|

وقتِ اشاعت :   July 2 – 2016

چینی کمپنی نے گوادر کے پہلے مرحلے کی تعمیر تقریباً دس سال قبل مکمل کر لی تھی چینی کمپنی نے بہت تیزی سے کام کیا اور وقت مقررہ سے چھ ماہ قبل ہی تعمیراتی کام مکمل کر لیا تھا ساتھ یہ بھی توقع تھی کہ گوادر پورٹ کو فعال بنانے کا کام بھی چینی کمپنی کے حوالے کیا جائے گا مگر سابق صدر پرویزمشرف نے یہ ٹھیکہ سنگا پور پورٹ اتھارٹی کو دے دیا جس نے طویل عرصے تک ایک روپے کی سرمایہ کاری بھی گوادر پورٹ میں سہولیات کی بہتری کے لئے نہیں کی یعنی خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ چلے گئے اور گوادر پورٹ کی تعمیر اور ترقی کے کئی سال ضائع کردئیے گئے ۔حکومت کی تبدیلی کے بعد گوادر پورٹ کی تعمیر و ترقی کے علاوہ اس کو فعال بنانے کا کام چینی کمپنی کو سونپ دیا گیا ہے اخباری اطلاعات کے مطابق چین سے تین بحری جہاز تعمیراتی سامان لے کر عنقریب گوادر پہنچیں گے ۔ چین گوادر پورٹ کے دوسرے مرحلے کی تعمیر سے روز اول سے دلچسپی رکھتا ہے مگر وفاقی حکومت نے اس بارے کوئی توجہ نہیں دی نہ ہی اس کے دوسرے مرحلے کی تعمیر کو اولیت دی مگر چین گوادر میں ایک بین الاقوامی ائیر پورٹ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پر لاگت کا اندازہ پچیس کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، چین کی حکومت کی جانب سے یہ ایک گرانٹ یا امداد ہوگی ۔ دیگر امور کے لئے وفاقی بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں جن کو حسب ضرورت استعمال میں لایاجائے گا۔ گوادر میں بین الاقوامی ائر پورٹ کے علاوہ چین 300میگا واٹ کا ایک بجلی گھر بھی تعمیر کررہا ہے اس کے لئے چین سے مشینری آرہی ہے اور اس پر جلد کام شروع ہوگا۔ اندازہ ہے کہ ان دونوں منصوبوں کو دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ حکومت نے پہلے ہی ایک بہت بڑی قطعہ زمین گوادر کے بین الاقوامی ائیر پورٹ کی تعمیر کے لئے علیحدہ رکھی ہے لہذا گوادر پورٹ اور اس کو مکمل طورپر فعال بنانے کے لئے آئندہ دو سال اہم ہوں گے ۔چونکہ گوادر پورٹ کا واحد ذریعہ تجارت ساحلی شاہراہ ہوگی گوادر کو ملک کے ریلوے نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے منصوبہ سازوں نے ابھی تک کچھ سوچا نہیں یا ان کو اس میں کوئی دل چسپی نہیں ہے کہ گوادر پورٹ کو کس مقام پر ریلوے لائن کے ساتھ ملا دیا جائے ۔ INDIGENOUS WISDOM یا روایاتی شعور کا تقاضہ ہے کہ گوادر کو نوکنڈی کے قریب قومی ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ ملا دیا جائے چونکہ کوئٹہ ‘ زاہدان ریلوے پہلے ہی بین الاقوامی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہے ۔ اگر ہم یہ نیٹ ورک پہلے بنا دیتے ہیں تو چاہ بہار کی ابھرتی ہوئی بندر گاہ ریل کا یہی نظام اختیار کرے گی اور ایران کے اندر اس سے متوازی کوئی ریلوے لائن تعمیر نہیں ہوگی ۔ مگر چونکہ گوادر پورٹ ریموٹ کنٹرول منصوبہ سازوں کے ہاتھوں میں ہے اس لئے وہ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے کہ نوکنڈی کتنا بڑا اہم ترین صنعتی شہر اور معدنیات سے مالا مال ابھرنے والا علاقہ ہے جہاں پر اربوں نہیں کھربوں ڈالر کی تجارت اور پیدا وار ہوگی اور سارے لوگ ششدر رہ جائیں گے پھر ایران ہمارا شکر گزار رہے گا کیونکہ ان کے چاہ بہار پورٹ کو ہم راہداری فراہم کریں گے۔ باقی رہی موجودہ صورت حال، فی الحال گوادر پورٹ کے لئے صرف ساحلی شاہراہ کافی ہے اس کو مغربی روٹ کی قطعاً ضرورت نہیں اگر ضرورت ہوئی تو وہ پچاس سال بعد ‘ فی الحال ساحلی شاہراہ کو اوتھل سے توسیع دے کر اس کو سپر ہائی وے سے دریجی کے قریب ملا دیا جائے گا، یہ پچاس کلو میٹر کا راستہ ہے جس سے مشرقی روٹ فوراً فعال ہوگی، مغربی روٹ دور کی کوڑی ہے اس پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ گوادر مغربی ایشیاء میں ہے البتہ گوادر‘ چاہ بہار راہداری کی گزر گاہ وسطی ایشیائی ممالک کی تجارتی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے ۔