|

وقتِ اشاعت :   April 4 – 2014

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں7ملین بچے اسکول نہیں جاتے جن میں سے 60فیصد بچیاں ہیں ، بلوچستان میں 12ہزار سے زائد اسکولوں میں سے 6ہزار اسکولز سنگل روم اور سنگل ٹیچر اسکول ہیں ،بلوچستان حکومت نے صوبے میں کلسٹر سسٹم اسکول مینجمنٹ کے قیام اور ہائی اسکولز میں کمپیوٹر لٹریسی کی شرح میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ، ہائی اسکولز کو انٹر کا درجہ دینے کے لیے بھی پالسی مرتب کی جاری ہے ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں شکایت سیل کا قائم کیا جائے گا ،50ہزار سے زائد اساتذہ کو ٹریننگ کی جائے گی ، بلوچستان 5کلو میٹر پر ایک اسکول موجود ہے ، صوبے میں شرح تعلیم میں اضافے کے لیے مزید 13ہزار اسکولوں کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کااظہار صوبائی مشیر تعلیم بلوچستان رضا و دیگر نے غیر سرکاری تنظیم مشعل اور علم و آگاہی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا مشیر تعلیم نے کہا کہ بلوچستان حکومت فروغ تعلیم کے لیے بھر پور اقدامات اٹھار ہی ہے صوبے میں رواں مالی سال بجٹ میں 3سو نئے اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور اساتذہ پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیے ایک کلسڑسسٹم اسکول مینجمنٹ کا نظام متعارف کرایا جارہا ہے جس کے تحت بلوچستان میں ہائی اسکولز علاقے کے مڈل اور پرائمری اسکولز کی نگرانی کریں گے ساتھ ہی محکمہ تعلیم میں شکایات سیل قائم کیا جائے گا ان شکایا ت کا نوٹس کلسٹر اسکولز سسٹم مینجمنٹ لیں گے انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے لیے ہائی اسکولزکو کمپیوٹرز اور ملٹی میڈیافراہم کئے جائیں گے بلوچستان میں ہائی اسکولز کی تعداد 947ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ ان ہائی اسکولز میں انٹر کی تعلیم بھی فراہم کی جائے مشیر تعلیم نے کہا کہ ان منصوبوں کو پہلے مرحلے میں کوئٹہ اور ضلع پشین میں شروع کیا جائے گا اور اس کی کامیابی پر صوبے بھر میں ان منصوبوں کا آغاز کیا جائے گاگھوسٹ اسکولوں کا خاتمہ بھی کلسٹر اسکولز سسٹم کے تحت ممکن ہے حکومت اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کررہا ہے صوبے میں اساتذہ کمی امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث پیش آرہی ہے مگر حالات اتنے بھی خراب نہیں کہ اساتذہ یہاں نہ آئیں انہو ں نے کہا کہ بلوچستان میں 52ہزار اساتذاہ کو تربیت دینا کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے اس خلاء کو پورا کرنے میں مدد ملے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئرصحافی مبشر ،سلیم شاہد،رضاالرحمان،علی شاہ ، علم و آگاہی کے پروگرام منیجر آصف فاروقی ،واصف عمران ،گوگل بزنس گروپ اسلام آبادکے احسن مختار و دیگر نے ایجوکیشن رپورٹنگ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دیگر واقعات کے ساتھ میڈیا کو ایجوکشن کے مسائل کوبھی رپورٹ کرناہوگا ، تعلیمی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،جی ڈی پی ایجوکشن 2فیصد ہے مگر 2015تک اسے 7فیصد ہونا چائیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔