|

وقتِ اشاعت :   April 9 – 2014

آئے دن کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں جس کا واضح مقصد عوام کو تکلیف پہنچانا اور کاروبار زندگی کو مفلوج بنانا ہوتاہے ۔ احتجاج یا دھرنے کا اثر حکومت ‘ اعلیٰ حکام پر پڑے یا نہ پڑے سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کو پریشان ہونا پڑتا ہے ۔ ان میں عورتیں ‘ بچے ‘ بیمار ‘ مسافر جو وقت پر ریلوے اسٹیشن یا ائیر پورٹ پہنچنا چاہتے ہیں ۔ سڑکوں کو بلاک کرنا اور آمد و رفت میں رخنہ ڈالنا جرم ہے اور احتجاج کرنے والے لوگ اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں ۔ مگر یہ دیکھا گیا ہے کہ صوبائی انتظامیہ صرف ایک تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ چند لوگ احتجاج کے نام پر لاکھوں شہریوں کو پریشان کرتے رہتے ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تمام یونینوں کو فوراً ختم کیا جائے کیونکہ سرکاری ملازم ‘ خواہ کوئی بھی ہو، یونین نہیں بنا سکتا اور نہ ہی اس کو اجتماعی سودے بازی کا حق حاصل ہے ۔ یہ حق صرف اور صرف نجی ملازمین کوحاصل ہے کہ وہ یونین بنائیں اورا جتماعی سودا کاری کریں ۔سرکاری ملازم حکومت کے ڈسپلن کے پابند ہیں اگر ڈسپلن نہیں تو کل کو محکموں کے سیکرٹری اور چیف سیکرٹری بھی ہڑتال پر جائیں اور اس کے لئے کوئی بہانہ بنائیں ۔حکومت کو ایک واضح پالیسی اختیار کرنی چائیے کہ سرکاری ملازم یونین نہیں بنا سکتے اور نہ ہی ہڑتال کرسکتے ہیں اور نہ ہی دباؤ کے ذریعے اجتماعی سودا کاری کرسکتے ہیں ۔
اگر اس بات پر عمل درآمد کیا جائے تو صوبائی انتظامیہ کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔ یہ سرکاری ملازم صرف ذاتی طورپر اور متعلقہ حکام کے سامنے اپنے مسائل رکھے‘ نہ کہ اجتماعی سودا کاری کیلئے ‘ گزشتہ سالوں صرف واسا کے سات اہلکاروں نے زرغون شاہراہ کو پانچ گھنٹوں تک بند کیا ۔ احتجاج کے لئے وہ زمین پر لیٹ گئے اور ٹریفک کو بلاک کردیا ۔ ان کے انتہائی معمولی مطالبات تھے بلکہ غیر اہم مگر اس کے باوجود انہوں نے لاکھوں انسانوں کو یرغمال بنا لیا ۔ بچے ‘ بوڑھے ‘ طالب علم ‘ سرکاری ملازم پریشان ہوگئے ۔ لاکھوں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل سڑکوں پر ضائع ہوگیا ۔کام کے لاکھوں گھنٹے ضائع کیے گئے ۔ پولیس اور انتظامیہ سڑک کے دوسرے کنارے تماشا دیکھتی رہی ۔ پولیس آسانی کے ساتھ ان چند احتجاج کرنے والوں کو اٹھا کر فٹ پاتھ پر پہنچا دیتے اور ٹریفک کو رواں کیا جا سکتا تھا اور لوگوں کی پریشانیاں کم ہوسکتی تھیں ۔ چونکہ حکام اعلیٰ میں کسی کو بھی عوامی مشکلات سے دلچسپی نہیں تھی ، ہر آدمی وزیراعلیٰ کی طرف دیکھتا تھا ۔ لہذا قانون شکنوں خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ گزشتہ روز بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا ۔احتجاجی مظاہرین نے سڑک کوبلاک کردیا اور ٹریفک کی روانی روک دیی ۔ معلوم ہوا کہ مطالبات کے حق میں چند لوگ احتجاج کررہے ہیں ۔ اس روز اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچے تین گھنٹے تاخیر سے واپس گھر پہنچے اور ان کے والدین پریشان رہے ۔ حکومت خصوصاً صوبائی انتظامیہ ‘ سڑک بند کرنے کی سیاست کی سرپرستی مکمل طورپر بند کرے اور احتجاج کرنے والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے عوام الناس کو سزائیں نہ دے۔ پہلے تو سرکاری ملازم کو احتجاج کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر کوئی سرکاری ملازم احتجاج کرے اس کو فوراً گرفتار کیا جائے اور اس کو عدالت میں سزا دلائی جائے تاکہ اس کو ملازمت سے برخاست کیاجاسکے۔ سرکاری ملازم قانون اور رولز کے مطابق اپنے مطالبات متعلقہ اور مجاز حکام کے سامنے پیش کرے ۔ اس کو سڑک پر احتجاج کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چائیے۔ باقی لوگوں کے لئے ایک مخصوص خطہ ‘ علاقہ متعین کیا جائے جہاں وہ اپنا احتجاج شریفانہ انداز میں درج کرائیں ۔ ان کو بھی یہ اجازت نہیں ہونی چائیے کہ وہ سڑکوں کو بلاک کریں اور لاکھوں انسانوں کو پریشان کریں۔ یہ مخصوص علاقہ ہاکی اسٹیڈیم ‘ نواب نوروز خان اسٹیڈیم وغیرہ ہوسکتے ہیں ۔
بہر حال یہ صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی شخص ٹریفک کی روانی میں کسی بھی بہانے خلل نہ ڈالے ایسے لوگوں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور ٹریفک کی روانی فوراً بحال کی جائے تاکہ عوام الناس کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔