|

وقتِ اشاعت :   April 10 – 2014

اسلام آباد: سیکورٹی ماہرین اس بات پر چاہے بحث کرتے رہیں کہ بدھ کو اسلام آباد کی سبزی منڈی میں دھماکا کس نے اور کیوں کیا، تاہم واقعے میں شکار ہونے والے افراد کے ذہنوں کی پریشانیاں کچھ اور ہیں۔

سبزی منڈی میں کام کرنے والے محنت کش خوشی محمد بم دھماکے میں جان بچ جانے پر خوش تھے تاہم وہ بدھ اور آگے آنے والے دنوں کی دہاڑی کو لیکر فکر مند ہیں۔

‘ہماری آج (بدھ)کی دہاڑی تو گئی، اگر کل احتجاج کیا گیا تو ہمارا کیا ہوگا۔’

اور توقعات کے مطابق انجمن ہول سیل فروٹ کمیشن ایجنٹس نے جمعرات کو حکومت کی جانب سے سیکورٹی نہ ملنے پر ہڑتال کی کال دے دی۔

یہ الگ بات ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر منڈی میں کام کرنے والے سینکڑوں غریب مزدور ہی ہوئے، جو تقریباً 300 روپے یومیہ یہاں سے کماکر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

دھماکے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ کئی ایسے افراد بھی ہیں جو صدمے کی کیفیت سے دوچار ہیں تاہم اس کے باوجود کئی افراد نے اس مشکل گھڑی میں بھی دوسروں کی مدد کو ترجیح دی۔

ساہیوال سے تعلق رکھنے والے عمر دراز کا کہنا تھا ‘میں نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا، میں اس خوفناک آواز اور برے خواب کو بھلا نہیں پارہا۔’

یہ برا خواب دھماکے کی شدت کے باعث انسانی سر کا عمر دراز سے ٹکرانا تھا۔

‘میں اب بھی اس کا وزن محسوس کرسکتا ہوں، اس کے (سر ٹکرانے) بعد میرے اندر عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن میں نے خود سے کہا کہ مجھے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے دوسروں کی مدد کرنی چاہیئے جن سے میں روز ملتا ہوں۔’

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک شخص کے الفاظ تھے: نیلامی میں خریدے گئے میرے پھلوں کا خیال رکھنا۔

عمر کی طرح دیگر کئی افراد کے احوال بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔

دوسری جانب کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر بابو علیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس تحقیقات کرنے کے بجائے ان پر ہی الزام عائد کررہی ہے۔

‘اگر ہم لاپرواہ ہیں یا دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں تو ایسا کیسے ہوگیا کہ آج تک پھلوں کی پیٹیوں میں کبھی افغانستان سے ایک گولی تک اسمگل نہیں ہوئی؟’

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ماہ آموں کی پیٹیوں کی آمد کے ساتھ خطرہ مزید بڑھ جائے گا اور حکام تاجروں کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں۔