|

وقتِ اشاعت :   April 13 – 2014

کراچی: غداری کے مقدمہ کا شکار سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اتحادیوں نے انہیں بچانے کے لیے میدان میں کودتے ہوئے ایک بار پھر سابق فوجی آمر سے اپنی وفاداری ظاہر کر دی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سربراہ الطاف حسین نے کہا کہ جو لوگ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت صرف جنرل مشرف کو مجرم قراردے رہے ہیں اور باقی کو نہیں وہ خود بھی آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کے مجرم ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کو اس وقت سنگین غداری کے مقدمے اک سامنا ہے جس میں ان پر ایمرجنسی کا نفاذ اور پاکستان کی مختلف عدالتوں کے اعلیٰ ججز کو عہدوں سے ہٹانے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ جس وقت نوازشریف کی حکومت ختم کرکے انہیں گرفتارکیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا، وہ زمین پر موجود نہ تھے اور دیگر لوگ حکومت کے خاتمے میں مصروف تھے لیکن آئین شکنی کا مقدمہ صرف جنرل مشرف پر چلایاجارہا ہے ۔اعانت اور معاونت میں شریک دیگر تمام افراد کوچھوڑدیا گیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔

الطاف نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جن لوگوں نے مشرف کا طیارہ زمین پر اترنے سے قبل اقدامات کیے ان کے خلاف بھی مقدمہ چلا کر سزا دی جائے۔

ہفتہ کے روز اپنے والد کے نام سے موسوم نذیرحسین یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی دن پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ میں ان آئینی وقانونی ماہرین کا احترام کیسے کروں جو جرم کرنے والے کسی ایک فرد پر تو قانون لاگو کریں لیکن اسی جرم کے مرتکب دوسرے فرد کو بری قرار دے دیں؟۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت نے کہا کہ آرٹیکل چھ کے حوالے سے بات کرنے والے آرٹیکل 63 کا بھی مطالعہ کر لیں۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان وزرا کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے پاکستانی فوج کے لاف نازیبا زبان استعمال کی۔

پی ایل ق کے سربراہ نے کہا کہ آرٹیکل 6 غداری نہیں آئین شکنی کے زمرے میں آتا ہے اور پرویز مشرف کو آرٹیکل چھ کے ذریعے غداری کے مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے۔

اسی طرح پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے بھی مشرف کے خلاف مقدمے کو تصب پر مبنی قرار دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف عدالتی کارروائی کی آڑ میں ذاتی دشمنی نکال رہے ہیں۔

گیارہ مئی 2013 کو پاکستان کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے منہاج القرآن فاؤنڈیشن کے سربراہ نے آئندہ ماہ گیارہ مئی کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔

انہوں نے وفاقی وزرا پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ مشرف نہیں بلکہ فوج کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں اور مطالبہ کیا کہ اگر سابق صدر کا احتساب کرنا ہے تو کارروائی بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے شروع کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر احتساب کرنا ہے تو وزیروں، جرنیلوں، ججوں اور پارلیمنٹ سب کا ہونا چاہیے۔