|

وقتِ اشاعت :   April 4 – 2014

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ فارورڈ بلاک کے اراکین سے ملاقات کریں گے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ وزارتوں کے لئے بلیک میل کرلے گا تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔

الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان حقیقی جمہوری کی جانب تقریباً پہنچ گیا، ملک میں میڈیا اور عدلیہ آزاد لیکن صاف شفاف الیکشن کی کمی ہے جو حقیقی جمہوریت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک دھاندلی اور پیسے کے ذریعے اسمبلیوں میں آنے والوں کو روکا نہیں جاتا ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ووٹوں سے آنے والے ملک میں کبھی تبدیلی نہیں لاسکتے اور نہ ہی کرپشن ختم کرسکتے ہیں اور پاکستان کی موجودہ حالت کے ذمہ دار بھی یہی دو نمبر لوگ ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی الیکشن کمشنر سے ملاقات بہت اچھی رہی اور انہوں نے بھی صاف شفاف الیکشن کے حوالے سے ہمارے مؤقف کی تائید کی، خیبر پختونخوا کی حکومت 30 اپریل کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے تیار ہے اور ہم نے الیکشن کمشنر سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے کرانے کی گزارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو ہماری 70 انتخابی عذرداریوں کی درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں زیر سماعت ہیں لیکن ہم نے آج الیکشن کمشنر سے صرف 4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کی گزارش کی ہے اور جن پریزائیدنگ اور ریٹرننگ افسران نے دھاندلی کے لئے راہ ہموار کی ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے اور انہیں جیلوں میں بھیجا جائے۔

تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے اراکین سے ملاقات کریں گے اور ان کی بات سنیں گے، اگر انہیں کسی چیز پر اعتراض ہے تو احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وزارتیں لینے کے لئے مجھے بلیک میل کرسکتا ہے تو وہ بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہے، ایسا کرنے کے بجائے ہم اسمبلی تحلیل کرنے کو ترجیح دیں گے اور دوبارہ الیکشن کرائیں گے۔