|

وقتِ اشاعت :   March 3 – 2016

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کی فعالی سے گوادر کی مقامی آبادی کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشات اور اس حوالے سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی جائے گی، جس کے ذریعے گوادر کی مقامی آبادی کے حقوق اور وسائل پر ان کے حق حاکمیت کو تحفظ دیا جائیگا۔ قانون سازی کے لیے دبئی ، سنگاپور اور ہانگ کانگ ماڈل کے طرز کو بھی سامنے رکھا جائیگا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ اور گوادر سیف سٹی پروجیکٹس اور کوئٹہ میں ریڈ زون کی سیکورٹی کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔ صوبائی مشیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و اطلاعات سردار رضا محمد بڑیچ، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ، میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری(ترقیات) ، چیئرمین وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم، سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، سیکریٹری خزانہ، کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی میئر کوئٹہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر بابر اور ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد شیر دل کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کے وسائل پر پہلا حق گوادر کے مقامی لوگوں کا ، دوسرا حق بلوچستان کے لوگوں کا اور تیسرا حق پاکستان کے عوام کا ہے، حکومت گوادر کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی ،وزیراعظم نے بھی اس ضمن میں قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے اور جلد یہ بل اسمبلی میں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کا وژن نہایت واضح ہے ،وہ چاہتے ہیں کہ گوادر کی سو فیصد آمدنی گوادر اور بلوچستان کو ملے ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کے لوگوں کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مجوزہ قانون سازی میں ایسی شقیں شامل ہونگی، جن کے ذریعے باہر سے آنیوالوں کا نام ناتو ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکے گا اور نہ ہی ان کے قومی شناختی کارڈ میں گوادر کو ان کے مستقل پتہ کے طور پر لکھا جا سکے گا۔ قانون سازی کا مقصد مقامی لوگوں کے حقوق کا سو فیصد تحفظ ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادرکے لوگ محب وطن ، پرامن اور ترقی کے خواہش مند ہیں۔ گوادر اور بلوچستان کی ترقی کو اب کوئی نہیں روک سکتا، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کوسٹل ہائی وے کو موٹر وے میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے گوادر پورٹ کی افادیت میں اضافہ ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اب وہ نرم ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، لہذا کوئٹہ اور گوادر کو محفوظ بنانے کے منصوبوں میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل حاضر ہیں اور وفاقی حکومت سے بھی مزید وسائل کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی،انہوں نے کہاکہ خودکش دھماکوں کو مکمل طور پر روکنا تو ممکن نہیں تاہم مو بائل سکینر اور جدید آلات کے ذریعے اس قسم کی دہشت گردی کی روک تھام کی جا سکتی ہے، لہذا انہوں نے ہدایت کی کہ کوئٹہ اور گوادرسیف سٹی کے منصوبوں میں موبائل سکینرز اور دیگر جدید آلات بھی شامل کئے جائیں ۔اس موقع پر چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے بتایا کہ گوادر میں آبادی کے تناسب سے آباد گھرانوں کو گوادر کی آمدنی سے براہ راست حصہ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے تحت ابتدائی طور پر صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں کو اس منصوبے کا حصہ بنادیا جائیگا۔ کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردی اور عمومی جرائم پر قابو پانے اور ان میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے، کوئٹہ کو محفوظ شہر بنانے کے لیے جامع ماسٹر پلاننگ کی گئی ہے اور ایک ارب 80کروڑ روپے کے کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ میں کوئٹہ کے مختلف مقامات پرنائٹ ویژن لیزر ٹیکنالوجی سے لیس 1440ایچ ڈی کیمرے نصب کئے جارہے ہیں، جو وائرلس کے ذریعے کنٹرول کئے جائیں گے اور یہ کیمرے بلٹ پروف کیسنگ میں نصب ہونگے، اجلاس کو بتایا گیا کہ نیسپاک کے ذریعے کروائے گئے سروے میں کیمروں کی تنصیب کے لیے 261مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ میں ڈرون کیمرے بھی شامل ہیں جن سے جلسوں اور جلوسوں کی نگرانی کی جائے گی، علاوہ ازیں کوئٹہ کے 6داخلی راستوں پر سکینرز اور خصوصی کیمرے نصب کئے جائینگے جو شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹ ریڈ (Read)کر کے انہیں محفوظ کریں گے۔ شہر میں کیمروں کے لیے 270کلومیٹر انڈر گراؤنڈ کیبل بھی بچھائی جائے گی ۔ کیمروں کے ذریعے نگرانی کے لیے جدید ترین کنٹرول روم قائم کیا جائیگا اور پولیس کا 15سینٹر بھی کنٹرول روم کا حصہ ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کئے جا سکیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں داخلے کے غیر روایتی راستوں کے ذریعے آمد و رفت کی بھی کڑی نگرانی کے لیے ان راستوں پر پولیس چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جی آئی ایس نظام کی مدد سے سیٹلائیٹ کے ذریعے کوئٹہ شہر کا مکمل نقشہ تیار کیا گیا ہے اور شہر کی مکمل نگرانی کے لیے اسے مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے، ریڈ زون (Red Zone)میں سیکورٹی کے نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سول سیکریٹریٹ ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور گورنر ہاؤس میں بھی جدید سکینرز ، ملازمین کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک سسٹم اور مہمانوں کی شناخت کے لیے بھی جدید نظام نصب کیا جا رہا ہے، گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 3ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی فیز ون میں گوادر پورٹ ، فش ہاربر اور شہر کے دیگر مقامات پر 450کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ جبکہ گوادر شہر کی لیزر فینسنگ بھی کی جائے گی، جس سے کسی بھی غیر متعلقہ یا مشکوک شخص کی شہر میں آمد پر پتہ لگایا جا سکے گا۔ آئی جی پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت پولیس کی 800 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں جنہیں جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں گی اور نئے دفاتر تعمیر کئے جائیں گے۔ اس نئی پولیس فورس کی کمانڈ ایس ایس پی سیکورٹی کریں گے ، اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے فیز ۔II پر 7ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے، اس طرح 10ارب روپے سے زائد لاگت کے گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے نصف فنڈ وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ نصف اخراجات صوبائی حکومت برداشت کریگی۔

sana and afghanدریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ خطے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ پاکستان اور افغانستان کے وسیع تر مفاد میں ہے، دونوں ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں لہذا ہمیں ملکر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے وہاں امن ہوگا تو بلوچستان اور پاکستان بھر میں امن ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے افغان قونصل جنرل وحید اللہ مومند سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کے روز یہاں ان سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران خطے میں امن کی صورتحال ، افغان مہاجرین کی واپسی اور ان کی رجسٹریشن سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات سے مکمل طور پر اتفاق کیا گیا کہ مذہب اور کسی بھی نام سے دہشت گردی کرنے والے دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے اور کئی گھرانے تباہ ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کر رہی ہیں اس جنگ میں ملک کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہیں، انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں دہشت گردی کی کوئی کاروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان اور بالخصوص بلوچستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں، جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا پاکستان بھی بدامنی کا شکار رہے گا۔ افغان قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دنیا اور خطے کے امن کے لیے قربانیاں دے رہاہے، اس موقع پر افغان مہاجرین کی واپسی اور ان کی رجسٹریشن کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغان پناہ گزین باعزت طور پر اپنے وطن واپس جائیں،انہوں نے کہاکہ ان کی واپسی کے امور کو حتمی شکل دینے تک ان کی رجسٹریشن ہونی چاہیے ، افغان قونصل جنرل نے کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کے مشکور ہیں جو گذشتہ 30سالوں سے افغان پناہ گزینوں کی مہمان داری کر رہا ہے، انہوں نے افغان صدر اور حکومت کی جانب سے نواب ثناء اللہ خان زہری کو وزیر اعلی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری اور گوادرپورٹ کی فعالی خطے اور خاص طور سے افغانستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی کوششوں سے خطے میں سیکورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کی وجہ سے تاپی گیس پائپ لائن اور بجلی کے منصوبوں پر عملدرآمد ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے چمن سرحد کے ذریعے بلوچستان سے تجارت میں اضافے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر دونوں طرف کے تاجروں کے لیے سہولتوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ انہوں نے بلوچستان کی جیلوں میں قید افغان باشندوں تک سفارتی رسائی دینے کی درخواست کی۔ جس پر وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ محکمہ داخلہ کو اس حوالے سے جائزہ لینے کی ہدایت کی جائے گی۔بعدازاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے افغان قونصل جنرل کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ افغان قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ کو افغانی قالین کا تحفہ پیش کیا۔