|

وقتِ اشاعت :   March 3 – 2016

کوئٹہ: بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست اور اس کی فورسز کی جانب سے بلوچ نسل کشی جاری ہے فورسز کی کارروائیاں میں اغواء نماگرفتاریاں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی معمول بن چکی ہیں ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بدھ کو تربت کے علاقے دشت سے بلوچ فرزندان کی گولیوں سے چھلنی تین لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جن میں سے دو کی شناخت پٹھان مری اور بی آر پی کے کارکن ثناء اللہ بلوچ ولد سعید بلوچ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ تیسرے کی شناخت نہیں ہوسکی نوجوان بی آر پی کے کارکن ثناء اللہ بلوچ کو ریاستی فورسز نے گزشتہ سال 22 ستمبر کو گوادر سے اغواء کیا تھا جبکہ پٹھان مری کو رواں سال 27 فروری کو ریاستی فورسز نے اغواء کرنے کے بعد لاپتہ کردیا تھا بدھ کو تینوں بلوچ فرزندوں کو تربت کے علاقے دشت میں فورسز کی کارروائی کے دوران شہید کرکے ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پھینک دی گئیں بلوچ ری پبلکن پارٹی شہید ثناء اللہ بلوچ کو کم عمری میں شہادت نوش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان کی قربانی کو سرخ سلام پیش کرتی ہے ریاست کی جانب سے بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنان کا اغواء، حراستی تشدد اور جعلی کارروائی کے دوران شہادت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی بلوچ نسل کشی پر خاموشی ان کے مہذب معاشروں اور انسانیت دوستی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے شیرمحمد بگٹی نے کہاکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بلوچستان میں جاری ظلم و جبراور جنگی جرائم کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بلوچ نسل کشی کو روکنے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔