|

وقتِ اشاعت :   September 28 – 2014

کراچی (ظفراحمدخان) وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدا لمالک بلوچ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انسانی ہے ۔جس کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بلوچستان اس وقت سیاسی و معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک مخصوص ذہنیت نے ملک میں نفرت کے بیج بوئے آج پورا ملک اس کا شکار ہے، مسلح اور بھتہ خور گروپوں کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے ۔یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال فیصل آباد سے زیادہ بہتر ہے۔ عید کے بعد بلدیاتی اداروں اور نمائندوں کو مکمل فنکشنل کر دیا جائے گا۔کراچی میں مقامی ہوٹل میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر ( سی پی این ای ) کی جانب سے میٹ دی ایڈیٹر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے اس حوالے سے عسکری قیادت اور وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم وفاق کے ساتھ ہیں آپ کے تعاون کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا جبکہ اس مسئلے کے حل کے لئے کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں ۔ گزشتہ سات آٹھ ماہ میں مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت بلوچ عوام کو تعلیم سے دور رکھا گیا ۔35 سے 40 فیصد گریجویٹ نوجوان بے روز گار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک ایسا کھیل کھیلا جار ہا ہے جس میں لوگ مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کے صحافیوں نے آمروں کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں جن کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے یہ ضرور کہوں گا کہ مسائل کا حل سیاسی مذاکرات ہی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عید کے بعد بلدیاتی اداروں کو مکمل فنکشنل کر دیا جائے گا ۔ عوامی نمائندوں کو عوام کے مسائل کے حل کے لئے اختیارات بھی دے دیئے جائیں گے۔ اس موقع پر سی پی این ای کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر جبار خٹک ، ایونٹ کمیٹی کے چیئرمین عامر محمود دیگر عہدیدار اور اراکین بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اس موقع پر سی پی این ای کے انڈوومنٹ فنڈ کے لئے 20 لاکھ روپے عطیہ کا بھی اعلان کیا۔