| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   January 2 – 2017

پاکستانی بلوچستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل ہے جبکہ ایرانی بلوچستان کا ساحل دو ہزار کلو میٹر ہے جو ساحل مکران کہلاتا ہے اور مجموعی طورپر یہ تین ہزارکلو میٹر طویل ہے ۔ ان دونوں ممالک میں اس ساحلی پٹی پر 99فیصد آبادی بلوچوں کی ہے ۔ بلکہ گلف آف اومان کے آدھے حصے پر بھی بلوچ ہی آباد ہیں ۔ 1980ء کی دہائی میں فوجی حکمرانوں نے گڈانی کے ساحل پر شپ بریکنگ یارڈ قائم کیا ، تھوڑی بہت جہاز سازی کراچی شپ یارڈ میں ہوتی رہی ۔ ہو نا تو یہ چائیے تھا کہ اتنے بڑے ساحلی علاقے میں بڑے پیمانے پر جہاز سازی کی صنعت قائم ہوتی لیکن کہاں ۔ کل ہی ایک خبر اخبارات کی زینت بنی کہ ایران اپنے علاقے میں ساحل پر جہاز سازی کی صنعت قائم کرے گی یہ خبر چین سے آئی، جس کے مطابق جنوبی کوریا کی ایک بڑی کمپنی کو یہ ٹھیکہ مل گیا کہ وہ ساحل ایران پر جہاز سازی کی صنعت قائم کرے۔ یہ صنعت ایران میں کہاں قائم بنے گی اس کی اطلاعات نہیں ہیں لیکن اس بات کی باضابطہ اور یقینی اطلاعات موجود ہیں کہ یورپی ممالک کے ایک کنسورشیم نے حکومت پاکستان کو یہ تجویز دی ہے کہ وہ گوادر بندر گاہ کے قریب ایک بہت بڑے جہاز سازی کی صنعت قائم کرنے میں دل چسپی رکھتا ہے اور اس کنسورشیم نے یہ تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں پڑے گا اور جو زمین اس منصوبے کے لئے یاسمندر کا جو حصہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں الاٹ کریں گی وہی حکومت پاکستان کی اکویٹی (حصہ) ہوگی۔ یہ تجویز یورپی یونین اور متعلقہ یورپی کنسورشیم نے باقاعدہ حکومت پاکستان کو دس سال قبل دی تھی جو ابھی تک پلاننگ کمیشن کے سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی یورپی کنسورشیم کو اس کا کوئی جواب دیا گیا ۔ظاہر یوں کیا جاتا ہے کہ منصوبہ زیر غور ہے یعنی گزشتہ دس سالوں سے زیر غور ہے اور مزید سالوں تک زیر غور رہے گی وجہ یہ ہے کہ اس منصوبے کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے اور اس کی وفاق میں نمائندگی صفر ہے اگر یہ منصوبہ پنجاب کے لئے ہوتاتو مہینوں اور ہفتوں میں اس پر کارروائی ہوتی۔ منصوبہ بندی کمیشن یا احسن اقبال بتائیں کہ بلوچستان سے متعلق یہ ناانصافی کیوں ہے؟ منصوبے کے مطابق یہ جہاز سازی کا کارخانہ پور ے خطے میں سب سے بڑا ہوگا اور اس کی جو جگہ تجویز کی گئی ہے وہ گوادر بندر گاہ کے قریب ہے جہاں پر جہازوں کی مرمت کے لئے مزید دس برتھ خصوصی طورپر بنائے جارہے ہیں دوسرے الفاظ میں گوادر اور پسنی کا سمندری علاقہ پورے خطے کے لئے جہاز سازی اور جہازوں کی مرمت کے لئے اہم ترین جگہ ہوگی ۔ آج کل جہازوں کو مرمت کے لئے مشرق بعید کے ممالک لے جانا پڑتا ہے ۔ پورے مغربی ایشیاء اور خطے میں گوادر واحد جگہ ہوگی جہاں پر نہ صرف جہازوں کی مرمت ہوگی بلکہ جہاز سازی کی صنعت قائم ہوگی جہاں پر ہزاروں کاری گر کام کریں گے جس سے پاکستان کو اربوں ڈالر کی بیرونی زرمبادلہ میں آمدنی ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پہلی فرصت میں وفاقی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ یورپی ممالک کے کنسورشیم کی تجویز کو قبول کریں تاکہ حکومت بلوچستان اس منصوبے کیلئے زمین اور ساحلی پٹی الاٹ کرے ۔ واضح رہے کہ ساحل سے لے کر 12میل سمندری علاقے تک صوبائی حکومت کا علاقہ ہے اس لئے تمام الاٹمنٹ حکومت بلوچستان کرے گی یا وفاق صوبائی حکومت کو اس بات کی اجازت دے کہ صوبہ ان سے مذاکرات کرے اور اس کی منظوری دے اور اس طرح سے وفاق کی جانب سے بلوچستان کے بارے میں عدم دلچسپی کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو بلکہ گوادر کی بندر گاہ سمیت پورٹ اور جہاز رانی کی پوری وزارت کو سندھ اور بلوچستان کے حوالے کیاجائے اور اس پر پنجاب کی بالادستی کوختم کیا جائے کیونکہ پنجاب کے پاس سمندر نہیں ہے لہذا ان معاملات میں پنجاب کی مداخلت کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا اور نہ ہی اس کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے ۔