|

وقتِ اشاعت :   February 27 – 2015

پورے ملک بشمول کراچی اور حیدرآباد میں افغان غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہیں۔ مگر حکومت بلوچستان اب تک خاموشی کا لبادہ اوڑھے اونگھ رہی ہے کہ کب بلوچستان میں آبادی کا تناسب تبدیل ہوگا۔ بلوچ کتنی جلد اپنے ہی وطن میں اقلیت بن جائیں گے کم سے کم مسلم لیگ اور بلوچ قوم پرست جماعت کی جانب سے عوام کو یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ نیشنل پارٹی افغانوں کے بلوچستان میں مستقل رہنے کے حق میں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پارٹی اور اس کی حکومت یہ تاثر جتنی جلد زائل کرے اتنا ہی پارٹی کے حق میں بہتر ہوگا۔ یہ فیصلہ قومی سطح پر لے لیا گیا ہے کہ ہر ایک افغانی کو اس کے گھر واپس بھیجا جائے گا 31دسمبر کے بعد کوئی قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن اس ملک میں نہیں رہ سکتے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان ملوث پائے گئے۔ اس کے ثبوت سیکورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں۔ ان واقعات میں سے بعض کی تفصیلات اخبارات میں چھپ بھی گئیں ۔ اس کے بعد ملک کی سلامتی اور یک جہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور اس کے تمام اداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنی جلد ان تمام افغانوں کو اپنے ملک بھیجا جائے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ چنانچہ کے پی کے کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف زبردست مہم شروع کی ہے جس کے نتیجے میں 35ہزار سے زائد افغان، بشمول افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جاچکے ہیں۔ روزانہ درجنوں گاڑیاں افغانوں کو لے کر واپس افغانستان جارہے ہیں۔ کے پی کے کی حکومت نے صرف اور صرف افغان غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ افغان مہاجرین کو نہیں چھیڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت نے ان کے خلاف زبردست کارروائی شروع کی ہے۔ حیدرآباد اور کراچی سے سینکڑوں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور عنقریب ان کو پشاور یا کوئٹہ روانہ کیا جائے گا جہاں سے ان کو وطن واپس بھیجا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کو اس بات پر حیرانگی ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت افغانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی اس کے برعکس پولیس اہلکار شاہراہوں پر کھڑے ہو کرافغان مہاجرین کو پکڑتے ہیں اور مک مکاکرکے رشوت لے کر ان کو دوبارہ شہر میں گھومنے پھرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں یا پھرزیادہ بڑی کاروائی کی صورت میں افغانوں کو ایران کا سرحد پار کرایا جاتا ہے اور سرکاری سرپرستی میں یہ کام ہورہا ہے جس سے ایران کے تعلقات پاکستان سے روز افزوں خراب تر ہورہے ہیں۔ اگر پی ایم اے پی کو اعتراض ہے تو وہ حکومت سے الگ ہوجائے کیونکہ یہ مملکت پاکستان کا فیصلہ ہے کہ افغانوں کو واپس ان کے ملک بھیجا جائے۔ 31دسمبر 2015ء کا انتظار کیے بغیر غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر اپنے وطن بھیجا جائے۔ کیونکہ افغان دہشت گردی اور دوسرے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے ابھی تک صوبائی انتظامیہ اس سلسلے میں حرکت میں نہیں آئی ہے۔ شاید مسلم لیگ اور نیشنل پارٹی پی ایم اے پی کو اس معاملے میں ناراض نہیں کرنا چاہتیں۔ افغان مہاجرین پی ایم اے پی کا جعلی ووٹ بنک رہے ہیں بعض رہنماؤں نے ان افغانوں کو جعلی ووٹروں کی حیثیت سے استعمال کیا تھا۔ ٹرکوں میں بھر بھر کر افغان کیمپوں سے مہاجرین کو پولنگ اسٹیشن لایا گیا تھا اور ان سے ووٹ ڈلوائے گئے۔ بعض پشتون قوم پرستوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ’’افغانی اپنے ہی وطن میں آئے ہیں‘‘ یہ افغان سرزمین ہے، بلوچستان نہیں ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ صوبے پر کسی بھی بہانے حکمرانی کریں۔ نیشنل پارٹی یہ ثابت کرے کہ وہ قومی حکمت عملی کے تحت افغان تارکین وطن کو نکالنے میں بھرپور حصہ لے گی اور ان کے خلاف جلد سے جلد کارروائی شروع کرے گی۔ 31دسمبر 2015سے پہلے تمام غیر قانونی تارکین وطن افغانوں کو اپنے ملک واپس بھیج دے گی۔