|

وقتِ اشاعت :   March 3 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچ ثقافت ڈے کی مناسبت سے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی سبزہ زار پر پارٹی کی بلوچ خواتین کی جانب سے بلوچ ثقافت کے حوالے سے لگائے گئے مختلف اسٹالز کے دورے کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہر قوم کی پہچان اس کی ثقافت ، مثبت روایات سے ہوتی ہے بلوچستان کی پہچان بلوچ ثقافت ہے اس لئے ہم آج کے دن کو بھرپور انداز میں منا رہے ہیں پارٹی کی جانب سے بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے حالانکہ بلوچستان میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جو آج بھی ماتم زدہ ہیں ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ بھی ہیں لیکن جو قومیں اپنی ثقافت ، زبان اور مثبت روایات کو اہمیت نہ دیں مستقبل میں بہت سے مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں دنیا میں ایسی قومیں رہی ہیں جنہوں نے اپنی زبان ، تہذیب ، ثقافت اور مثبت روایات کو اولیت نہیں دی آج ان کے نام و نشان مٹ چکے ہیں ہماری پارٹی کی کوشش رہی ہے کہ ہم بلوچستان میں بلوچی ، براہوی اور دیگر جتنی ثقافتیں اور زبانیں ہیں اس کی ترقی و ترجیح کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور بلوچستان میں جتنی بھی قومیں ہیں ان کی اپنی زبانیں اور پہچان ہے بلوچی مہر ومحبت کی زبان ہے حالانکہ آج بلوچستان میں بلوچوں کو جینے کاحق نہیں دیا جا رہا ہے اس کے باوجود ہم اپنی قومی ، اجتماعی مفادات ، زبان ،ثقافت جو ہزاروں سالوں پر محیط ہے اسی ثقافت کو تقویت دینے اور بلوچی ، براہوی ، کھیترانی زبان جو ہماری بڑی زبانیں ہیں اس کے فروغ کیلئے ہمیں جہد کو تیز کرنا پڑے گا اس موقع پر پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے میٹروپولیٹن کے سبزہ زار پر حمید ریڈ بلوچ کی سربراہی میں نوشکی سے آنے والی گروپ کی بلوچی چھاپ بھی دیکھی دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں کلچر ڈے کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک ولی کاکڑ مہمان خاص تھے جبکہ پروگرام کی صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت آغا حسن بلوچ کر رہے تھے اس موقع پر پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی ، ایچ ڈی پی کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین رضا وکیل ہزارہ ، مرکزی خواتین سیکرٹری زینت شاہوانی ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٖ بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبران غلام نبی مری ، ساجد ترین ایڈووکیٹ ، خورشید جمالدینی ، شکیلہ نوید دہوار ، ثانیہ حسن کشانی ، فوزیہ مری ،شمائلہ اسماعیل ، میڈم منورہ سلطانہ ، جمیلہ بلوچ ، جمال لانگو، کوئٹہ کے صدر اختر حسین لانگو ضلعی سینئر نائب صدر یونس بلوچ ، میر غلام رسول مینگل ، سردار رحمت اللہ قیصرانی ، کامریڈ حمید بلوچ ، اسد سفیر شاہوانی نے خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض آغا خالد شاہ نے سر انجام دیئے جبکہ ظفر مینگل،جعفر مینگل نے بلوچ ترانہ پیش کیا اس موقع پرملک محی الدین لہڑی ، علی احمد قمبرانی ، احمد نواز بلوچ ، حاجی فاروق شاہوانی ، حاجی ابراہیم پرکانی ، شاہ جہان لہڑی ، چنگیز گچکی ، حاجی باسط لہڑی، مجیب لہڑی ، نصیر قمبرانی ، سعید کرد ایڈووکیٹ ، سنگت جمالدینی ایڈووکیٹ ، امیر جان جمالدینی ، جمعہ خان نیچاری و دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ ثقافت کے دن کے حوالے سے پارٹی نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جو پروگرامز منعقد کرائے اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ بی این پی بلوچ زبانوں کی ترقی و تروجیج ،ثقافت ، مثبت روایات کے حوالے سے عملی جدوجہد کر رہی ہے ہماری جدوجہد ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب بلوچوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلوچ ایک تہذیب یافتہ اور مہذب قوم کی حیثیت سے بلوچستان میں عملی جدوجہد کے ذریعے بلوچوں کے تمام طبقہ فکر کی نمائندگی کو ترجیح دے رہے ہیں ہماری جدوجہد ہے کہ ہم اپنی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ کو زندہ رکھیں بلوچ ثقافت اپنی بہادری ، مہمان نوازی اور چادر وچاردیواری کا احترام ، خواتین کا اعلی مقام ہے ایسے مثبت روایات کی وجہ سے آج دنیا بھر میں بلوچ ثقافت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آج ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی ثقافت کا پرچار کریں بلوچ کلچر میں بلوچ لباس کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے مقررین نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم جس طرح آج ثقافت کی پرچار کر رہے ہیں اسی طرح بلوچی ، براہوی ، کھیترانی زبان کی ترقی و ترویج کیلئے اقدامات کریں اور تحریر و تقریر اپنے زبانوں میں کریں معاشرے میں جب اپنی زبان کو اہمیت دی جائے گی اور اس کی ترقی یقینی ہو گی