|

وقتِ اشاعت :   April 25 – 2016

پی بی 50 کے حالیہ ضمنی الیکشن اس حلقے میں 2013سے لیکر اب تک ہونے والی تیسری انتخابات تھے جس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اکبر آسکانی کو 3477ووٹ لینے پر الیکشن کمیشن نے کامیاب قرار دیا ۔ جبکہ اسکے سخت حریف نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر کہدہ اکرم دشتی کو 2260ووٹ ملے۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد 8تھی۔ اسی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 58699تھی۔ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 69 تھی جبکہ دسمبر 2015کو ہونے والی پہلی ضمنی الیکشن میں امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے کے حلقوں پر عدم اعتماد اور شکایت پرصوبائی الیکشن کمیشن نے حلقے کی پانچ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی حلقے کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر 2013کو منعقد کئے جانے والے عام انتخابات میں اکبر آسکانی نے اکرم دشتی کے 1331ووٹوں کے مقابلے میں 45ووٹوں کی برتری سے 1385ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی۔ جسکے بعد اکرم دشتی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر الیکشن ٹریبونل کوئٹہ نے نادرا رپورٹ ملنے کے بعد اس وقت کے صوبائی مشیر برائے فشریز اکبر آسکانی کو نااہل قراردیکر اسی حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا تھا۔ انتخابی نتائج کے فوری اعلان کے بعد سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے رہنماء ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اکرم دشتی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آر او، پریزائیڈنگ آفیسر سمیت تمام ریاستی اداروں نے مل کر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت انتخابی نتائج تبدیل کیئے اور ہماری جیت کو ہار میں بدل دیا۔حالانکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ الیکشن میں ٹرن آؤٹ کا تناسب کتنا تھا اور الیکشن آفس میں کتنے ووٹ لائے گئے انکا کہنا تھا یہ منظم منصوبہ بندی تھی جس کے تحت عوام کی رائے پر شب خون مارنا تھا اس عمل میں ریاستی ادارے شریک تھے کیونکہ عوام نے2013کے الیکشن سے لے کر دونوں ضمنی انتخابات میں اپنا فیصلہ نیشنل پارٹی کے حق میں دیا تھا‘ ہم نے تاریخ کا سب سے کھٹن اور مشکل ترین الیکشن لڑاایک جانب سارے بندوق بردار تھے اور دوسری طرف جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والے لوگ تھے دھماکوں اور فائرنگ کے باوجود کارکنوں کا کھڑا رہنے جمہوریت کی فتح ہے 2013کے جنرل الیکشن سے لے کر ضمنی الیکشن تک ہم نے دھاندلی الیکشن ٹریبونل اور سپریم کورٹ میں ثابت کردی مگر محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے بیشتر ادارے سیاسی لوگوں کو پسند نہیں کرتے ۔ پی بی 50کے ری پولنگ میں نتیجہ کو منظم منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کرنے کا عمل خود ریاست کے لیئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ جبکہ نومنتخب ایم پی اے حاجی میر اکبر آسکانی نے کہاہے کہ پچھلے چند سالوں میں یہ تیسری دفعہ الیکشن ہوئے ہیں اورہربارہم ہی کامیاب اور سرخرو ہوئے مگر حسب سابق اس باربھی سابقہ تنخواہ پر کام کرنے والی شکست خوردہ فاشسٹ پارٹی الزام تراشی پر اترآئی ہے ‘بلوچستان کی سب سے بڑی عوامی جماعت کے دعویداروں کو حالیہ ری پولنگ میں صرف اور صرف 12فیصدووٹ نصیب ہوئے جو عوام کے اندر ان کی گرتی ہوئی ساکھ کامنہ بولتا ثبوت ہے پولنگ اسٹیشنوں پر مذکورہ پارٹی کے5‘5رکنی پارٹی ورکرکمیٹی اورہرپولنگ اسٹیشن پر 2‘2پولنگ ایجنٹ اور ایک ایک اسپیشل ڈیوٹی مجسٹریٹ موجودتھے جو ان کے امیدوار کے زرخرید رشتہ دار اور ڈی سی کیچ کے تعینات کردہ تھے ‘ ڈی سی کیچ نے اپنے اختیارات کاناجائز استعمال کرتے ہوئے محکمہ تعلیم وصحت کے افسران ‘اساتذہ وڈاکٹروں کو ڈیوٹی مجسٹریٹ لگایا جوسراسر الیکشن رولز اور قواعد وضوابط کی مکمل خلاف ورزی ہے ‘پولنگ کے عمل کوروکنے کیلئے بھرپور مداخلت کی گئی جسے عوامی قوت سے ناکام بنایاگیا۔ الیکشن کے بعد ایک جماعت کا دوسری جماعت پر دھاندلی کا الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں لیکن سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد حلقوں میں بے شمار سوالات نے جنم لیا ہے کہ 2013کے الیکشن کتنے فیصد صاف شفاف تھے جس کے بل بوتے پر موجودہ حکومت قائم ہے اور خود انکی جماعت نیشنل پارٹی موجودہ حکومت کی اتحادی بھی ہے جبکہ خود انہوں نے اس بات کا بارہا اظہار کیا تھا کہ انہیں عوامی مینڈیٹ ملا ہے۔ بلوچستان جہاں بیشتر علاقوں میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کرائے ہی نہیں گئے جبکہ لوگ خوف کے ماحول میں اس مہم میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ اگر عوام الیکشن میں اپنی حق رائے دہی استعمال ہی نہ کر سکے تو وہاں کس طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2013کاالیکشن عوامی امنگوں کے مطابق ہوا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ الیکشن کے لئے حالات سازگار کئے جاتے جو نہ کئے جا سکے۔ 2013کے عام انتخابات میں اسی حلقے میں ووٹنگ کی شرح 6.27رہی تھی۔ یعنی رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 93.73افراد اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کر سکے۔ اسی طرح گزشتہ الیکشن میں کم ووٹ بلوچستان کے ضلع آواران میں پڑے تھے۔ جہاں ووٹنگ کی شرح 1.18رہا جو کہ ایک ریکارڑ ہے۔ الیکشن ایک عمل ہے جس میں عوام کو اسکی حق رائے دہی کی کھلی چوٹ دی جاتی ہے۔ اگر عوام اپنی رائے کا اظہار کرنے سے خوف کا شکار ہوں یا کہ وہ انتخابات سے عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوں تو اسکا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ وہ اس سسٹم سے خوش نہیں ہیں ۔ دوسری جانب علیحدگی پسند جماعتوں کی جانب سے انتخابی عمل کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے انکی جانب سے اس عمل کا نہ صرف بائیکاٹ کیا جاتا ہے بلکہ اس الیکشن میں حصہ لینے والوں کو نشانہ بنایا بھی جاتا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کو انکی جانب سے سخت مذاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس مرتبہ بھی اس حلقے میں 12فیصد ووٹ کا کاسٹ ہونا اس انتخابی عمل سے 88فیصد افراد کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔موجودہ حکومت کا اہم رکن اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کی طرف سے یہ الزام لگانا کہ نتائج تبدیل کرنے میں ریاستی ادارے ملوث ہیں اور وہ سیاسی لوگوں کو پسند نہیں کرتے تو یقیناًان سیاسی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو کہ انتخابات کے عمل پر یقین رکھتے ہوئے اس میں حصہ لیتے ہیں۔