|

وقتِ اشاعت :   January 28 – 2014

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے مسلسل غیر حاضری پر اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو قومی اسمبلی وزیر اعظم بناتی ہے جو ریاست کی قیادت کرتا ہے، وزیر اعظم کا ایک ایک لفظ پالیسی بنتا ہے، آج ہمیں لیڈر کی ضرورت ہے اس لئے وزیر اعظم نواز شریف ایوان میں آکر عوام بتائیں کہ وہ ان کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج اپنی جماعت کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی لیکن ایوان میں آنا گوارہ نہ کرا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کیا وزیر اعظم صرف ایک جماعت کے وزیر اعظم ہیں، ہماری آنکھیں ترس گئی کہ کب وزیراعظم ہاؤس کا دروازہ کھلے اور ہم ان کو ایوان میں دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کو یقین دلاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، ہم آپ کو دلدل میں پھنسا کر سیاست نہیں کریں گے اور نہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے دیں گے۔

ایوان میں وزیراعظم کی مسلسل غیر حاضری پر تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اس وقت لیڈر شپ کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ وزیراعظم ایوان سے مسلسل غیر حاضر ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ طالبان کے خلاف اگر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس حوالے سے بتایا جائے، طالبان سے مذاکرات کی بات پر انہیں طالبان نواز کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں تو آئین کے تحت کئے جائیں، ہم قائداعظم کا پاکستان چاہتے ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر کوئی بھی رکن قومی اسمبلی ایوان سے مسلسل 40 روز تک غیر حاضر رہے تو اس کی نشست خالی قراردے دی جاتی ہے لہٰذا وزیراعظم کی نشست قانون کے مطابق خالی قرار دی جائے۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف ایوان میں آنے سے خوفزدہ نہیں بلکہ وہ اس کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے آج دہشت گردی پر مشاورت کے باعث ایوان میں آمد ملتوی کی تاہم وہ جلد اجلاس میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان سے براہ راست رابطہ ہوا اور حکیم اللہ محسود کا ہمارے نام خط بھی موجود ہے تاہم اس وقت بھی کئی طالبان گروپوں نے حکیم اللہ محسود سے رابطے سے منع کیا، مذاکراتی عمل ڈرون حملوں کے باعث پٹڑی سے اتر اور حکیم اللہ محسود پر حملہ کرکے مذاکرات کو سبوتاژ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آج بھی طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں لیکن اگر دوسرا فریق راضی نہ ہو تو مذاکرات کیسے کئے جاسکتے ہیں اور اگر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوا تو نہ مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ ہی آپریشن۔