|

وقتِ اشاعت :   February 16 – 2016

کوئٹہ: چینی ترکستان سے ایران روانہ ہونے والی کارگو ٹرین پیر کی صبح تہران پہنچ گئی۔ تہران کے ریلوے اسٹیشن پرایرانی ریلوے کے صدر اور نائب وزیر ٹرانسپورٹ نے ٹرین کا والہانہ استقبال کیا۔ یہ کارگو ٹرین جو 34کنٹینرز پر مشتمل ہے 14دن میں قازقستان اور ترکمانستان سے ہوتی ہوئی ایران پہنچ گئی۔ ٹرین نے 10ہزار میل کا سفر 14دن میں طے کیا۔ جو منصوبہ کے مطابق مکمل ہوگیا۔ یہ حکومت چین کی کوشش تھی کہ تاریخی سلک روٹ کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے اور اس کی سلک روٹ کے ذریعے مشرقی وسطیٰ، ایشیاء اور یورپ کے ساتھ زمینی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ چین اس کوشش میں آج کامیاب ہوگیا اور چینی کارگو ٹرین سلامتی کے ساتھ تہران پہنچ گیا۔ 2013میں چینی صدر نے سلک روٹ کی بحالی کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ کامیاب ہوگیا۔ اگر یہ سفر سمندر کے راستے ہوتا تو اس کو 30دن لگ جاتے۔ چین دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ زمینی روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ چین تقریباً 100ارب ڈالر بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، توسیع اور بحالی پر خرچ کرے گا۔ اس میں 40ارب ڈالر صرف خطے پر خرچ ہوگئے اس کامیابی کے بعد کہ چینی سلک روٹ ٹرین تہران پہنچ گیا۔ اب چین کی دلچسپی چاہ بہار کی بندرگاہ میں بڑھ جائے گی جہاں پر گوادر سے کہیں زیادہ بہترین سہولیات ہیں۔ خود ایران بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور خصوصاً ایران کے اندر ایران چھ ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ اس کے علاوہ چین اور ایران ایران ۔ تاجکستان۔ افغانستان کے راستے سنکیانگ کو ملانے کے لیے ریلوے لائن تعمیر کرینگے۔ ایران اور افغانستان میں ریلوے کی تعمیر کے اخراجات ایران برداشت کرے گا جبکہ تاجکستان اور سنکیانگ کے درمیان ریگستان میں چین سرمایہ کاری کرے گا۔ چینی کارگو ٹرین جس کو سلک روٹ ٹرین کا نام دیا گیا ہے ایران کے نائب وزیر ریلوے محسن سید آقائی نے استقبال کیا۔ آقائی ایرانی ریلوے کے صدر بھی ہیں۔ اب سنکیانگ کے راستے چین دنیا بھر سے زمینی راستوں سے تجارت کرسکتا ہے۔