|

وقتِ اشاعت :   April 9 – 2014

کراچی: پاکستان نے عالمی اوپن مارکیٹ میں 2 ارب ڈالرز کے یورو بانڈز جاری کردیئے جس کی خریداری میں سب سے زیادہ امریکی سرمایہ کار سرگرم رہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 10 سالہ یورو بانڈز کی خریداری میں 61 فیصد سرمایہ کاروں کا تعلق امریکا سے ہے جبکہ 21 فیصد کا برطانیہ، 12 فیصد کا تعلق یورپی ممالک ، 5 فیصد کا تعلق ایشیائی ممالک اور 1 فیصد کا تعلق خلیجی ممالک سے ہے جبکہ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تحقیقی تجزیہ کار ذیشان افضل کے مطابق حکومت نے 7 اعشاریہ 25 فیصد کے شرح سود پر 5 سالہ بانڈز کے ذریعے ایک ارب ڈالر حاصل کئے جو امریکا کے ٹریژری ریٹ سے 558 بنیادی پوائنٹس اضافی ہیں جبکہ ایک ارب ڈالر 8 اعشاریہ 25 فیصد کے شرح سود پر 10 سالہ بانڈز کے اجرا سے اصل کئے گئے جو امریکی ٹریژری ریٹ سے 556 بنیادی پوائنٹس سے زائد ہیں۔

وزارت خزانہ کے ترجمان رانا اسد امین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں 5.2 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کی پیش کش آئی تھی جس میں سے 2 ارب ڈالر کی پیش کش منظور کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد ہے۔

رانا امین کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے جاری کئے جانے والے یوروبانڈز کی خریداری میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کیلئے دبئی، لندن اور نیویارک کا دورہ کیا جبکہ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کی سربراہی میں معاشی ٹیم نے سنگاپور، ہانگ کانگ، لوس انجیلس، سین فرانسسکو اور بوسٹن کا دورہ کیا جہاں مختلف سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تحقیقی تجزیہ کار ذیشان افضل کا مزید کہنا تھا کہ سود کی شرح امریکی شرح سود سے زائد اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ سرمایہ کار پاکستانی بانڈز میں زیادہ دلچسپی لیں جبکہ یورو بانڈز کے ذریعے 2 ارب ڈالرز حاصل کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بحال ہوا ہے اور حکومت کے اقتصادی حالات میں بہتری کے لئے اصلاحاتی پروگرام کو عالمی مارکیٹ میں بھی سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کے اجرا سے حکومت کو تھری جی لائسنس کی فروخت اور نجکاری عمل میں بھی فائدہ ہوگا اور اس سے روپے کی قدر بھی مستحکم ہوگی۔

واضح رہے کہ 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 10 سالہ بانڈز 6.75 فیصد شرح سود پر جاری کئے گئے تھے جو اس وقت امریکی ٹریژری قیمت سے 3.25 فیصد زیادہ تھے۔