|

وقتِ اشاعت :   March 6 – 2016

روزنامہ آزادی کے 26 فروری والے شمارے میں صفحہ اول پر دو خبریں شائع ہوئی ہیں جن میں سے ایک کی سرخی یہ ہے’’ بلوچستان کے متعدد اضلاح قحط سالی کی لپیٹ میں باغات خشک ،بیماریاں عام ،دوسری خبر کی سرخی یہ ہے ’’خضدار، خاران ،بارکھان، کوھلو اور دیگر علاقوں میں تیل و گیس تلاش کرنے کا کام مکمل ، ڈریلنگ جلد کی جائیگی۔
قارئین؛ اِن دونوں خبروں کو پڑھ کر بی این پی کے اختر مینگل اور جمہوری وطن پارٹی کے شازین بگٹی حق بجانب ٹھہریں گے؟ جب وہ کہتے ہیں کہ حکمران کو بلوچوں سے نہیں بلوچستان سے پیار ہے عطاشاد نے کہا تھا،
جب زمیں ہی سیل بلا کی زد میں ہو
تو پھر ثمر کی نہیں ، شجر کی سوچتے ہیں
یہ دونوں خبریں پڑھ کر چھوٹا سا دل رکھنے والا آدمی بھی حکمرانوں سے دست بستہ رحم کی اپیل کرنے سے نہیں ہچکچائے گا بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرنے والے حکمران بلوچستان کو1952 سے وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا گیس رائیلٹی (جس کا نواب بگٹی نے 1988ء مطالبہ کیا تھا کسی دوسرے وزیر اعلیٰ میں یہ جرات ہی پیدا نہیں ہو سکی) نہ دیں، سیندک سے سالانہ کتناٹن سونا اور دیگر معدنیات نکال کر چین لے جایاجاتا ہے؟ اِس میں پنجاب کا حصّہ کتنا ہے؟ اِنکی فیصد یا مالیات کا حساب بھی بلوچ عوام کو فراہم نہ کیاجائے، چند کروڑ ڈالرز کے عوض ریکوڈک کو ٹھیتیان کمپنی سے واپس لیکر چین کے حوالے کرنے کا ریکارڑ بھی منظرعام پر نہ لاؤ، سی پیک کے سلسلے میں وفاق نے بلوچستان کے حصّے کے کتنے فنڈ اور اسکیمات اپنے نام کرائیں؟ بلوچ یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اِن منصوبوں کی تفصیلات ان کے وزیراعلیٰ صاحبان کو بتائی جائیں۔بلوچ یہ مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ بلوچستان کے Air space سالانہ وفاق کتنے لاکھ ڈالر کماتا ہے بلوچ یہ بھی مطالبہ نہیں کرتا کہ وفاق بلوچستان کے ساحل کے بحری راستوں سے سالانہ کتنا بٹورتاہے؟ ۔ بلوچ یہ بھی مطالبہ نہیں کرتا کہ بحری فوج اور کوسٹ گارڑ کی ملی بھگت سے بلوچستان کے ساحلوں سے جو غیر ملکی ٹرالرز فشنگ کرتے ہیں وہ سالانہ کتنے ٹن بنتے ہیں اور اُنکی اِس ملی بھگت سے بلوچستان کے اپنے ماہیگیر نان شبینہ کے محتاج ہیں ۔بلوچ یہ بھی مطالبہ نہیں کرتا کہ حب چوکی کے مقام پر چین کی جانب سے قائم فوجی کیمپ اور وہاں کو پراور گولڈ کی کانوں سے کتنے معدنیات نکال کر چین اور پنجاب کی معیشت کو استحکام اور بنیادیں فراہم کی گئیں ۔بلوچ یہ طلب بھی نہیں رکھتا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے دور حکومت میں پنجاب کو بجلی سپلائی کر نے کے لئے گڈانی میں کول پاور پلانٹ لگایا گیا اب جب حکومت ختم ہونے کے بعد وہی پارٹی خود اِس کو علاقے کے لئے زہر قرار دے رہی ہے۔ لیکن بلوچ اِس زہر کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی تمام قیادت بکاؤ مال ہے۔
بلوچ یہ مانگ بھی نہیں رکھتا کہ گوادر کی ترقی کے نام پر پنجاب اور افغانستان سے مہاجرین کو لاکر بلوچ کی ڈیموگرافی کو تبدیل نہ کیا جائے بلوچ کی یہ خواہش بھی نہیں ہے کہ اُس کی ایک آنکھ براہوئی زبان بولنے والوں کو ایک سازش کے تحت بلوچ قوم سے علیحدہ کر کے الگ شناخت دی جائے تا کہ بلوچ کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے ۔ بلوچ یہ مقصد بھی نہیں رکھتا کہ سنی شیعہ اور نمازی ذگری منافرت کو نہ پھیلا کر اُس کے حصّوں میں انتشارنہ پھیلایا جائے۔ بلوچ یہ مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ مچھ، ہرنائی ،کھوسٹ کولپور اور دیگر علاقوں میں کوئلے کی کانوں کی ٹھیکے اور لیز آرم فورسز اورغیر بلوچ ٹھیکیداروں کو نہ دی جائیں ۔ بلوچ کی مانگ یہ بھی نہیں کہ وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر عمل درآمد کرواکر بلوچوں کو ملازمتیں دئیے جائیں بلوچ یہ مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ جنوبی پشتونحوا کے نعرہ لگانے والوں کی پشت پناہی نہ کی جائے۔ بلوچ یہ مطالبہ بھی نہیں کرتا بلوچستان پیکیج کے نام پر جو شوشہ چھوڑا گیا اُسے آغاز حقوق بلوچستان کے نام پر اضافی کوٹہ تصورنہ کیا جائے بلکہ وفاق کے ذمے واجب الادا بلوچستان کی ملازمتوں کا کوٹہ تصور کرتا ہے جو وفاق نے رحم کھا کر اس کی جھولی میں ڈالا ہے اور قبر میں نواب بگٹی کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی کہ ان کے 1988ء کے مطالبے پر عمل کیاجارہا ہے ۔ بلوچ میرانی ڈیم کے سیلاب زدگان اور آواران زلزلہ زدگان کے وفاق کی طرف سے اعلان کر دہ معاوضوں کا بھی مطالبہ نہیں کرتا لیکن : لیکن کیا یہ جائز ہے کہ ایک طرف گوادر میں لوگوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں چاغی، سوراب، ڈھاڈر،قلات، مستونگ، ماشکیل ،مشکے،آواران میں بے آبی اور قحط سے باغات خشک ہو رہے ہیں، بیماریاں پھیل رہی ہوں اور دوسری طرف تیل ، گیس اور سونے کی تلاش جاری ہو مانا کہ بلوچ قیادت اپنی جیب کی فکر اور سر کے خوف کی وجہ سے بے بس ہے لیکن بلوچ میں ایک ضرب المثل ہے کہ اگر ایک ناں نہیں کہہ سکتا، تو دوسرے کو خدا کا خوف ہونا چاہیے۔ اس خدا کا جو تمام مسلمانوں کا واحد خدا ہے۔