|

وقتِ اشاعت :   April 4 – 2014

لاڑکانہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں جہالت کے اندھیرے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آنکھوں والے مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں۔

گڑھی خدا بخش میں پیپلزپارٹی بانی  اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلال بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج پنجاب کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر ذوالفقار علی بھٹو ہوتے تو یہ حال نہ ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ اس سورج کو بجھا دیا گیا جس کا مقصد ہمیں اندھیروں میں رکھنا تھا۔ جہالت کے اندھیرے آج اتنے بڑھ چکے ہیں کہ آنکھوں والے مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں۔ ہمیں جہالت کے اندھیروں کی نہیں بلکہ روشنی کی ضرورت ہے آج پاکستان کو پھر ایک بھٹو کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کرنے والوں نے پہلے بھی دھوکا دیا اور اب بھی دھوکا دیا جارہا ہے لیکن دہشت گرد سن لیں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ابھی زندہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف بے یقینی ہے۔ ایک طرف دہشت گرد ہیں جو ہم سے ہماری شناخت پہنچان اور ہمارا وجود تک چھین لینا چاہتے ہیں، دوسری طرف ہماری تہذیب اور معیشت دم توڑ رہی ہے جب کہ سیاست ذاتی مفادات تک محدود ہوچکی ہے، ہم نے کونسی غلطی کی ہے کہ تاریخ ہمیں معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں، ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہمارے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور 35 سال پہلے ہم اس سورج سے محروم ہوگئے جو قوم کو روشنی فراہم کررہا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک وجود نہیں بلکہ ایک فلسفہ تھا، ایک طرف وہ تھے جو پاکستان کے مخالف تھے اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جو روشنی کی علامت تھے جس کی ایک آواز پر پوری قوم ایک ہو کر دنیا میں جینا چاہتی تھی لیکن ہمارے نام نہاد منصفوں نے انہیں پھانسی پر لٹکا دیا، وہ انسان غریب کا سہارا اور سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پسنے والے مزدوروں کی آواز تھا۔ وہ تھا تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں تھی۔ انہوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔

پیپلزپارٹی کے چیرمین نے کہا کہ حکومت پرائیویٹائزیشن کے نام پر ہمارا گھر بیچنے کی تیاری کرہی ہے، یہ منصوبہ پراویٹائزیشن کا نہیں بلکہ پرسنلائزیشن کا ہے جو ہم ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی دلیل یہ ہے کہ حکومت کے پاس پیسہ نہیں جس کے باعث ادارے نہیں چل سکتے لہذا نج کاری ضروری ہے لیکن کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں اس حکومت سے یہ ملک نہیں چل رہا تو کیا یہ اس ملک کو بھی فروخت کر دیں گے۔