|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2014

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ جو لوگ صرف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو مجرم قرار دے رہے ہیں اور باقی کو نہیں وہ خود بھی آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کے مجرم ہیں۔

لندن سے کراچی میں نذیر حسین یونی ورسٹی کے نئے کیمپس کی افتتاحی تقریب سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میرا وطن تھا، ہے اور زندگی بھر رہے گا،میرے دل سے وطن کی محبت کوئی کم نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاسپورٹ بنوانے کےلئے درخواست دے دی ہے لہذا تمام لوگ یہ سن لیں میں کسی بھی دن پاکستان آسکتا ہوں، میں نے 4 اپریل 2014 کو شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بنانےکے لئے درخواست دائر کی اگر میرا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہیں بنا تو میری لیگل ٹیم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے گی جب کہ پاسپورٹ نہ بننے پر عوام بھی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔

الطاف حسین کا کہنا تھاکہ آرٹیکل 6 کے تحت صرف پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے والے خود آرٹیکل 6 کے مجرم ہیں، آرٹیکل 6 میں صرف پرویز مشرف کے علاوہ کسی اورکو کیوں نہیں پکڑا گیا حالانکہ پرویز مشرف کا جہاز لینڈ کرنے سے پہلے حکومت چھیننے والے بڑے مجرم ہیں، پرویز مشرف کا جہاز لینڈ ہونے سے پہلے نواز شریف کو گرفتار کرنے والوں کوبھی سزا دی جائے۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ کچھ اینکرز پرسن کہتے ہیں پاکستان کے خراب حالات کی ذمہ دار  فوج ہے اور مشرقی پاکستان بھی فوج کی وجہ سے علیحدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاک فوج پر کیچڑ اچھال رہے ہیں وہ نہ تو  فوج اور نہ ہی پاکستان کے دوست ہیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ عزت کرو اور عزت لواگر میرے اوپر کڑا وقت ہے تو اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ، اللہ نے مجھے موقع دیا تو بدلہ لینے کے بجائے معاف کروں گا۔

الطاف حسین نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے ہم پر الزام لگایا گیا کہ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم چاہتی ہے لیکن ایم کیوایم نہ تو سندھ میں دیہی شہری تقسیم کی ذمہ دارہے اور نہ اس نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ کوٹہ دیا گیا لیکن ہم نے اس کی مخالفت نہیں کی کیونکہ ہم سندھ دھرتی سے محبت کرتے ہیں، سندھی بولنے والے ہمارے بھائی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احساس محرومی کا ازالہ کیاجائے اور سندھ کے تمام عوام کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق دیے جائیں ۔ پاکستان اور سندھ کی بھلائی اسی میں ہے کہ جیو اور جینے دو۔