|

وقتِ اشاعت :   December 2 – 2015

کوئٹہ :  عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا کہ گوادر کاشغر روٹ کے متعلق اسلام آباد میں اے پی سی اور حالیہ نوٹیفکیشن کے باوجود عملدرآمد نہ ہوا تو ا ے این پی روٹ کی مبینہ تبدیلی کے خلاف آئندہ بھر پور تحریک چلائے گی۔ جس طرح کالا باغ ڈیم منصوبے کوہمیشہ کیلئے دفن کر دیا تو اسے طرح اس منصوبے کو بھی کالا باغ ڈیم بنا دینگے اسلام اور پشتونوں کے نام پر سیاست کرنے والوں نے پشتونوں کو ہمیشہ اپنے مفادات کے خاطر پسماندہ رکھا سانحہ مستونگ کے واقعہ اور گوادر کاشغر روٹ جیسا منصوبے پر پشتونوں کے نام پر ووٹ لینے والے آج کیوں خاموش ہے اور جب بلوچستان میں بلوچ پشتون اتحاد کے ہم داعی تھے تو یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈے کر رہے تھے مگر اب وہ اپنی مفادات کی خاطر ڈاکٹر مالک کے ساتھ شراکت اقتدار میں ہے۔ صوبے کے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آکر گوادر کاشغر روٹ کے متعلق اے این پی کے ساتھ ملکر مشترکہ اور بھر پور احتجاجی تحریک چلائے کیونکہ وفاق اور پنجاب کے حکمرانوں نے ہمیشہ بلوچوں اور پشتونوں کو پسماندہ رکھا ہے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اصغر خان اچکزئی صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ، اے این پی کے مرکزی رہنما عبدالمالک پانیزئی، ارباب عمر فاروق، ڈسٹرکٹ چیئرمین کوئٹہ ملک نعیم بازئی، ڈسٹرکٹ چیئرمین قلعہ عبداللہ ملک عثمان کاکوزئی، اے این پی ضلع کوئٹہ کے صدر ملک ابراہیم کاسی نے باچاخان چوک پر گوادر کاشغر روٹ روڈ کے متعلق احتجاجی ریلی اور جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ اے این پی نے خیبر پختونخوا کراچی کے علاوہ بلوچستان کے پشتونوں کی نمائندہ جماعت ہے اور گوادر کاشغر روٹ کے حوالے سے وزیراعظم ،وفاقی حکومت اور پنجاب حکمرانوں کی طرف سے اشارے مل رہے تھی کہ روٹ کو تبدیل کیا گیا جس پر اے این پی نے اس متعلق بھر پور احتجاج کیا جس پر وزیراعظم میاں محمد نوازشر یف نے اسلام آباد میں گوادر کاشغر روٹ پر اے پی سی طلب کر لی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ کو تعمیر کیا جائیگا۔ لیکن بعد میں میاں صاحب نے وعدے کی خلافی کی جس پر اے این پی نے بھر پور احتجاج کا فیصلہ کیا اور آخر میں وزیراعظم میاں نوازشریف نے اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کو فون کر کے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جس پر اسفند یار ولی نے اس شرط پر ملاقات کی خواہش ظاہر کی گوادر کاشغر روٹ کے حوالے سے پوری طور پر فیصلہ کیا جائے جس نے وزیراعظم نے اسفند یارولی سے ملاقات کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ رہی کہ انہوں نے ہمیشہ کالاباغ ڈیم جیسے پشتون دشمن منصوبے کے خلاف بھر پور احتجاج کیا تھا۔1947 سے لیکر 2008 تک جو وعدے کئے تھے وہ پوری کئے ہیں 2008 کے انتخابات کے بعد ایک معمولی مینڈیٹ کیساتھ صوبے کا نام تبدیل کیا 18 ویں ترمیم این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری پشتونوں کے علاوہ دیگر قوموں کو بھی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار میں ہو یا بغیر اقتدار کے انہوں نے ہمیشہ پشتونوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے انہوں نے کہا کہ کابل ہو یا اسلام آباد جو بھی فیصلہ ہو تا ہے اسفند یار ولی کی قیادت میں کیا جا تا ہے ہم نے اپنی سیاست کے دوران ہر قسم کی قربانی دی ہے ہمارے بچے شہید ہوئے ہیں لیکن پھر بھی پشتونوں نے اے این پی کا ساتھ نہیں دیا ہے اور ان قوتوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اسلام کا نام اور کام کے نام پر67 سالوں سے دھوکہ دیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں برابری کی بنیاد پر حقوق لینے والوں نے صرف گورنر شپ چند وزارتوں میئر شپ پر سودا کیا انہوں نے کہا کہ 40 سال سے اسلام کے نام پو جو ڈرامہ رچھا یا گیا اور پشتونوں کا قتل عام کیا گیا اور ہم نے شروع دن سے کہا تھا کہ یہ لڑائی امریکا اور روس کی ہے مگر اسلام کے ٹھیکیداروں نے اس سے اسلام کا لڑائی قرار دے کر افغانستان کو تباہ وبرباد کیا آج آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ان کا حساب دینا ہوگا اور اسے طرح30 سال بلوچستان میں جب اے این پی بلوچ پشتون متحد ہو نے کی بات کر رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ73 کے آئین کے بعد پشتونوں کو بلوچوں پر بھیج دیا گیا مگر اب ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آج کیوں ایک دوسرے کو شراکت اقتدار میں ہے اور آج پشتونوں کیلئے الگ صوبہ یا چیف کمشنر صوبہ کیوں بحال نہیں کیا جاتا۔ مستونگ میں پشتونوں کا قتل عام ہوا تو ا ن مفاد پرستوں نے ان سے فاتحہ خوانی تک نہیں کی گئی ضرب عضب آپریشن کے نام پر پشتونوں کو بد نام کیا جارہا ہے اور پنجاب ولاہور میں ضرب عضب آپریشن کے نام پر ان کو تحفظ دیا جارہا ہے جب کنٹینر خان نے اسلام آباد میں کنٹینر پر73 آئین کی مخالفت کی جو لوگ73 کی آئین کی مخالفت کر تے تھے اور وہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر آئین کو تحفظ دینے کی بات کر رہے تھے یہ وہی آئین ہے۔ جسے ہمارے پارٹی کے رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے بنایا تھا انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ شہر میں نہ پانی ہے نہ بجلی ہے انہوں نے کہا کہ 2 دسمبر کو جو جلسہ کیا جا رہا ہے اگر یہ جلسہ گوادر کاشغر روٹ اور مستونگ کے شہدا پر کیا جا تا تو کتنی اچھے بات ہو تی مگر آج یہ جلسہ بھی اے این پی کی وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ اے این پی ایک مضبوط قوت بن کر ابھری ہے حاجی نظام الدین کاکڑ، اے این پی کے مرکزی رہنما عبدالمالک پانیزئی، ارباب عمر فاروق، ڈسٹرکٹ چیئرمین کوئٹہ ملک نعیم بازئی، ڈسٹرکٹ چیئرمین قلعہ عبداللہ ملک عثمان کاکوزئی، اے این پی ضلع کوئٹہ کے صدر ملک ابراہیم کاسی نے کہا کہ گوادر کاشغر روٹ کی مبنی تبدیلی کے خلاف اے این پی بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ رہنما بلوچوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ پشتونوں کے حقوق پر بھی بات کریں انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہیں کہ نوشکی میں جلسہ کیا جا تا ہے جس میں کہا جا تا ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں نے پشتونوں کو ماموں بنا یاگیا مگر اس سے پہلے جب وہ اقتدار میں تھے تو نوازشریف نے ان کو سب سے پہلے ماموں بنا دیا تھا انہوں نے کہا کہ گوادر پر سب سے پہلا حق بلوچوں کا ہے اور اے این پی ان کا بھر پور ساتھ دی گی مگر بلوچوں کے بعد گوادر پر پشتونوں کا حق بنتا ہے آئے ہم سب ملکر مشترکہ جدوجہد کریں۔