|

وقتِ اشاعت :   January 13 – 2016

عزیز احمد جمالی اس وقت محکمہ ایجوکیشن میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس سے پہلے ڈپٹی کمشنر سبی اور آواران کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ ضلع آواران میں تعمیر نو و بحالی پروجیکٹ میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں باحوصلہ اور فرض شناس انسان ہیں ہم نے بلوچستان کے شعبہ تعلیم کی صورتحال پر ان سے بات چیت کی ہے آئیے ملاحظہ کیجئے۔
روزنامہ آزادی : بلوچستان میں تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟
عزیز احمد جمالی: بلوچستان میں لازمی تعلیم کا ایکٹ پاس ہوچکا ہے۔ پہلی بار صوبے کی سطح پر ایک تعلیمی پالیسی وضع کرنے پر کام ہور ہاہے۔ پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان بنا ہے جس میں تعلیمی شعبے کے تمام پہلووں کو بہتر کرنے کی جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے اوراس کے علاوہ بہت ساری اصلاحات کی گئیں ہیں ۔ شعبہ تعلیم کیلئے بلوچستان ایجو کیشن مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔جس میں اسکول اور اساتذہ کے ڈیٹا کا اندراج کیا جارہا ہے اور اس کی پہنچ ہر عام و خاص کو دی جار ہی ہے اس سے تعلیمی صورتحال کو بہت بہتر کیا جا سکتا ہے۔ گھوسٹ اساتذہ اور اسکولوں کی نشاندہی بھی اسکے زریعے کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سکول مانیٹرنگ کا ایک نیا ، رئیل ٹائم سکول مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جارہا ہے جس کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، سکو ل میں موجود سہولیات اور تعلیم کی کوالٹی کو مسلسل مانیٹر کیا جائیگا۔ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور سکو ل کی سطح پر بہتر نظم و نسق کیلئے کلسٹر بنائے گئے ہیں اور انہی کلسٹر ہیڈ، جو سکول کے ہیڈ ٹیچر ہیں، کو اختیارات دیئے گئے ہیں اور ان کو اپنے اور کلسٹر کے باقی سکولوں کیلئے فرنیچر اور دیگر تعلیمی مواد کی خریداری کیلئے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اصلاحات ہیں جس کا شاید میں اس نشست میں احاطہ نہ کرسکوں۔
س: اب تک ایسے کتنے گھوسٹ اساتذہ اور اسکولوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور ڈیٹا کلیکشن کا عمل کس ادارے کی تعاون سے عمل میں لایا جا رہا ہے؟
ج: نشاندہی کا عمل ابھی تک جاری ہے اور محکمہ تعلیم نے اس پر باقاعدہ ویریفکیشن کا عمل شروع کیا ہے۔ ڈیٹا کلیکشن ایک خاصا وقت طلب مسئلہ ہے اس حوالے سے یونیسیف کا تعاون ادارے کو حاصل ہے۔ اور اسکا دائرہ کار بلوچستان کے تمام مین ایریاز تک پھیلا دیا گیا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کی سکول لیول مانیٹرنگ کا باقاعدہ نظام لایا جارہا ہے اور اس کے اطلاق کے بعد ایسے گھوسٹ سکولوں اور اساتذہ کا وجود ممکن نہیں رہے گا۔
س: گھوسٹ اساتذہ اور اسکولوں کا سلسلہ کب سے جاری تھا؟
ج: یہ سلسلہ گزشتہ 60سال سے جاری تھا لیکن اب دریافت ہو چکا ہے۔ یہ محکمہ تعلیم کی بجٹ پر بہت بڑا بوجھ تھا۔ اب محکمہ تعلیم کو توانا بنانے میں مدد ملے گی۔ اچھے اساتذہ سامنے آئیں گے۔ چند عناصر کو نقصان پہنچا ہے لیکن بلوچستان کی سطح پر ان اقدامات کے بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔
س: بلوچستان میں اس وقت اسکولوں کی تعداد کتنی ہے۔ اور کیا یہ تعداد پورے بلوچستان کو کور کر رہے ہیں؟
ج: بلوچستان میں اس وقت اسکولوں کی تعداد 11854ہے جس میں پرائمری 9912، مڈل 1134جبکہ ہائی 808ہیں۔ان اداروں میں 851194بچے زیر تعلیم ہیں۔ اگر پورے بلوچستان کے رقبے کا احاطہ کیا جائے تو بلوچستان کی بجٹ میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ہر کونے میں اسکول قائم کئے جائیں البتہ اس مرتبہ بلوچستان گورنمنٹ کی جانب سے جو بجٹ بناہے اس کے مطابق اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور انہیں سہولیات فراہم کرنے پرخطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ مزید نئے اسکول نہیں بنائے جار ہے بلکہ موجودہ سکولوں کو بنیادی سہولیات فرہم کرنے پر ذیا دہ توجہ دی جارہی ہے۔ اسکے علاوہ کوشش ہے کہ ایجوکیشن کی کوالٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔
س: ایجوکیشن کی کوالٹی کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اسکولوں میں تعینات اساتذہ کی کارکردگی معیاری نہیں۔ جبکہ طلباء نقل کرکے پاس ہو جاتے ہیں تو بہتری کی گنجائش کہاں پیدا کی جا سکتی ہے؟
ج: آپ نے سوال اچھا کیا بلوچستان میں ایجوکیشن کی کوالٹی اچھی نہیں لیکن سیکٹر پلان 2013۔18 میں چند بنیادی چیزوں کا احاطہ کیا گیا ہے اس میں مرد و خواتین کو تعلیم ، کوالٹی ایجوکیشن، ٹیچرز کی خالصتا میرٹ کی بنیاد پر بھرتی اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے معیار کو بہتر بنانا جیسے دیگر تعلیمی اصلاحات پر مشتمل ہے اور اس پر کام بھی ہو رہاہے۔ حال ہی میں 4500 اساتذہ کو میرٹ پراین ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے جبکہ 1200 اساتذہ کی بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان بھر میں نقل کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس کے اثرات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ رہی بات اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی تو اس پر بھی خاطر خواہ توجہ دی جارہی ہے۔ مختلف پروجیکٹس کے تعاون سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی جارہی جبکہ سیڈا کی جانب سے اساتذہ کی تربیت پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں8000 اساتذہ کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔
س: بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر نہیں اور اکثر و بیشتر اساتذہ سیکورٹی کی صورتحال سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور انکی ٹرانسفر بھی کی جا چکی ہے تو ایک بڑا خلا محسوس ہوتا ہوا نظر آتا ہے اسکے علاوہ اساتذہ کو وہ سہولیات بھی فراہم نہیں کئے جاتے جو انکا حق ہے تو موجودہ سسٹم کیا اقدامات اٹھا رہی ہے؟
ج: بلوچستان کے چند علاقے متاثر ہیں۔ لیکن زیادہ تر علاقوں میں اساتذہ کو سیکورٹی ایشوز نہیں وقت کے ساتھ یہ مسئلے حل ہوتے جائیں گے۔ اور دستیاب وسائل میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔interview2
س۔ ڈراپ آؤٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسکے حل کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟
ج: ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لئے محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے وقتاً فوقتاً انرولمنٹ مہم بھی چلائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے مدد مل رہی ہے۔ البتہ حائل رکاوٹیں بہت ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جو گیپ ہیں انکو پر کرنے کے لئے بہت سے ذرائع استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شعور کی کمی ہے اگر تعلیمی آگاہی لوگوں میں آجائے تو بہت سے مسائل حل ہوں گے۔ کمیونٹی بہت سے معاملات کو اون نہیں کرتی اگر وہ آگے آجائیں تو یقیناًبہت سی مثبت تبدیلیاں ہوں گی۔دوسری جانب اساتذہ کی معیار بھی وہ نہیں کہ وہ بچوں کو اچھی تعلیم دلاسکیں جس سے کمیونٹی اداروں سے بیزاری کا مظاہرہ کرتی ہے۔
س: دیگر ادارے جو ایجوکیشن کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں انکے ساتھ محکمہ ایجوکیشن کے روابط کس حد تک ہیں؟
ج: ہم ورلڈ بنک، یونیسیف اور ان تمام اداروں کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تعلیم کی بہتری خواہاں ہیں۔ اس مقصد کیلئے جو ہمار ی مدد کرنا چاہے خوش آمدید کہتے ہیں۔
س: جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اس وقت تک باشعور معاشرے کا خواب ممکن نہیں ۔ بلوچستان میں خواتین کے لئے بہت کم تعلیمی مواقع ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟
ج:آپ کی بات درست ہے۔ لیکن موجودہ سیٹ اپ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے تحت نئے گرلز سکول بنائے جارہے ہیں، موجودہ سکولز کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے اور سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس سے یقیناًگرلز ایجوکیشن کی حا لت بہت بہتر ہو جائیگی۔
س: جس طرح آپ نے چند اہم اقدامات کی بات کی جس پر موجودہ سیٹ اپ میں کام چل رہا ہے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ جو ہدف محکمہ ایجوکیشن نے بنالئے ہیں وہ آگے چل کر حاصل ہوں گے اور ان پر اسی طرح سے کام کیا جا ئے گا؟
ج: دیکھیں پالیسیز تو بن چکی ہیں اصل مقصد ان پر عملدرآمد کرانا۔ موجودہ سیٹ اپ میں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کیا جا رہا ہے اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناًبہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔