|

وقتِ اشاعت :   February 15 – 2016

بلوچستان میں مردم شماری آخری بار مارچ 1998ء میں ہوئے تھے مگر اُس وقت پشتونخواہ میپ نے مردم شماری کے خلاف احتجاج کیا تھا‘ مگر آج حالات شاید اُن کے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت ہیں ‘ اِس لیے پشتونخواہ میپ نئی مردم شماری کی کھل کر حمایت کررہی ہے‘ پشتونخواہ میپ کے رکن اسمبلی سے جب میں نے تمام صورتحال کو سامنے رکھ کر سوال کیا تو ’’جناب‘‘ نے کہا کہ حالات بالکل بہتر ہیں‘ افغان مہاجرین کوکارڈ جاری کردیے گئے ہیں‘ اس طرح کی کوئی صورتحال نہیں جس سے یہ کہاجائے کہ بلوچستان میں مردم شماری نہیں ہوسکتی‘ دوسری جانب حکومت میں شامل نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ جب تک افغان مہاجرین موجود ہیں تب تک ہم مردم شماری کی حمایت نہیں کرینگے اور اسی طرح مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اسمبلی کے بلوچ رکن نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان مہاجرین کی موجودگی کے باعث میں ذاتی طور پر مردم شماری کے حق میں نہیں ہوں ۔ گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایک بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مکران سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے حالات کی وجہ سے نقل مکانی کی ہے جب تک اُن کی آباد کاری عمل نہیں لائی جاتی تب تک ہم مردم شماری کی حمایت نہیں کرینگے‘ یہ بات الگ ہے کہ بڑے پیمانے پر کوہلو‘کاہان‘ ڈیرہ بگٹی سے مری اور بگٹی قبائل کے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کی ہے جس کی بڑی وجہ وہاں کے شورش زدہ حالات تھے یا ہیں؟ اُن کی آباد کاری کے حوالے سے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے مرحوم نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کی رہائش گاہ پر چند ماہ قبل مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ میری اولین ترجیح یہ ہے کہ جلد ازجلد بگٹی مہاجرین کو واپس ڈیرہ بگٹی میں آباد کرنا ہے‘ مگر اس پر تاحال اب تک عملدرآمد نہیں ہوا‘ بلوچستان میں اس وقت حالات کی بہتری کا جو راگ الاپا جارہا ہے شاید وہ زمینی حقائق کے برعکس ہیں‘ بلوچستان میں افغان مہاجرین اِس وقت کیمپوں سے باہربلوچستان کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جس کی واضح مثال کوئٹہ ہے جہاں بڑی بڑی بستیوں میں افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں بلکہ جائیداد اور شناختی کارڈ بھی بنا چکے ہیں‘ ماسوائے نیشنل پارٹی کے دیگر بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ 2013ء کے الیکشن کے دوران افغان مہاجرین نے بڑی تعداد میں ووٹ بھی کاسٹ کیے اور اُن کی سرپرستی آج ایک پشتون قوم پرست جماعت کررہی ہے‘ نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ میپ کے درمیان ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے موقف الگ الگ ہیں ‘ کیا یہ دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے؟ البتہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ دونوں جماعتیں مردم شماری کے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف بڑی حد تک جاسکتے ہیں یا اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھنے کی نوبت آئے گی کیونکہ اب تک دونوں جماعتیں فرینڈلی انداز میں چل رہے ہیں اور دونوں جماعتوں نے بڑی قربت کے ساتھ اڑھائی سالہ دور حکومت گزارا اور اُس محبت و قربت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ ہاں دونوں جماعتوں کے درمیان بیان بازی کی حد تک جنگ جاری رہے گی ‘ 2013ء کے الیکشن کے بعد برسرِ اقتدار آنے والی دونوں جماعتیں ماضی کے دعوؤں کے برعکس دکھائی دیے‘ دونوں قوم پرست جماعتوں نے ماضی کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے بلوچستان کے شورش زدہ حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اپنے دور کے حالات کو بہتر قرار دے رہے ہیں‘ یہاں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا ذکر کیا کرنا کہ جب تک وزیراعلیٰ ہاؤس میں تھے تو انہیں مکران سے نقل مکانی والے ’’بزگ ولاچار‘‘نظر نہیں آئے‘ اب سیاسی بیان کے ذریعے آنے والے وقت میں اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔مجھے آج بھی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے تند و تیز جملے یاد ہیں جب کسی زمانے میں میرا تعلق ایک بلوچی نیوز چینل سے تھا ‘ یہاں صرف ایک جملے کا ذکر کرونگا’’اسلام آباد میں دس لاکھ افراد بھی جائیں وہ اندھے اور بہرے ہیں‘‘ یہ تاریخی جملہ تھا‘ مگر جب اُن کی پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو انہیں اپنے ممبران کی تعداد ہی کافی لگی‘ بہرحال ہمارے یہاں نظریاتی سیاست کرنے والے افراد نے ہمیشہ بڑی تکلیفیں برداشت کیں جو لفاظی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کرتے دکھائی دیے اور یہاں تک کہ اقتدار کی کرسی کو بھی ٹھکرایا‘ بات ہورہی تھی مردم شماری کے معاملے پر جہاں حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان تضادات نظر آتے ہیں‘ بلوچستان میں مردم شماری کے حوالے سے شاید ہمارے مطابق حالات سمیت مہاجرین کی موجودگی میں کسی بھی طور پر سود مند ثابت نہیں ہوسکتا‘شام جیسے ممالک میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے بعد یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے شام،عراق اور افغانستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو خوش آمدید کہا مگر بات وہاں بگڑگئی جب فرانس دھماکے سمیت جرمنی میں جنسی حملے جیسے حالات رونما ہوئے جس کے باعث انہی ممالک نے مہاجرین کیلئے سخت قوانین بنائے اور اُن کی نقل وحرکت پر کڑی نگرانی کے احکامات جاری ہوئے‘ مگر ہمارے یہاں سب کچھ چلتا ہے کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں‘ یواین ایچ سی آر اپنی ذمہ داریاں تو نبھارہی ہے مگر مہاجرین قوانین کی پاسداری نہ کرتے ہوئے قانون شگن ہورہے ہیں‘ اب بھی بلوچستان میں یہ خدشہ موجود ہے کہ مہاجرین کی آڑمیں شدت پسند سمیت اُن کے سہولت کار موجود ہیں جب تک اِس معاملیسمیت ڈیرہ بگٹی،کوہلو،کاہان، مکران و دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی آباد کاری اور سیاسی ماحول کو سازگار نہیں بنایا جائے گا تب تک بلوچستان مردم شماری کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کے دعویدار اس کی مکمل پاسداری کریں اور خطے کی بدلتی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے بہتر فیصلہ کریں جس کی امید شاید ہمیں کم ہی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں جمہوریت کی تاریخ اتنی شاندار نہیں رہی جس کی تعریف وتوصیف کی جائے‘میرے نقطہ نظر کے مطابق بلوچستان میں مردم شماری کسی سیاسی بحران کوتو جنم نہیں دے سکتا کیونکہ اقتدار میں موجود حکومت واپوزیشن کے درمیان فرینڈلی رشتہ موجود ہے جو دنیا کے جمہوری ممالک کے برعکس ہے کیونکہ وہاں ریاستی قوانین کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں اسے بالکل نظرانداز کیاجاتا ہے۔