام اسکولز بند رکھنے کا اعلان کیا جب کہ جامعہ کراچی، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی اوروفاقی اردو یونیورسٹی کےدونوں کیمپس سمیت تمام جامعات میں آج ہونے والے تمام پرچے بھی ملتوی کر دیئے گئے۔  ہڑتال کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہی جس کی وجہ سے دفاتر پہنچنے والے ملازمین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تاہم 3 بجے ہڑتال کی کال واپس لینے کے بعد شہر میں پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور دکانیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں جب کہ ٹرانسپورٹ اتحاد نے بھی بسیں سڑکوں پر لانے کا اعلان کردیا۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کی جانب سے مفتی عثمان یارخان پر حملے خلاف 17 جنوری کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔ کراچی میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور شہریوں کے مسلسل قتل عام کے خلاف ہڑتال کی اہلسنت والجماعت، جمعیت علمااسلام (ف)، جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان نورانی، وفاق المدارس، ختم نبوت، سواد اعظم سمیت دیگر جماعتوں نے بھی حمایت کی تھی۔