|

وقتِ اشاعت :   April 13 – 2015

دہائیوں سے کرپشن اور بد عنوانی کی نہ صرف عزت افزائی کی جاتی رہی بلکہ اس کی با قاعدہ سرپرستی کی جاتی رہی ۔ وجہ یہ تھی کہ لوگ فیصلہ کرنے والے افسران اور وزراء کا احتساب کرنے میں ناکام رہے ۔ اگر زبردست احتساب ہوتا تو یقیناً ترقی کے ثمرات خواص کے بجائے عوام الناس کو پہنچتے ۔ بلوچستان کو باہر کی دنیا صرف اور صرف کرپشن کے حوالے سے جانتی ہے ۔ کرپشن کو روکنے کی کوششیں ضرور ہوئیں مگر ناکافی تھیں ۔ کرپٹ لوگ اور ان کے سرپست زیادہ طاقتور ثابت ہوئے ۔حالیہ سالوں تک منظور منصوبوں کا 60فیصد ہیڈ کوارٹر میں ہی تقسیم ہوتا تھا ، بیس فیصد فیلڈ میں ،اس طرح منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے صرف بیس فیصد رقم رہ جاتی تھی جس میں ٹھیکے دار کا منافع بھی شامل تھا ۔ بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے کے بعد سے آج تک کرپشن کا راج ہے ۔ گزشتہ حکومت نے گوادر میں کھارے پانی کو قابل استعمال اور پینے کے لائق بنانے کیلئے دو پلانٹ لگائے ۔ ان پر اربوں روپے خرچ ہوئے ،کوئی نہیں جانتا ان کا کیا حشر بنا ۔ کوئٹہ میں بیٹھے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ ان اربوں روپے کے پانی کے پلانٹس سے مقامی آبادی کو ایک گیلن پانی نہیں ملا خصوصاً آکڑ اڈیم خشک ہونے کے بعد پانی کراچی اور میرانی ڈیم سے لاناپڑا ۔ پانی کے پلانٹس سے مقامی آبادی کو پانی نہیں ملا ،ان میں سے ایک پلانٹ صنعتی علاقے کے لئے تھا جو پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے آج تک قائم نہ ہو سکا ۔ البتہ صنعتی مقاصد کے لیے زمین کی الاٹمنٹ بڑے پیمانے پر ہوئی۔ دوسرا پلانٹ صرف اور صرف پینے کے پانی کے لئے تھا وہاں سے بھی ایک بوند پانی نہ مل سکا ۔ دوسری جانب افسران اور وزراء صاحبان نے رقم کمانے کے لئے زبردست چابکدستی دکھائی۔ پلانٹ کی مشینری عجلت میں درآمد کی گئی جبکہ پلانٹس کا بنیادی ڈھانچہ ابتدائی مراحل میں تھا۔ مشینری پہنچ گئی اور سڑنی بھی شروع ہوگئی ۔ مشینری کی درآمد اور ٹھیکہ دینے کے بعد کرپٹ افراد بشمول وزراء اور افسران کو پیسے مل گئے ۔ ان کی بلا سے پلانٹس مکمل ہوتے ہیں لوگوں کو پانی ملتا ہے یا نہیں، ان کا یہ درد سر نہیں تھا اور آج بھی نہیں۔ یہ صو بائی حکومت کا فرض ہے کہ ان دونوں منصوبوں سے لوگوں کو آگاہ کرے کہ ان کا کیا بنا اور کس نے کرپشن کی اور کتنی کی۔ لوگوں کو تمام معلومات کی فراہمی صوبائی حکومت کا فرض ہے ‘ ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی جو اربوں روپے غبن کرتے ہیں اور دیدہ دلیری سے ہڑپ بھی کر لیتے ہیں ۔ دوسری جانب نیب ہے جو منشی کو گرفتار کرتا ہے لیکن وزیر جس کے پاس تمام اختیارات تھے ان کا کوئی نام نہیں لیتا۔ شاید ان سابق وزراء کا مقتدرہ سے کوئی خصوصی تعلق ہے کیونکہ اربوں روپے ہڑپ کرنے کے بعد وہ سب سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ ایک نئے پانی کے پلانٹ سے بیس لاکھ گیلن پانی حاصل کیا جائے گا۔ ہم اس نئے منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ قومی دولت کا ضیاع ثابت ہوگا جیسا کے پہلے دو پلانٹس ایک بی ڈی اے اور دوسری محکمہ صنعت نے لگائے تھے وہ ناکام ہوگئے ،تیسرا کس طرح کامیاب ہوگا۔ ہم اراکین بلوچستان اسمبلی سے اپیل کریں گے کہ ایسے مشکوک منصوبے کی منظوری نہ دیں کیونکہ اس کا مقصد کروڑوں کا کرپشن کرنا ہے، لوگوں کو راحتیں پہنچانا نہیں ۔ اس کے برعکس مکران میں پانچ بڑے دریا بہتے ہیں ان پر بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے جائیں اور یہ ڈیم اگر بن گئے تو پچاس سالوں تک پورے خطے کی ضروریات کو پورا کرسکیں گے۔ آکڑا ڈیم کی بحالی اور توسیع کا کام تیز کیاجائے تاکہ یہ منصوبہ ناکام نہ ہو۔ سب سے اہم ترین منصوبہ دریائے دشت پر دوسرا ڈیم تعمیر کیا جائے جو اضافی پانی میرانی ڈیم سے نکل کر سمندر میں گرتا ہے اس پانی کو روکا جائے اور اسٹوریج ڈیم بنایا جائے جو گوادر کی مستقبل کی ضروریات پوری کرے گا ۔ وزیراعلیٰ نے پہلے ہی دو ڈیموں کی تعمیر میں دل چسپی ظاہر کی ہے اب دریائے دشت پر دوسرا ڈیم تعمیر کیا جائے جس سے زرعی پیدا وار کے علاوہ گوادر کو وافر مقدار میں پانی مل سکے گا۔ بلوچستان میں پانی کی کمی کو صرف اور صرف ڈیموں کی تعمیر سے پورا کیا جا سکتا ہے، کھارے پانی کو میٹھا بنانے سے نہیں ۔ اس قسم کے منصوبوں سے کروڑوں روپے رشوت کھائے جا سکتے ہیں گوادر کے پانی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے ۔