|

وقتِ اشاعت :   March 3 – 2016

کوئٹہ+تربت+کوہلو: ایف سی کی کوہلو میں کارروائی کے دوران 7افراد ہلاک 4زخمی ہو گئے، جبکہ دو زخمیوں کو گرفتار کر لیاگیا ، کوئٹہ میں مری کیمپ کے بارودی مواد برآمد کر لیاگیا، جبکہ ڈیرہ بگٹی میں مختلف مقامات سے بم برآمد کر کے انہیں ناکارہ بنا دیاگیا، تفصیلات کے مطابق کوہلو کے علاقے میں ایف سی اور کالعدم تنظیم کے افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں4افراد ہلاک جبکہ 2زخمی ہوگئے۔ ایف سی ترجمان کے مطابق بدھ کو کوہلو کے نواحی علاقے میں فرنٹیر کور بلوچستان نے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن شروع کیا تو ملزمان نے فائرنگ شروع کردی جوابی کاروائی میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے 4کارکن ہلاک جبکہ 2زخمی ہوگئے۔ ترجمان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایف سی نے کالعدم تنظیم کے 5ٹھکانوں کو بھی مسمار کردیا شرپسندوں کے قبضے سے 3آئی ڈیز ،2ہینڈ گرینڈ،2رائفل ،ایس ایم جی ، مواصلاتی نظام ،حساس دستاویزات اور سینکڑوں راؤنڈ قبضے میں لے لئے۔ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شرپسند صوبے کے مختلف علاقوں میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے،علاوہ ازیں تربت میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن میں تین افرادکو ہلاک اور دو کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ترجمان ایف سی کے مطابق تربت کی تحصیل دشت میں میرانی ڈیم کے قریب ایف سی اور حساس ادارے نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران افراد اور ایف سی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے تین دہشتگرد ہلاک کو ہلاک کردیا گیا جن میں کالعدم تنطیم کا اہم کمانڈر ماما بگٹی بھی شامل ہیں۔ ہلاک افراد کے قبضے سے تین کلاشنکوف، تین راکٹ لانچر، ایک راکٹ گولہ ، چار دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ترجمان ایف سی کے مطابق ہلاک دہشتگرد گزشتہ روز شادی کور ڈیم کے دو مزدوروں کے اغواء اور قتل کے واقعہ میں ملوث تھے۔ ذرائع کے مطابق دو دہشتگردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تاہم ترجمان نے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ دریں اثناء ہلاک افراد کی لاشیں سول اسپتال تربت پہنچائی گئیں جہاں ان کی شناخت ثناء اللہ ولد سعید احمد، شوکت ولد کلمیر ،عبداللہ مری عرف پٹھان مری ولد یار محمد مری کے ناموں سے ہوئی ہے،دریں اثناء کوئٹہ ، قلعہ عبداللہ اور ڈیرہ بگٹی میں سی آئی اے پولیس اور ایف سی نے دہشتگردی کے بڑے منصوبے ناکام بنادیئے۔ چارسوکلو گرام سے زائد دھماکا خیز مواد اور سات دیسی ساختہ بم برآمد کرلیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق سی آئی اے پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں مری کیمپ کے قریب خالی مکان پر چھاپہ مارا ۔ اس دوران مکان سے زیر زمین چھپایا گیا 240کلو گرام دھماکا خیز مواداور بم بنانے والے آلات برآمد کرلئے گئے۔ ان میں تین عدد ریموٹ کنٹرول، چار عدد ٹائمر اور پرائما کارڈ شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق برآمد شدہ دھماکا خیز مواد اور آلات کوئٹہ اور قریبی علاقوں میں دہشتگردی کی وارداتوں میں استعمال کیا جانا تھا تاہم سی آئی اے پولیس کی بروقت کارروائی سے شہر بڑی تباہی سے بچ گیا۔ دوسری جانب قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں بھی اسی طرح کی ایک کارروائی کی گئی جہاں ایف سی نے خفیہ اطلاع پر ایک خالی مکان میں کھڑی بارود سے بھری گاڑی برآمد کرلی۔ ترجمان ایف سی کے مطابق گاڑی میں ایک سو چالیس کلو گرام سے زائد دھماکا خیز مواد رکھا گیا۔ بارود سے بھری یہ گاڑی دہشتگردی کی غرض سے کوئٹہ منتقل کی جانی تھی ۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے علاقے سناری مٹ میں ایف سی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چھتیس کلو گرام وزنی تین دیسی ساختہ بم بمعہ چھ ڈیٹونیٹر اور تین ریموٹ کنٹرول برآمد کرلئے۔ ایک اور کارروائی آر ڈی238میں کی گئی جہاں سڑک کنارے نصب چار دیسی ساختہ بم ، بارودی سرنگیں، اٹینا، فیوز اور وائر برآمد کئے گئے ۔ ترجمان ایف سی کے مطابق دیسی ساختہ بم سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کیلئے نصب کئے گئے تھے۔