| شاہنواز بلو چ

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2016

کراچی: لیاری نادراسینٹر میں آفیسر کی شہنشاہت نے عوام کوسخت ذہنی کوفت میں مبتلاکردیا ہے، نادراآفیسر عوام کے ساتھ غیرانسانی رویہ اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی عزت نفس کو مجروع کرتا ہے خواتین اور بزرگوں کے احترا م کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔عوام کی بڑی تعداد دستاویزات بنانے کی غرض سے سورج طلوع ہونے سے قبل ہی ٹوکن کے حصول کیلئے قطار لگاکر کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ عملہ 9 بجے ڈیوٹی پر آتی ہے، روزانہ کی بنیاد پر 200 کے قریب ٹوکن جاری کیے جاتے ہیں جبکہ ٹوکن لینے والوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہوتی ہے،ٹوکن کاؤنٹر بھی صرف دو ہیں ایک خواتین جبکہ دوسرا مرد حضرات کیلئے ہے، ٹوکن کی سرکاری فیس 200 جبکہ اسمارٹ کارڈ بنانے کی 1500 روپے مقرر ہے۔صبح 9 بجے جب ٹوکن کاؤنٹر کھلتا ہے تو اس سے قبل ہی بعض ٹوکن پہلے ہی سے فروخت کیے جاچکے ہوتے ہیں جو نادراآفس کے اندر موجود عملہ کے لوگوں کی ملی بھگت اور کرپشن کو ظاہر کرتی ہے جو غیر قانونی طریقے سے نہ صرف ہزاروں روپے روزانہ بٹورتے ہیں بلکہ غیرملکی باشندوں کے سرکاری دستاویزات بھی بناتے ہیں، نادرا آفس میں دستاویزات بنانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے سے قبل ہی آکر ٹوکن کاؤنٹر میں قطار لگاکر کھڑے ہوجاتے ہیں مگر سینٹر 9 بجے کھلنے کے بعد اندر عملہ کے علاوہ دیگر افراد داخل ہونا شروع ہوجاتے ہیں، نادرا سینٹر کے قریب کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ چند مخصوص افراد باہر کھڑے ہوکر ٹوکن فروخت کرتے ہیں،فی ٹوکن کی قیمت پانچ سو روپے سے لیکر پانچ ہزار روپے تک ہے جو مافیازاپنے مخصوص گاہکوں کوفروخت کرتے ہیں ، غیرملکی باشندوں کو فی ٹوکن دس ہزار روپے فروخت کیاجاتا ہے جبکہ اضافی نذرانہ الگ لیاجاتا ہے۔ تمام حقائق سے آگا ہ ہونے کے باوجود نادراآفیسر مستقیم میمن ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں کے ساتھ انتہائی ناروا رسلوک اختیار کرتا ہے ،پنشن ودیگر مسائل میں مبتلا خواتین جب اپنی دادرسی کیلئے مستقیم میمن سے بات کرتی ہیں تو ان کے شناختی کارڈ کو ایکسپائر کردیتا ہے ،حبیبہ نامی خاتون نے جب نادراآفیسر مستقیم میمن سے اپنے مسائل پر بات کی اور عملے کے ناروا رویہ کی شکایت کی توفوراََ اس کے شناختی کارڈ کو سراغ لگاکر ایکسپائر کردیا مستقیم میمن کے اس عمل سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اس تمام گھناؤنے عمل میں نادراآفیسر مستقیم میمن ملوث ہے ۔ ان دنوں لیاری میں نادرا سینٹربڑھانے کی تحریک زور وشورسے جاری ہے اور مستقیم میمن کو لیاری کے نادرا سینٹر سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیاجارہا ہے۔ لیاری کے نوجوان جن کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہے جو اس مہم کو چلا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ نادراسینٹر میں لوگ شناختی کارڈ ودیگر دستاویزات کی غرض سے آتے ہیں مگر انہیں قانونی پیچیدگیوں میں مبتلا کیاجاتا ہے اور مختلف حیلے بہانے بناکر ان کے شناختی کارڈ اورضروری دستاویزات نہیں بنائے جاتے صرف اُن لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو رشوت دیکر ٹوکن وصول کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقیم میمن کے حوالے سے ہم نے حکام بالا سے بھی اپیل کی ہے مگر اس کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیاجارہاجبکہ دیگر سینٹر کے قیام کے حوالے سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاجارہا ہے۔مستقیم میمن کتنے بااثر شخصیت کہ حیرت ہوتی ہے ایک سینئر جرنلسٹ اللہ بخش راٹھور نے جب اپنے دستاویزات کے حوالے سے بات کی تو مستقیم میمن نے اللہ بخش راٹھور سے کہاکہ آپ کتنے بڑے صحافی کیوں نہ ہوں میں اپنی مرضی کے مطابق کام کرونگا اور لیاری کے جاہل عوام کو قانون سکھانے کے عمل کو جاری رکھونگا۔مستقیم میمن کی ان باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی پشت پر بعض بااثر شخصیات ہیں جو اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ہمارے صحافی حلقوں میں جب خاتون رپورٹرimg-20161108-wa0011 کے تھپڑرسید کرنے کا معاملہ سامنے آیا تو خاتون رپورٹرکو صحافتی اصول وپاسداری طریقے کار سکھانے کیلئے اپنے قلم کو استعمال کیاگیا اور سیکیورٹی اہلکار کے تھپڑ رسید کرنے کو ری ایکشن کا نام دیا گیا ، حیرت کی بات ہے کہ ہاتھاپائی کو کس طرح کا اخلاقی جواز مل سکتا ہے جو کسی بھی فریق کی طرف سے ہو ،بہرحال لیاری کے ساتھ یہ روش آج کی نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جاری ہے جنہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیاجارہاہے لیاری میں موجود تمام سرکاری اداروں کی حالت یہی ہے ، لیاری کے عوام کا ہر سطح پر استحصال کیاجارہا ہے مگر یہاں کی سیاسی جماعتیں بھی عوامی مسائل پر دلچسپی نہیں لیتے لیاری کوکراچی شہر میں لاوارث کا درجہ دیا گیا ہے دوہرے معیار کی اس روش کا سلسلہ کب تھم جائے اور انہیں سکون میسر آئے مگر اس کے آثار نظر نہیں آرہے جبکہ لیاری سے مسلسل جیتنے والی جماعت یہاں کے باسیوں سے بیگانگی اختیارکرچکاہے جو ہروقت لیاری کو اپنا قلعہ کہنے کا دعویٰ کرتی ہے۔