|

وقتِ اشاعت :   January 1 – 2017

حکمرانوں کی زیادہ تر توجہ سیاست اور کسی حد تک منافع بخش منصوبوں پر ہے ۔ صوبے کی خشک سالی سے یہ لا علم معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر اس بات کاکسی نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا کہ پورا بلوچستان مکمل طورپر خشک سالی کی وجہ سے آفت زدہ ہوگیا ہے یہ الگ بات ہے کہ حکومت اس کو تسلیم نہیں کرتی اور ’’ کام چلاؤ‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے ۔حکمران طبقہ یہ تسلیم کرنے سے انکار ی معلوم ہوتا ہے کہ قدرت کی طرف سے پورے بلوچستان اور اس کے تمام خطوں پر قدرتی آفت نازل ہوچکی ہے ۔ یہ قدرتی آفت ٹھیک بیس سالوں بعدجب آئی تو اس وقت کی فوجی حکومت نے آفت زدہ بلوچستان کے لئے بین الاقوامی امداد لینے سے انکار کیا تھا بلکہ عوام کے اسرار کے باوجود بھی حکمرانوں نے آفت زدہ انسانوں کی امداد کیلئے بین الاقوامی امدادکی اپیل نہ کرکے عوام دشمنی کا ثبوت دیا تھا جس کی آج دن تک عوام الناس اس عوام دشمن عمل کی مذمت کرتی آرہی ہے ۔ اب صورت حال کچھ زیادہ ہی سنگین نظر آرہی ہے ۔ پورے خطے میں ‘ ا یران ‘افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں دور دور تک بارشوں کے آثار نہیں ۔ بلوچستان سمیت پورے خطے میں شدید قسم کی خشک سالی کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ بلوچستان کے دور دراز علاقے ژوب ‘ مری بگٹی قبائلی علاقے ‘ خاران ‘ رخشان ‘ مکران ‘ ساحلی علاقوں ‘ سبی کچھی کے میدانی علاقوں ‘ لسبیلہ‘ آواران ‘ لورالائی اور ان کے تمام علاقے شدید قسم کی خشک سالی کا شکار ہیں ۔کئی سالوں سے بارشیں نہیں ہوئی ہیں سب سے زیادہ نقصان مالداری کو ہورہاہے پانی کے ذخائر ختم ہونے کے بعد ان مالداروں نے اپنے اپنے علاقوں سے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ خدشہ ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اگر بارشیں نہ ہوئیں تو بڑے پیمانے پر بلوچستان بھر سے نقل مکانی شروع ہوجائے گی اور لوگ نہری علاقوں کا رخ کریں گے جیسا کہ بیس سال قبل ہوا تھا۔ اس تباہی اور خشک سالی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح 1200فٹ تھی اور اب بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سطح 1500فٹ پرچلی گئی ہے ۔ بارشیں نہ ہونے یا گزشتہ سالوں کم ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مزید گرتی جارہی ہے اگر ان حالات پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو کوئٹہ ایک وسیع ریگستان میں تبدیل ہوجائے گا اور پانی نہ ملنے کی صورت میں انتقال آبادی وسیع پیامنے پر ہو سکتی ہے ۔ گزشتہ ستر سالوں سے کوئٹہ اور مجموعی طورپر بلوچستان کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔جب افغانستان سے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن نے کوئٹہ کا رخ کیا تو جنرل ضیاء کی فوجی حکومت نے ایک اور ظلم کیا کہ ان افغانوں کو شہروں میں جگہ دی ، ان کو مہاجر کیمپوں میں نہیں رکھا اور نہ ہی ان کا کوئی ریکارڈ رکھا گیا کہ کتنے افغان مہاجرین آئے اور کہا ں رہائش اختیار کی البتہ خانہ پری کے لیے صرف پانچ فیصدافغان مہاجرین کا اندراج بابو حضرات نے اپنے اپنے رجسٹرڈ میں کیے ، بعد ازاں انہی مہاجرین نے شناختی کارڈ اور لوکل سرٹیفیکٹ بنا کر مکمل پاکستانی باشندے بن گئے ۔آبادی کی اس بوجھ کی وجہ سے مسائل زیادہ سنگین ہو گئے ۔ اس کے بجائے ایران نے روز اول سے افغان مہاجرین کو کیمپوں میں رکھا اور ان کو باہر نکلنے نہ دیا اس لیے آج تک ایران کے لئے افغان مہاجرین کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہیں ۔ وہ صرف اور صرف کیمپوں میں موجود ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال ہورہی ہے جبکہ ہمارے ہاں کچھ بھی درست نہیں ہوا۔ آبادی کے بڑے حصے کا کوئٹہ کی طرف رخ کرنے کی وجہ سے کوئٹہ میں آبنوشی ایک بڑامسئلہ بن گیا ہے ۔ حکومت اربوں روپے خرچ کرکے پٹ فیڈر سے پانی کوئٹہ پہنچانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پر اخراجات کتنے آتے ہیں اورلگتا یوں ہے کہ سالانہ اس کے اخراجات اتنے ہونگے کہ صرف ایک شہر کے لئے اس کو برداشت کیاجاسکے یعنی یہ بلوچستان کے بجٹ پر ایک زبردست بوجھ ہوگا۔ ہم پہلے ہی یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ بلوچستان کے دارالخلافہ کے لئے نئی اور مناسب جگہ تلاش کیا جائے ۔ اگر یہ گوادر کی بندر گاہ کے قریب ہوتو یہ زیادہ اچھی بات ہوگی ۔ چھوٹے سے شہر کے اتنے مسائل نہیں ہوں گے بلکہ ہم آج یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ تیس ارب روپے کوئٹہ کو پینے کی پانی کی فراہمی پرصرف کرنے کی بجائے اس رقم کو نئے دارالخلافہ کی تعمیر پرخرچ کریں ۔ دارالخلافہ کی تبدیلی کے بعد کوئٹہ پر آبادی کا دباؤ کم ہوگا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ خصوصاً سرکاری ملازمین اور ان کے خاندان نئے شہر میں جائیں گے اور کوئٹہ میں آبنوشی کا مسئلہ ختم نہیں تو کم ضرور ہوجائے گا اور اس کی شدت اتنی نہیں ہوگی جتنی آج ہے ۔