|

وقتِ اشاعت :   April 13 – 2014

حیدرآباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت یا حکومت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ فوج تمام اداروں کے تقدس کا خیال رکھے گی اور خود اپنے ادارے کے وقار اور ادارہ جاتی فخر کو برقرار رکھے گی۔

قاسم آباد میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سالانہ عشائیے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر جمہوری عمل کو کسی بھی قسم کا خطرہ ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی وزیر اعظم نواز شریف کی حمایت کرے گی۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے پاکستان کی ناپختہ جمہوریت کو ایک بچے کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور انہیں صحیح بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو 65 سال کے دوران آمریت یا کمزور جمہوریت کا سامنا رہا لیکن اب ملک میں جمہوریت پھل پھول رہی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ سے سندھ حکومت میں اتحاد کے حوالے سے سوال پر خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت مارشل لا کے حوالے سے اپنے بیان کو خود رد کر چکی ہے اورصوبے میں تمام تر اقدامات عوام کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور حکومت کو مسلمان ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے طالبان سے کامیاب کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔