|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2017

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء و سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اصلاحات کے لغوی معنی سے محروم حکومت اگر محکمہ صحت کو پرائیویٹائز کریں اور عوام کوعلاج کی مد میں پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج و معالجے کے کارڈ فراہم کریں گزشتہ روز نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ سول ہسپتال کوئٹہ میں دو روز تک زیر علاج نو سالہ بچے کو علاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے موت واقع ہوئی معاملے کی تحقیقات کیلئے چیف سیکرٹری بلوچستان اپنی نگرانی میں کمیٹی قائم کریں اور غفلت کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے‘یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ہسپتال میں جاں بحق ہونیوالے بچے کے لواحقین سے بات چیت کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایک حادثے کے بعد ایک نو سالہ بچے کو علاج و معالجے کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ کے نیوروسرجری ڈیپارٹمنٹ میں لایاگیا جہاں پر انتہائی نگہداشت میں ہونے کے باوجود نہ ہی بچے کو وینٹی لیٹر فراہم کی تھی اور نہ ہی آکسیجن فراہم کرنے والا سلنڈریہاں تک کہ مریض کے رشتہ داروں نے آکسیجن ہسپتال کے ڈاکٹروں کے کہنے پر پرائیویٹ طور پر بازار اپنی مدد آپ کے تحت لایاگیا تھا انہوں نے کہاکہ چونکہ مریض کی حالت انتہائی خراب تھی اور ان کو پیشاپ کیلئے کیتٹر بھی وارڈ بوائے کے ذریعے پاس کرایاگیا جو کہ غلط طریقے سے پاس کیاگیا تھا چونکہ مریض کی حالت انتہائی تشویشناک تھی ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کو وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا اور ان کی نگہداشت کی جاتی لیکن ان کو چیک کرنے کیلئے کوئی ڈاکٹر 24گھنٹے تک چیک کرنے نہیں آیا انہوں نے کہاکہ وہ اگر صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں کو احسن طریقے سے چلانے میں ناکام ہے تو سول ہسپتال کوئٹہ سے پرائیویٹائزیشن شروع کی جائے اور سب سے پہلے نیورو سرجری وارڈ اور شعبہ ناک وکان کے وارڈ کی زمین کا ٹینڈر کیا جائے نیچے تہہ خانے اور گراؤنڈ فلور کسی شخص کو دیا جائے اور اس کے بدلے میں اوپر یہی دو وارڈز بنوائے جائیں اس کی مینڈننس اور علاج معالجے اور ڈاکٹروں کی فراہمی کی ذمہ داری تہہ خانے اور گراؤنڈ فلور حاصل کرنیوالے شخص سے بدلے میں کرائی جائے ۔