|

وقتِ اشاعت :   February 29 – 2016

بغداد: دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے بغداد کے مضافات پر ایک بہت بڑا حملہ کیا ہے جو دولت اسلامیہ کا بغداد پر سب سے بڑا حملہ ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 18فوجی اور ملیشیا کے جوان ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک الگ خودکش حلہ میں جو فلاجہ میں ہوا اس میں 14عراقی پولیس کے سپاہی ہلاک اور 24دوسرے زخمی ہوگئے ہیں۔

baghdad

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے خوراک کے ایک گودام، پانی کے ذخیرہ اور متعدد فوجی پوسٹوں پر قبضہ کرلیاہے۔ بڑی تعداد میں عراقی پولیس کے اہلکاروں اور قبائلی عمائدین کو بھی اغواء کرلیا گیا ہے تاہم بغداد کے آپریشن کے مرکز نے ان اغواء کی وارداتوں کی تردید کی ہے۔ ابو غریب شہر جہاں پر بدنام زمانہ ابو غریب جیل واقع ہے اور وہ بغداد کا حصہ ہے جس پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا ہے گزشتہ ایک سال سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ بغداد کے قریب اور اس کے مضافات تک پہنچ جائیں۔

baghdad 3

عراقی افواج اور دولت اسلامیہ کے ساتھ شدید جنگ جاری ہے۔ ایک فوجی مرکز کے قریب شدت سے لڑائی جاری ہے بغداد سے 50کلومیٹر دور فلوجہ میں 14عراقی سپاہیوں کو ایک کاربم حملے میں ہلاک کردیا گیا۔ اس زبردست حملہ کے بعد عراقی افواج پسپائی اختیار کی اور انبار شہر کے قریب مورچے قائم کرلئے۔ گزشتہ دسمبر میں عراقی افواج نے رمادی شہر پر قبضہ کرلیا تھا مگر اس کے مضافات میں جنگ جاری ہے۔