|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2014

ایران کی پارلیمنٹ نے ایران کے پاکستان کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت دونوں ملک انسداد دہشت کی کارروائیوں میں تعاون کر سکیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے بارے میں اس معاہدے کو ایران کی پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر منظور کیا۔

اس معاہدے کے بعد دونوں ملک خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ بھی کر سکیں گے۔ معاہدے میں یہ بھی درج ہے کہ دہشت گردوں اور جرائم پشیہ عناصر کی شناخت، اس کا تعاقب اور ان کے خلاف کارروائیوں میں بھی دونوں ملک تعاون کریں گے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ملکوں میں تعاون بین الاقوامی پولیس کے قوانین اور دونوں ملکوں کے متعلقہ قوانین کے تحت ہوگا۔

ایران پارلیمان کے رکن سید حسین نقوی حسینی نے ایک مقامی خبررساں ادارے کو بتایا کہ یہ معاہدے گزشتہ سال حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا اور اس پر پارلیمان کی خارجہ امور کی کمیٹی اور قومی سلامتی کی مجلس میں بحث اور غور و خوض کے بعد پارلیمان میں توثیق کے لیے لایا گیا۔

دریں انثاء ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اس کے چار سرحدی محافظ جنہیں بلوچستان سیستان کے علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا، رہائی پانے کے پاس اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

ان محافظوں کو چار ماہ قبل جیش عدل نامی ایک شدت پسند گروہ نے اغوا کر لیا تھا اور پاکستان کے علاقے میں کسی نامعلوم علاقے میں رکھا ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کسی مقامی سنی رہنما نے ان محافظوں کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پانچویں مغوی محافظ کی لاش بازیاب کرنے کی کوشش میں ہیں جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اسے جیش عدل کے لوگوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

ایرانی حکومت نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ اگر مغوی محافظوں کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان نے کچھ نہ کیا تو پھر ایران سکیورٹی فورسز پاکستان کی سرحد کے اندر کارروائی کریں گی۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے سرحدی محافظین کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

حسن روحانی سے منسوب کی جانے والی ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’ہمارے چار ہیرو بلآخر گھر پہنچ گئے ہیں لیکن ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک باقی مغوی بھی ایران کی سرزمین پر واپس نہیں پہنچ جاتے۔‘