|

وقتِ اشاعت :   March 13 – 2016

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے ایم کیو ایم کی قیادت پر منی لانڈرنگ ، بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ سے فنڈز لینے اور اسلحہ کی خریداری سمیت دیگر سنگین الزامات کی انکوائری کو تیز کرتے ہوئے برطانیہ میں سرفراز مرچنٹ اور سابق سٹی ناظم مصطفی کمال سے رابطے کرکے تعاون کی اپیل کر دی، ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد انعام غنی نے برطانیہ میں موجود پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ سے رابطہ کر کے انہیں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کا کہا ہے جبکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات نے مصطفی کمال کو بیان ریکارڈ کرانے اور شواہد پیش کرنے کا کہا ،سرفراز مرچنٹ نے ایف آئی اے کو انکوائری میں مکمل تعاون کی یقین کرا تے ہوئے کہا کہ اپنے وکلا سے مشاورت کے بعد پاکستان آکر بیان ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کروں گا ۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ہفتہ کو ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد انعام غنی نے ایم کیو ایم کی قیادت پر عائد کئے گئے سنگین الزامات کی انکوائری میں برطانیہ میں موجود پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ سے رابطہ کیا ہے اور ٹیلیفون پر ان سے تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی دعوت دی اور کہا کہ وہ اپنا بیان ایف آئی اے کو ریکارڈ کروائیں اور جو بھی شواہد ان کے پاس موجود ہیں وہ انکوائری کمیٹی کو فراہم کریں تا کہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ،سرفراز مرچنٹ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو انکوائری میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی مشیروں سے مشورے کے بعد پاکستان آنے سے متعلق فیصلہ کریں گے تاہم سرفراز مرچنٹ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تمام شواہد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اگر سرفراز مرچنٹ کسی وجہ سے پاکستان نہ آ سکے تو ایف آئی اے کی ٹیم برطانیہ جا کر ان کا بیان ریکارڈ کرے گی۔ دوسری طرف سابق سٹی ناظم کراچی مصطفی کمال سے ڈائریکٹر ایف آئی سندھ شاہد حیات نے رابطہ کیا ہے اور انہیں ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف عائد الزامات پر بیان ریکارڈ کرانے اور شواہد پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مصطفی کمال جلد شاہد حیات سے ملاقات کر کے ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیں گے ، اگر ان کے پاس کوئی شواہد موجود ہوئے تو ایف آئی اے شواہد کی فراہمی کا مطالبہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے ایف آئی اے کی انکوائری کمیٹی کو 2ہفتوں میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،انکوائری کمیٹی کے پاس جو بھی شواہد آئیں گے ان کی چھان بین کیلئے مزید2 ہفتے ایف آئی اے کو دیئے جائیں گے، ٹھوس شواہد کی صورت میں برطانیہ میں موجود ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت کو شامل تفتیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا جائے گا