|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2014

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے موثراستعمال کے ذریعے اور آگہی پیدا کرکے ایس ایم ای فنانس کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

وہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک میں تمام بینکوں اورمائیکروفنانس بینکوں کے صدوروسی ای اوز کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کاروباری حکمت عملی کی اس طرح تشکیل نو کریں کہ ہونہار نوجوان میرٹ کی بنیاد پر اپنا کاروبار شروع کرنے یا اس میں توسیع کے لیے مالکاری حاصل کرسکیں۔ حال ہی میں اعلان کردہ وزیر اعظم کے یوتھ بزنس لونز پروگرام کا، جو ابتدا میں نیشنل بینک اور فرسٹ ویمن بینک کے ذریعے شروع کیا گیا ہے حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تمام بینکوں پر زور دیا کہ وہ نئے نوجوان کاروباریوں کی وسیع مارکیٹ جس سے ابھی تک استفادہ نہیں کیا گیا کے پیش نظر اسکیم میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو چاہیے کہ وہ 29 نومبر 2013 کو جاری کردہ اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی اقدام کے تحت اپنی سالانہ رپورٹوں میں ایسی مالکاریوں کو رپورٹ کریں۔

یاسین انور نے جنوری تا دسمبر 2013 کے دوران شعبہ بینکاری میں ہونے والی مختلف کامیابیوں کو اجاگر کیا جو معاشی محاذوں پر مختلف مشکلات کے باوجود حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت کے دوران اسٹیٹ بینک کی فعال کوششوں کے ذریعے مالی استحکام حاصل کیا گیا جو موڈیز کی پاکستان سے متعلق ریٹنگ میں بہتری سے ظاہر ہے جو منفی سے مثبت ہوگئی۔ برانچ لیس بینکاری اور مالی شمولیت میں پاکستان کی کامیابیوں کے بارے میں بھی بینکاروں کو بتایا گیا۔ بینکاری سے متعلق بعض دیگر امور کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس 2001 کے سیکشن 15 کے خاتمے کے مضمرات پر بامعنی تجاویز دیں جس سے بینکوں کے قرضوں کی وصولی کی جاسکے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں گرین بینکنگ کی ترویج کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شمسی اے ٹی ایمز کی مثال کا حوالہ دیا جو بینک الفلاح اور بخش انرجی کے درمیان طے پانے والی ایک یادداشت کے تحت نصب کی گئی ہیں۔ گورنر نے نئے ڈپٹی گورنر سعید احمد کا بینکاروں سے تعارف بھی کرایا۔