|

وقتِ اشاعت :   September 18 – 2016

مہمند ایجنسی میں طالبان کے ایک گروہ نے مسجد کے اندر نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ کیا جس میں 28افراد جاں بحق اور 31افراد زخمی ہوئے۔ طالبان کے ایک گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ یہ خودکش حملہ انہوں نے کیا ہے ۔ جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ امن لشکر کے لوگ اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کررہے تھے اس لئے مسجد پر نماز کے دوران حملہ کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جوملک میں شرعی نظام رائج کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ پاکستان کو تباہ کرنے اوروہاں پر اسلامی امارت قائم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں حالانکہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا جہنمی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کو خانہ کعبہ سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔ اور یہ حکم ہے کہ کسی ایک فرد کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور کسی کی جان بچانا افضل ترین عبادت ہے ۔ اس سے چند دن قبل شکار پور کے ایک گاؤں خان پور میں پولیس اہلکار نے امام بار گاہ پر خودکش حملہ ناکام بنا دیا تھا اور ایک خودکش حملہ آور کو ہلاک اور دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ۔ ابھی تحقیقات جاری ہیں زیر حراست خودکش بمبار سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اہم ترین انکشافات کی توقع ہے کہ اس جرم میں کون لوگ شریک ہیں ابھی تک ان کے گروپ سے متعلق اعلان نہیں کیا گیا ۔ بظاہر یہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف خودکش حملوں کا سلسلہ ہے جو کچھ وقفوں کے بعد ہوتے رہتے ہیں یا پھربم دھماکوں میں ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ ریاست نے ان معاملات کو تلاش کرنے اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کی ہے ۔ چونکہ یہ وہی دہشت گردوں کا گروپ ہے جس نے کوئٹہ میں وکلاء کا قتل عام کیا اور اب مہمند ایجنسی میں مسجد کے اندر نمازیوں پر خودکش حملہ کیا۔ اسی طرح کی کارروائیاں افغان خانہ جنگی کے دوران شروع ہوئیں خصوصاً روسی افواج کے افغانستان پر قبضے کے بعد ’ اس تمام منصوبہ بندی میں روس مخالف ممالک شریک تھے اوران میں پاکستان کو ایک فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت دی گئی تھی ۔ یہ ہمارے سیکورٹی حکام کے علم میں یقیناًہے کہ کون کون لوگ اور گروپ افغانستان کے اندر اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث تھے جب یہ نام نہاد مجاہدین یا طالباران ناراض ہوئے ( نہیں معلوم کس وجہ سے ) انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ افغانستان سے پاکستان کی طرف کردیا بعض تجزیہ نگار اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تمام مجاہدین یا طالبان کرائے کے لوگ تھے مطلوبہ رقم نہ ملنے پر انہوں نے پاکستان کو نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ تاہم اس رائے کی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی البتہ یہ بات ضرور ہے کہ بلوچوں کے بزرگ ترین سیاستدان مرحوم غوث بخش بزنجو کو جب جنرل ضیاء الحق اور اس کے رفقاء نے مشورے کے لئے طلب کیا تھا تو ان کی رائے یہی تھی کہ ان افغانوں کی سرپرستی کسی طرح نہ کریں ،روس کے ساتھ معاملات کو سیاسی طورپر مذاکرات سے حل کریں روس پاکستان کی سلامتی کا احترام کرے گا مگر یہ کرائے کے فوجی جن کو آپ اسلحہ اور پیسہ دے رہے ہیں وہ وقت آنے پر اپنی بندوقوں کا رخ اسلا آباد کی طرف کریں گے آج وہی طالبان پاکستان ‘ پاکستان کے عوام اور اس کے مسلح افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں انہوں نے دہشت گردی کے دوران ساٹھ ہزار پاکستانیوں کو شہید کیا اور پانچ ہزار سے زیادہ سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ اس لئے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے تمام افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے اور بعدمیں ان کے تمام حمایتیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ افغانوں کی وطن واپسی پر پاکستان کے سیکورٹی کی صورت حال پر بہت بڑا فرق پڑے گا اور لوگ زیادہ اطمینان محسوس کریں گے اس لئے حکومت سب سے پہلے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرے اور ان کو واپس بھیجنے کا عمل جلد سے جلد شروع کیاجائے تاکہ اس تیزی کے ساتھ ملک میں امن کی بحالی کے کام میں بھی تیزی آئے ۔