|

وقتِ اشاعت :   April 4 – 2014

اسلام آباد : وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ بلوچستان کی ترقی اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں تمام وسائل بروے کار لائے جارہے ہیں ماضی کی گئی بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی کے ازالہ کیلئے کوئی دقفہ فروگزاشت نہیں کرینگے انشاء اللہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا سمیت پورے ملک کو امن کا گہوارہ بنائینگے ۔ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل نے جمعرات کو یہاں اسلام آباد میں وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی جس میں بلوچستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ بلوچستان کی ترقی اولین ترجیح ہے اس سلسلے میں تمام وسائل بروے کار لائے جارہے ہیں ماضی کی گئی بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی کے ازالہ کیلئے کوئی دقفہ فروگزاشت نہیں کرینگے انشاء اللہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا سمیت پورے ملک کو امن کا گہوارہ بنائینگے۔دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ کے مطابق پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی اس موقع پر پارٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ‘ آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ساجد ترین ‘ رکن صوبائی اسمبلی حمل بلوچ بھی موجود تھے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان کے جملہ مسائل جن میں لاپتہ افراد ‘ مسخ شدہ نعشیں ‘ سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ ‘ ڈیتھ سکواڈ کی ریاستی سرپرستی اور بی این پی کے موجودہ دور حکومت میں 16رہنماؤں و کارکنوں کی جھالاوان میں ٹارگٹ کلنگ اور بلوچستان کو عملاً سیکورٹی فورسز کے ذریعے چلانے ‘ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل و غارت گری ‘ انسانی حقوق کی پامالی ‘ اجتماعی قبروں کے تاریخی انسانیت سوز واقعات سمیت بلوچستان کے دیگر سیاسی و سماجی معاملات بالخصوص نواب ارباب عبدالظاہر کاسی کی عدم بازیابی کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور وزیراعظم کے سامنے پارٹی کا موقف رکھا گیا کہ بلوچستان کے معاملات کو ماضی کی طرح حل کرنے کے بجائے مزید گھمبیر بنا کر طاقت کے ذریعے بحران کی جانب دھکیلا جا رہا ہے یہ تمام معاملات حل طلب ہیں مشکل حالات میں پارٹی نے تمام تر تحفظات کے باوجود عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اس یقین و امید کے ساتھ کہ شاید بلوچستان کے جملہ اور اہم مسائل کو حل کیا جائیگا لیکن 10ماہ کے دوران بلوچستان کے مسائل مزید گھمبیر ہو چکے ہیں یہ امر یقینی ہوتا جا رہا ہے کہ اگر معاملات اسی طرح رہے تو پارٹی بلوچستان کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بار پر پارلیمنٹ سے مستعفی ہو کر عوام کے پاس جانے کو ترجیح دی گی کیونکہ پارٹی موقف یہی ہے کہ ان حالات میں بلوچ قوم کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک و ناانصافیوں ‘ انسانی حقوق کی پامالی اور بلوچستان کے جملہ مسائل جنہیں دانستہ طور پر حل نہیں کیا جا رہا ان حالات میں بلوچ قوم کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ ہماری جدوجہد کا محور و مقصد بلوچستان کے قومی اجتماعی مفادات اور سرزمین پر ہونے والے ناانصافیوں کیخلاف جدوجہد کرنا ہے بی این پی کے سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روکنے کے بجائے تیزی سے جاری ہے پارٹی رہنماء عطاء اللہ محمد زئی ‘ نو منتخب کونسلر یوسف بلوچ ‘ عبدالکریم مینگل کی ٹارگٹ کلنگ اور میر پسند خان ماندائی سمیت کئی کارکنوں ہنوز لاپتہ ہیں ان حالات میں پارٹی مزید خاموش نہیں رہے گی اب بھی اگر حکمرانوں نے بلوچستان کے معاملات کو سنجیدہ نہ لیا اور حالات کی احساسات کو نہ پھرکا تو پارٹی ان حالات میں پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی بجائے بلوچ عوام کے احساسات ‘ جذبات کو ترجیح دیتے ہوئے مستعفی ہو جائے گی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن بلوچستان صوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی تنخواہ کیلئے نہیں بیٹھ سکتا استعفیٰ دینے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں حالات میں تبدیلی اور بہتری کے دعوؤں کیلئے یہی کافی ہے کہ 2014ء میں میں اپنے آبائی علاقے خضدار نہیں جاسکتا نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی یقین دہانیوں پر جمہوری عمل کا حصہ بنے لیکن تمام تر یقین دہانیوں کے بعد ہمارے خدشات و تحفظات کو دور کرنے اور حالات کی بہتری کیلئے ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے گئے بلوچستان کے مسائل کے حل سے متعلق پیش رفت کیلئے لاپتہ افراد کی بازیابی انتہائی ناگزیر ہے لیکن ستم ظریفی ہے لاپتہ افراد کی بازیابی تو درکنار اب تو ان کی اجتماعی قبریں مل رہی ہیں یہ واقعی تبدیلی ہے کہ ماضی میں ہمیں ایک آدھ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاش ملتی تھی اب اجتماعی قبروں کی دریافت ہورہی ہے انصاف کیلئے ہم نے عدالتوں کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا لیکن وہاں بھی ہمیں پیشی پر پیشی کے سوا کچھ نہیں ملا کسی بھی واقعہ پر عدالتی احکامات پر جب ہم نے ایف آئی آر درج کرانا شروع کیں تو اگلے روز ایف آئی آر درج کرانے والے کو ہی ہدف بناکر شہید کردیا گیا ایسے حالات میں ہم کہاں جائیں اور کیوں کر حکومتی یقین دہانیوں پر کوئی اعتبار کریں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زور آور اور باثر قوتوں نے تو ہمیں جمہوری عمل سے دور رکھنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی حالانکہ ہم نے انتخابات سے قبل ہی اپنے خدشات و تحفظات کا اظہار کیا لیکن انہیں دور نہیں کیا گیا اور انتخابات کے دوران ہمارے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے ہمارے نتائج روکے گئے تبدیل کئے گئے اور ہمیں شکست سے دوچار کیا گیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومتی یقین دہانیوں پر اعتبار کرنا اپنی سیاست داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا اس لئے یہ سودا مہنگا ہے ہم صرف اور صرف اسمبلی میں تنخواہ کے حصول کیلئے نہیں بیٹھ سکتا اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوگا اور ماضی میں جب نواب محمد اکبر خان بگٹی کو شہید کیا گیا تو بی این پی واحد جماعت تھی جس نے اسمبلی سے استعفیٰ دیا اور اس عمل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اب بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ظلم جبر اور زیادتی کے خلاف ہم اپنا ہر ممکن احتجاج کریں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خضدار میں حالات کی بہتری کے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھولنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ 2013ء میں کوئی بھی صحافی خضدار جاسکتا تھا لیکن آج 2014ء میں میں بذات خود خضدار نہیں جاسکتا خضدار جو میرا حلقہ انتخاب اور آبائی علاقہ ہے۔