|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2016

بلوچستانی ادبی شعبے میں اگر ادیبوں کا نام لیا تو وہاں ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی کا نام ضرور آتا ہے انہوں نے تین زبانوں بلوچی، اردو اور انگلش میں تصانیف لکھے۔ ان کی حالیہ کتاب Baloch in search of Identity ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اور بھی تصانیف لکھی ہیں جو کہ بلوچستان کی سیاسی و ادبی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف شعبہ صحت کا انتخاب کرکے انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دیا تو اسکے ساتھ ساتھ بلوچستان کے شعبہ سیاست اور ادب کو قریب سے دیکھا۔ اسے اپنے پراثر تحاریر میں سمو دیا۔ غوث بخش بزنجو کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ بلوچستانی سیاست کے اتار چڑھاؤ کا مطالعہ بھی کیااور باریک بینی سے اسکا جائزہ لیا۔ ان کی کتابیں نوجوان نسل کو سیاست، ادب کے میدان میں رہنما کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی 18اپریل1942ء کو پنجگور کے علاقے سوردو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں سے حاصل کرنے کے بعد کوئٹہ چلے گئے۔ F.Sc کا امتحان دینے کے بعد کراچی چلے گئے۔ جہاں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں اپنے آبائی علاقے پنجگور میں شعبہ صحت میں خدمات انجام دیں۔ انہیں بچپن سے ادب کے شعبے سے لگاؤ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بی ایس او کے پلیٹ فارم پر انہوں نے سیاسی خدمات سرانجام دیں۔ان کی ادبی خدمات کا اندازہ انکی تصانیف سے لگایا جا سکتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ اور نرم گفتگو انکا خاصا ہے۔گزشتہ روز ان سے انکی رہائش گاہ پربلوچستانی ادب کے حوالے سے ایک نشست ہوئی۔
روزنامہ آزادی:ڈاکٹر صاحب آپ ہمیں یہ بتائیے کہ آپ نے ادب کے شعبے کا انتخاب کیسے کیا اور بلوچ سیاست میں حصہ لیا؟
ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی: کوئٹہ سے جب انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا تو شعبہ صحت کا انتخاب کرنے کے لئے کراچی کا رخ کیا۔ وہاں پہلے سے سیاست کا پلیٹ فارم موجود تھا۔ لفٹ کی سیاست میں حصہ لیااور بی ایس او کے پروگرامات میں اپنا کردار ادا کیا۔سیاست کے میدان میں میر غوث بخش بزنجو، گل خان نصیراور دیگر کی سیاسی بصیرت سے استفادہ حاصل کیا۔ سیاسی اور ادبی محفلیں لگتی تھیں۔ جالب و فیض نے بھی کافی متاثر کیا اولڈ گولیمار میں واقع بلوچی اکیڈمی ادب کے میدان میں سرگرم عمل تھا۔ ان پروگراموں میں باقاعدہ شرکت کرنے لگا تو ادب سے لگاؤ بھی پید ا ہوا اور ہم خیال دوست بھی ملنے لگے۔ محفلوں میں افسانے سنائے جانے لگے۔ وہاں ادب کے لئے ایک باقاعدہ فضا قائم ہو گئی تھی۔ مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ریڈیو اسٹیشن میں کام کرنا پڑا کراچی میں قائم ریڈیو اسٹیشن جہاں بلوچی میں خبریں اور پروگرام نشر ہوا کرتے تھے۔ اس میں صدیق آزاد، حکیم بلوچ کے ساتھ بلوچی زبان پر کام کرنے کا موقع ملا۔
سوال: بلوچی زبان پر کتنا کام ہوا ہے؟
جواب: دیکھئے بلوچستان میں جو بلوچی ادبی شعبہ ہے۔ اسے بدقسمتی کہئے یا کچھ اور کہ بلوچستان میں بلوچی زبان کی بنیادی مضبوطی کے لئے آج تک کام نہیں کیا گیا اور نچلی سطح پر کام کیا ہی نہیں گیا ہے جو بھی ہوا ہے اسے سرسری لیا گیا ہے۔ اداروں کو کس طرح ترقی دی جائے ۔ رسم الخط پر کام کیسے کیا جائے یہ تو کسی نے سوچا بھی نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر علاقے کا ڈائیلیکٹ دوسرے علاقے سے مختلف ہے۔ اس ڈائلیکٹ پر کام کون کرے۔ اسی بناء پر بلوچی زبان کا تعین بہتر انداز میں نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس پر کام کرنا ہے اور اسے آگے لے جانا ہے۔بلوچی زبان میں کتابیں تو چھاپی گئی ہیں لیکن اس میں اسٹینڈرڈ لینگویج کا استعمال موجود نہیں ہے تو یہ اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لئے اداروں کو بھرپور طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال:بلوچی زبان کی دیمروی کے لئے مادری زبان میں تعلیم کس حد تک اثرپزیر ہو سکتی ہے ؟
جواب: یہ تو وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مادری زبان میں تعلیم اس زبان کے فروغ میں نہایت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب تک بچوں کو مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جائے تو آگے چل کر اسے بلوچی زبان اور اسکی خدوخال میں مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ گورنمنٹ نے initiateلیکر اسے ماسٹر اور بی اے کی سطح پر لانے کا فیصلہ تو کیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے پرائمری سطح پر لاگو کیا جائے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلوچی ایک خودروزبان ہے۔ جس نے اپنے آپ کی اہمیت کھونے نہیں دی اور پھلتا پھولتا گیا۔لیکن یہ انتہائی ضروری ہے کہ بلوچی زبان کی دیمروی کے لئے بنیادی طور پر کام کا آغاز کیا جائے۔
سوال: بلوچستان میں بلوچی زبان پر اتنا کام نہیں ہوا جتنا اسکی ضرورت ہو تو اسکی وجہ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
جواب: دیکھئے میں بلوچ زبان دوست ہوں۔ لیکن زبان بلد نہیں ہوں۔ میری خواہش ہے کہ بلوچی زبان پروان چڑھے لیکن یہاں تو المیہ یہ ہے کہ جب بلوچی زبان کی ترویج اور اسے تعلیمی اداروں میں رائج کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن دیگر زبانوں کو درمیان میں لاکر رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ دیگر زبانوں کی ترویج نہ کی جائے۔ لیکن بلوچی تو بلوچستان کی نمائندہ زبان ہے۔ جسطرح سندھ میں سندھی زبان لازمی زبان قرار دی جاتی ہے تو یہاں اس زبان نے کیا قصور کیا ہے؟ اسے بھی سلیبس کا حصہ سمجھا جائے۔ زبان کی دیمروی کے لئے زبان پر کام کرنے والے ادارے مصمم ارادہ رکھیں تو یہ آگے چل کر ضرور ترقی کرے گی۔
سوال: بلوچ زبان اور ادب پر بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں تو آپ نہیں سمجھتے کہ انکی کوششیں بارآور ثابت ہوں گی؟
جواب: دیکھیں ادارے تو موجود ہیں لیکن بات پھر آجاتی ہے بنیادی کام کی۔ بلوچستان ایک وسیع حد رکھتا ہے ۔ ہر ریجن بلکہ ہر علاقے کے لوگوں کا ڈائیلیکٹ دوسرے سے مختلف ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ڈائیلیکٹ پر کام کیا جائے اور اس پر باقاعدہ ریسرچ کی جائے اور انہیں ایک جامع شکل دی جائے تو اس میں بہت حد تک بہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے ۔اگر زیادہ نہیں کر سکتے تو کم ازکم تین یا چار ریجن کے ڈائیلیکٹ ریسرچ بیسڈ پروگرام ترتیب دیئے جائیں اور پھر ہر تین سال بعد ایک کانفرنس بلائی جائے تو اس پر بڑی حد تک پیش رفت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر صرف کتابیں چھاپنے وہ بھی اپنے اپنے حلقے کے تو میں سمجھتا ہوں زبان کی دیمری اس سے نہیں ہو سکتی۔یہ سارا کام اداروں کا ہے لیکن وہ اپنی صحیح معنوں میں ذمہ داری نہیں نبھا رہے ہیں۔
سوال: ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی کی نسبت اب کی بار مارکیٹ میں بلوچی زبان میں کتابیں موجود ہیں لیکن پڑھنے والے کم ہیں آپ اسے کیا گردانتے ہیں؟
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں بلوچی کتابیں زیادہ تعداد میں آرہی ہیں۔ اول تو کتابوں کا معیار وہ نہیں اور دوسری بات کتاب پڑھنے کی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ کا استعمال کئے جاتے ہیں کہ وہ بلوچی زبان کے رسم الخط سے ہم آہنگی نہیں رکھتے اور پڑھنے والا پڑھتے ہوئے کوفت محسوس کرتا ہے۔ آپ اردو اور انگریزی زبان کو لیں تو اس میں ان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے جو کہ واقعی زبان سے ہم آہنگ ہوتے ہیں لیکن یہاں جس نے ایک لفظ سنا اسے بلاتحقیق کے بلوچی زبان کا حصہ بنا دیا ۔ جس سے پڑھنے والے کو پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے لوگوں کو زبان کے حوالے سے لٹریٹ کیا جائے۔ جب تک وہ لٹریٹ نہیں ہوں گے تو پڑھیں گے کیسے ؟ اس کے لئے زبان کو ایک حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے جو کہ تمام ریجن کے لئے قابل قبول ہو۔
سوال: تو آپ نہیں سمجھتے کہ جس طرح دیگر زبانوں میں لینگویج سینٹر قائم ہیں اگر اسی طرح بلوچی زبان میں لینگویج سینٹر قائم کئے جائیں تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟
جوات: بات تو درست ہے کہنے کی حد تک۔ آپ انگریزی زبان کو لے لیں تو وہ مارکیٹ کی زبان بن چکی ہے اور لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ لینگویج سینٹر میں پڑھیں خاص کر مختلف امتحانات میں انگلش زبان کا استعمال بھی کیا جاتا ہے تو یہ لوگوں کی ضرورت بن چکی ہے۔ لیکن دوسری جانب آپ بلوچی زبان کو لے لیں تو اس میں عدم دلچسپی کی بڑی وجہ اس کا مارکیٹ کا نہ ہونا ہے۔ اگر کوئی اس کام کا آغاز کرے تو بھی لوگ مفت پڑھنے کے خواہاں ہوں گے کہ انہیں اس زبان میں تعلیم دی جائے۔ جبکہ زبان سیکھنے کو بھی اتنی اہمیت نہیں دیتے گو کہ ملیر اور پنجگور میں اس زبان کی ترویج کے لئے سرٹیفکیٹ کورسز کرائے گئے ہیں۔ لیکن انہیں یہ سرٹیفکیٹ کوئی روزگار تو فراہم نہیں کرتا کیونکہ لوگ کسی بھی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے روزگار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں جو کہ بلوچی زبان میں وہ حاصل نہیں ہوتا۔
سوال: آج کا دور گلوبلائزیشن کا دور ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے زبانوں کی ترویج کی جاتی ہے۔ جیسے کہ سابق دور میں ریڈیو پاکستان کا ہوا کرتا تھا تو آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہی اہم کردار ہے۔ بلوچی زبان کی ترویج میں ریڈیو پاکستان کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ جس میں بلوچی زبان میں پروگرام ہوا کرتے تھے۔ خبریں بھی بلوچی زبان میں نشر ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اب تو محدود ہوچکا ہے۔ اس کی نشریات دور دراز علاقوں تک نہیں جاتے ۔ٹی وی چینلز کا بھی کردار بہت اہم ہے۔ لیکن ان میں اسٹینڈرڈ بہت کم ہے۔ پی ٹی وی بولان کے پروگرام اتنے معیاری نہیں کہ جس سے زبان کو دیمروی میں آسانی پیدا ہو سکے۔ اس میں کام کرنے والے افراد بلوچی زبان سے اتنی ہمدردی نہیں رکھتے۔ وہ صرف تنخواہ کی حد تک اپنا کردار نبھاتے ہیں۔ جبکہ وش نیوز نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زبان کی دیمروی کے لئے مزید ایسے اداروں کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔
سوال: واجہ آپ سے آخری سوال یہ کہ بلوچی زبان کی ترویج میں سب سے زیادہ اہم کردار کس نے ادا کیا؟
جواب: اگر انفرادی حوالے سے اسکا جائزہ لیں توسید ہاشمی، صبا دشتیاری دو ایسے نام ہیں‘ جنہوں نے بلوچی زبان کی ترویج میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کو بلوچ قوم فراموش نہیں کر سکتے اور بھی بہت سے نام ہیں جن کا نام تاریخ کے اوراق میں موجود ہے۔ صبا دشتیاری کا نام اسلئے بھی اہم ہے کہ انہوں نے باقاعدہ لینگویج کلاسز کا آغاز کرایا۔ عبداللہ جان جمالدینی اور آزات جمالدینی کا بھی بڑا اہم کردار رہا۔ جنہوں نے ماہتاک بلوچی کے لئے شاعر پیدا کئے اور ان کی شاعری کو پالش کرکے قوم کے سامنے لائے۔ کراچی میں مولانا خیر محمد ندوی، جمعہ خان، اکبر بارکزئی، مراد آوارانی اور دیگر نے بلوچی زبان کی ترویج کے لئے بھرپور خدمات سر انجام دیں جبکہ ریڈیو پاکستان میں بشیر بلوچ، عطاشاد، حکیم بلوچ کا کردار بہت اہم تھا۔