|

وقتِ اشاعت :   April 17 – 2015

کوئٹہ: صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازاحمدبگٹی نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے تاثرکومستردکرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے تربت واقعہ کوسنجیدگی سے لیتے ہوئے بلوچستان میں قیام امن کویقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کے انتظامات کاازسرنوجائزہ لیکرکوئٹہ میں بننے والے فیوژن سیل کوڈویژنل سطح پرقائم کرکے ان میں کمشنرفرنٹےئرکورکے کمانڈنٹ آر پی او اورتمام انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے آپس میں کوارڈینیشن کرینگے صوبے میں جرائم پیشہ عناصرکیخلاف سیکورٹی فورسز کاسرچ آپریشن جاری رہے گاان خیالات کااظہارانہوں نے جمعرات کووزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان جان محمدبلیدی،مشیرخزانہ میرخالد خان لانگو کے ہمراہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی صدارت میں صوبے میں امن وامان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے میڈیاکوبریفننگ دیتے ہوئے کیاسرفرازاحمدبگٹی نے بتایاکہ تربت واقعہ کے بعدصوبائی حکومت نے بلوچستان بھرمیں سیکورٹی کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات کاازسرنوجائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان کی صدارت میں اجلاس منعقد کیاجس میں کمانڈرسدرن کمانڈ،آئی جی ایف سی،جی او سیزتمام ڈویژنل کے کمشنرزاورڈی پی اوزسمیت مختلف اداروں کے سربراہوں اورنمائندوں نے شرکت کی تاکہ صوبے میں امن وامان کی بحالی کویقینی بناکرسیکورٹی کے انتظامات کومربوط بنانے کیلئے ان کاازسرنوجائزہ لیاجائے کیونکہ کمانڈرسدرن کمانڈ کی جانب سے حکومت کے اتحادیوں کے عمائدین کی مشاورت کے بعدصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تمام سیکورٹی اورقانون نافذ کرنے والے اداروں میں کوارڈینیشن پیداکرنے کیلئے ایک فیوژن سیل قائم کیاگیاجس میں انٹیلی جنس ادارے ،پولیس،لیویز،بلوچستان کانسٹیبلری،ایف سی کے نمائندے موجود ہیں اس سیل کی بدولت کوئٹہ اورخضدارمیں بڑی حد تک 40فیصدامن قائم کرنے میں حکومت اورادارے کامیاب ہوئے ہیں اس لئے حکومت نے تربت واقعہ میں اہلکاروں کی غفلت کوتسلیم کرتے ہوئے صوبے میں امن کے قیام کویقینی بنانے کیلئے فیوژن سیل کوپہلے مرحلے میں بلوچستان بھرمیں ڈویژنل سطح پرقائم کیاجائیگااس کے بعداسے ضلعوں کی سطح پرقائم کیاجائیگاتاکہ تمام ادارے ملکرصوبے میں امن کوقائم کرکے جرائم کے خاتمے کویقینی بناسکے انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام فعال ہونے کے بعدمےئرڈپٹی مےئر،چےئرمین اوربلدیاتی نمائندوں کوبھی مصروف رکھنے کیلئے انہیں بھی آن بورڈلے رہے ہیں تاکہ سیکورٹی کوموثربنایاجاسکے انہوں نے بتایاکہ فیوژن سیل کے قیام اوراداروں کے مابین بہترکوارڈینیشن پیداکرنے میں کمانڈرسدرن کمانڈکی کاوشیں قابل تحسین ہیں فیوژن سیل کی بدولت کوئٹہ اورخضدارمیں امن قائم ہوااورلورالائی میں بھی سیل قائم کیاگیاہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ بلوچستان کے کسی بھی حصے میں کسی آپریشن کیلئے کوئی تیاری نہیں ہورہی فوج بھی ریاست کاایک ستون ہے اگرحکومت خطرہ محسوس کرے تواسے امن کے قیام کیلئے استعمال کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کریگی لیکن دہشتگردوں کی اتنی استطاعت نہیں کہ ان کیخلاف فوج کواستعمال کیاجائے اس لئے پولیس لیویز ایف سی کی معاونت سے سرچ آپریشن کررہی ہے ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تربت واقعہ بہت بڑاسانحہ ہے پاک فوج کے سربراہ نے بھی اس دکھ کومحسوس کیااورفورسز کامورال بلندکرنے کیلئے یہاں پرآئے اورحکومت کوہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے امن کے حوالے سے پاک فوج حکومت کے ساتھ ہے تربت واقعہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے آرپی او کی سربراہی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے جو7روزمیں اپنی رپورٹ اپنی پیش کریگی اس حوالے میڈیاکوآگاہ کیاجائیگاایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ فورسز لورالائی میں دہشتگردوں کامقابلہ کررہی ہے نارتھ ہویاساؤتھ اس میں انٹیلی جنس اداروں اوردیگرسیکورٹی اداروں سمیت فورسز میں کوارڈینیشن ہے اس لئے سیکورٹی کے انتظامات کاازسرنوجائزہ لیاہے تاکہ اس کے خاطرخواہ نتائج برآمدہوسکیں تربت آپریشن میں5افرادجاں بحق اوردوکوگرفتارکیاگیاہے حکومت اوراداروں کی بہترحکمت عملی کے تحت صوبے میں40فیصدامن قائم ہواہے صوبے کے نارتھ اورساؤتھ علاقوں سمیت ہرجگہ پولیس،لیویز،فرنٹےئرکور کے ہمراہ سرچ آپریشن کررہی ہے بلوچستان میں غیرملکی مداخلت کے حوالے سے ہمسایہ ملک افغانستان سے بہترتعلقات استوارہورہے ہیں اسلئے ملٹری اورسول حکام ان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔