|

وقتِ اشاعت :   July 5 – 2014

آئین کو ملک کی اہم اور مقدس دستاویز ماننے پر تو سبھی ذی شعور متفق ہیں ،لیکن مجھ سمیت بہت کم لکھنے abid mirوالے ہوں گے جنھوں نے ملک کی اس اہم ترین اور مقدس دستاویز کا عرق ریزی سے تو دور کی بات، سرسری مطالعہ بھی کیا ہو۔ بالخصوص وہ جو اسے ’محض کاغذ کا ایک چیتھڑا‘ کہتے ہیں ، ان سے اور ان کے قبیلے سے متعلق تو حلفاً کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کبھی اس کاغذ کے چیتھڑے کوقابلِ مطالعہ نہیں گردانا۔ وہ اسے یوں قابلِ مطالعہ نہیں سمجھتے کہ نہ تو اسے انھوں نے بنایا ہے، نہ وہ اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ لیکن وہ جنھوں نے بنایا ہے، وہ بھی ماسوائے اپنی مطلب برآوری کے اسے بھول کے بھی ہاتھ نہیں لگاتے۔ جیسے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنف پاؤلو کوہیلو کے بیسٹ سیلر ناول ’الکیمسٹ‘ سے فکری اختلاف کے باوجود آپ اس میں موجود کہانی پن سے مفر نہیں سکتے، یا نوبل انعام والے گارشیا مارکیز کے ’تنہائی کے سو سال‘ سے نظریاتی اختلاف کے باوجود اس کی تکنیک سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے،بعینہ اگر آپ میں ذرا سا بھی سماجی ذوق ہو تو آپ اس دستاویز کو کسی صورت محض ’کاغذ کا چیتھڑا‘ قرار نہیں دے سکتے، نہ اس کے مطالعے سے فرار پا سکتے ہیں۔پاکستان کا آئین اپنی تحریری شکل میں ،ماسوائے چند مستثنیات کے بلاشبہ دنیا کے چند اعلیٰ ترین دساتیر میں سے ہے۔اس رائے سے اختلاف ذوق کی بنا پر تو ممکن ہے، وگرنہ عالمی پیمانے پہ جانچئے تو اتفاق کرتے ہی بنے گی۔ وہ جو چند ایک مستثنیات ہیں، ان میں تعزیراتِ پاکستان کے باب میں ملک سے غداری کے ضمن میں شامل ایک قانون یہ بھی ہے؛دفعہ پی پی سی 123 اے کی تشریح کے مطابق کوئی آدمی پاکستان یا پاکستان سے باہر ایسا عمل کرے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو خطرے میں ڈال دے یا علاقائی حدود میں لفظی یا لکھے ہوئے مواد سے اس کا اظہار کرے کہ پاکستان کا بننا ٹھیک نہیں تھا اور اس کا اظہار کرے کہ پاکستان ختم ہونا چاہیے یا کسی اور ملک سے الحاق کرے ۔حالانکہ یہ اختلافِ رائے کا بنیادی معاملہ ہے، لیکن خیر اس سے یوں بھی صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے کہ آزادیِ رائے کا مطلق تصور محض تخیلاتی ہی ہے، دنیا کا کوئی ملک اپنے شہریوں کو ملک کے خلاف کسی عملی ، علمی ،زبانی یا تحریری سرگرمی میں ملوث ہونے کا کھلم کھلا اجازت نامہ نہیں دیتا۔ اس لیے ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے پہ شہریوں کے لیے آئین اور قانون میں ایک سزا متعین کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اس سزا کا تعین موجود ہے۔ لیکن آئین کو ’محض کا غذ کا ایک چیتھڑا‘ اور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے والے طاقت ور ادارے اپنی روایتی ’بدمعاشی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا قانون لے آئے ہیں، جس کے مطابق نہ صرف غداری بلکہ اس کی سزا کا تعین کرنے میں بھی وہ اپنے تئیں آزاد ہوں گے۔ وہ جب چاہیں جس شہری کو شک کی بنیاد پر نوے دن تک بنا کسی اطلاع کے ،کسی بھی خفیہ مقام پہ رکھنے کے مجاز ہوں گے۔ اس دوران ،دورانِ تفتیش مذکورہ شہری کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری ان پہ نہیں ہو گی۔ مزید یہ کہ وہ چاہیں تو شک کی بنیاد پر کسی بھی شہری پہ گولی تک چلا سکتے ہیں، خاک نشینوں کا لہو ، رزقِ خاک بنا سکتے ہیں، کوئی مدعی نہ منصف!! اس پہ طرہ یہ کہ اسے ’ تحفظِ پاکستان بل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ دنیا کا پہلا ملک ہو گا،جسے اپنے ہی شہریوں سے تحفظ کی ضرورت آن پڑی ہے۔(عالمی ریکارڈکے خبط میں مبتلا گنیز بک میں نام لکھوانے والے متوجہ ہوں!)کیا طرفہ تماشا ہے کہ ایک ایٹمی ملک، دنیا کی پانچویں بڑی منظم فوج کا مالک ملک، نیز خود کو اب سیاسی طور پر مستحکم گرداننے والا ملک، خود اپنے شہریوں سے تحفظ کا طلب گار ہے۔اور اس تحفظ کے نام پر شہریوں کو بے تحفظ کرنے کی کھلی اجازت مانگی جا رہی ہے۔ اس بل کی منظوری کے خواہاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے خود کو ملک کا سچا دوست گردانتے ہیں۔ اگر اس ملک کی زباں ہوتی تو وہ نہ صرف اس بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا بلکہ پارلیمنٹ میں دُہائی دیتے ہوئے یہ معروف فقرہ دہراتا کہ، ’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ!‘ تحفظِ پاکستان نامی اس مجوزہ بل میں قانون نافذ (؟) کرنے والے ادارے جس قسم کے اختیارات کے خواہاں ہیں، بلوچستان میں ایک عرصے سے وہ اس کا عملی مظاہر ہ کر رہے ہیں۔ اب چونکہ ایک عرصے سے ملک کی ’آزاد عدالتوں‘ نے اس کھلم کھلا آئین شکنی پر ان سے سختی کے ساتھ جواب طلبی شروع کر دی ہے، جس کے وہ کبھی عادی ہی نہیں رہے، اس لیے وہ اپنے ان تمام اقدامات کو اب آئینی چوغہ پہنانا چاہتے ہیں۔ اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی بلوچستان کے ہزاروں لاپتہ افرادکا مقدمہ ازخود ختم ہوجائے گا۔سیاسی کارکنوں کی گم شدگی آئینی قرار پا جائے گی۔نہ صرف اب تک برآمد ہونے والی مسخ شدہ لاشوں کی جوابدہی کا معاملہ دب جائے گا، بلکہ وردی پوشوں کے لیے آئندہ کسی کو بھی اٹھا کر مسخ شدہ بنانے کا قانونی لائسنس جاری ہوجائے گا۔اس لیے تحفظِ پاکستان بل کی منظوری، پہلے سے عدم تحفظ کا شکاربلوچستان کے عوام کے احساسِ تحفظ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باعث بنے گی۔اور پھر یہ سلسلہ بلوچستان تک نہیں رکے گا، اس کا اطلاق ہر اس جگہ ہوگا، جہاں جہاں بے محابہ اور عوام دشمن اندھی طاقت کو چیلنج کیا جائے گا۔طاقت کا بیل جب ایک بار آئین اور قانون کی زنجیروں سے آزاد ہوجائے تو سب سے پہلے وہ انھی زنجیروں کو کھانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ اسے قید کرنے والا اصل پنجرہ یہی ہے۔ طاقت، آزادی کی دشمن ہے۔یہ صرف اپنے لیے بے مہار آزادی اور باقی سب کو اپنا مطیع دیکھنا چاہتی ہے۔ اس قصے کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ جمہور دشمن، جمہوریت دشمن، یہ آمرانہ قانون ایک ’جمہوری‘ پارلیمنٹ کے زیر تحت منظور ہو رہا ہے۔ اس کی مثال بالکل اُس لکڑہارے کی سی ہے، جواُسی شاخ کو کاٹ رہا ہو، جس پہ اس کا بسیرا ہے۔پاکستان کی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی کی مدد سے ایک طویل جدوجہد کے نتیجے میں بے لگام مقتدر قوتوں کو نکیل ڈالنے کی کوششوں میں ہیں، اور ایک سیاسی پارلیمنٹ ہی محض اپنے اقتدار کے لیے ان قوتوں کے ایما پہ ایک ایسا بل منظور کر رہی ہے، جس کے دام میں کل وہ خود بھی آ سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے دس لوگ ایک دوسرے کو سہارا دے کر بگڑے ہوئے اونٹ کو نکیل ڈالنے کی کوشش کریں، اور جب اوپر والا آدمی اسے نکیل ڈالنے ہی والا ہو کہ خود کو بچانے کی غرض سے انہی میں سے ایک آدمی اپنا ہاتھ کھینچ لے۔ اس سے صرف ان دس لوگوں کی کاوش ہی ناکام نہ ہوگی، بلکہ اس بے محابہ اور بگڑے ہوئے اونٹ کی بھگدڑ جب شروع ہوئی، تو کوئی بھی اس کے پیروں تلے آکر کچلے جانے سے محفوظ نہ رہے گا۔اس قصے میں اونٹ کا استعارہ ہم نے اُن کے لیے استعمال کیا جو جانتے ہیں کہ اس کی کوئی ’کل‘ سیدھی نہیں ہوتی! عالمی سیاسی رہنماؤں کو اپنے عالمانہ سوالات سے زچ کر دینے والی اوریانہ فلاشی نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف’انٹرویو وِد ہسٹری‘ کا انتساب ’طاقت سے نفرت کرنے والوں کے نام‘ رکھا تھا۔ ہر باشعور فرد کی طرح اور بالخصوص دنیا کے طاقت ور افراد کو قریب سے دیکھنے کے باوصف وہ بہتر طور پرجانتی تھی کہ طاقت اندھی ہوتی ہے۔یہ بنیادی طور پر ایک انسان دشمن وصف ہے۔ انسان کی شناخت تو عاجزی ہے، انکساری ہے، مہر ہے، محبت ہے۔ریاست چونکہ طاقت کا منبع ہوتی ہے، اسی لیے سوشلسٹوں نے اسے انسان دشمن قراردیا۔ اور اسی لیے کہا گیا کہ ریاست کو ماں جیسا ہونا چاہیے(باپ جیسا نہیں!) ۔دنیا بھر میں اب فلاحی ریاستیں وجود پا رہی ہیں۔ دنیا کی بدمعاش ریاستیں بھی اپنے شہریوں کے لیے فلاحی ریاست کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ابو غریب جیل کی بنیاد رکھنے والا امریکہ بھی اپنے شہریوں کے لیے ’منصف ترین‘ ملک ہے۔ اپنے شہریوں کو عدم تحفظ کا احساس دے کر کوئی بھی ریاست تحفظ میں نہیں رہ سکتی۔ اس لیے پاکستان کو عوام دوست اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھنے والی سبھی سیاسی قوتوں کو ایسے عوام دشمن بل کو ’نہ کھپے‘ کہنا ہوگا، تب ہی ملک کاہر شہری اس ملک کے لیے ’کھپے‘ کا نعرہ لگانے پہ مائل ہو پائے گا۔